صحافی اکرم علی محمد ابوایمل کا پاسپورٹ منسوخ – تلنگانہ ہائی کورٹ نے حکومت کے فیصلہ کو برقرار رکھا

تلنگانہ ہائی کورٹ نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی شخص سے ملک کی سلامتی اور سالمیت کو خطرہ لاحق ہونے کا اندیشہ ہو تو حکومت کو اس کا پاسپورٹ منسوخ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اسی بنیاد پر ایک صحافی کے پاسپورٹ کی منسوخی کو درست قرار دیا گیا۔بتایا گیا ہے کہ اکرم علی محمد جو 2005 سے مختلف اردو اخبارات میں صحافی کے طور پر کام کرچکے ہیں ان کا پاسپورٹ مرکزی حکومت نے منسوخ کر دیا تھا۔ بغیر نوٹس پاسپورٹ منسوخی کو انہوں نے عدالت میں چیلنج کیا تھا۔
جسٹس ناگیش بھیمپاکا نے سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ سنایا۔درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف پیش کیا کہ 10 سالہ مدت والا پاسپورٹ 2018 میں تجدید ہوا تھا تاہم 25 اکتوبر 2019 کو پاسپورٹ ایکٹ کی دفعات کے تحت یکطرفہ طور پر منسوخی کی اطلاع دی گئی نہ پیشگی نوٹس دیا گیا اور نہ وضاحت کا موقع فراہم کیا گیا جو قدرتی انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے
اس دلیل پر ریجنل پاسپورٹ افسر کے وکیل نے بتایا کہ ریاستی انٹیلیجنس کی خفیہ رپورٹ کی بنیاد پر پاسپورٹ منسوخ کیا گیا۔ رپورٹ میں اندیشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ درخواست گزار بیرونِ ملک ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہو سکتا ہے جو بھارت کی خودمختاری اور سالمیت کے لئے نقصان دہ ہوں۔
مزید کہا گیا کہ انٹیلیجنس اطلاعات کے مطابق ان کے بعض مشتبہ روابط بھی ہیں اور ماضی میں ان کے خلاف سنگین الزامات سامنے آئے تھے،
۔فریقین کے دلائل سننے کے بعد ہائی کورٹ نے کہا کہ پاسپورٹ کی بحالی کوئی بنیادی حق نہیں بلکہ قانونی ضوابط کے تحت ہی پاسپورٹ جاری یا منسوخ کیا جاتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ قومی سلامتی اور عوامی مفاد سے متعلق معاملات میں قدرتی انصاف کے اصولوں سے استثنی ممکن ہے، اور اسی بنیاد پر درخواست کو خارج کر دیا گیا۔



