تلنگانہ

اسکالرشپ کی رقم میں تاخیر پر ہائی کورٹ کی سخت نوٹس، ایس آئی او اور اسیم کی درخواست پر سماعت

 

حیدرآباد، 29 جنوری، : تلنگانہ ہائی کورٹ نے اقلیتی طلبہ کی پوسٹ میٹرک اسکالرشپ کی رقم میں غیر معمولی تاخیر پر ریاستی حکومت کی سخت سرزنش کی ہے۔ چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ اور جسٹس جی ایم محی الدین پر مشتمل بنچ نے ایک عوامی مفاد کی درخواست (PIL) پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ خزانہ (Finance Department) کے پاس بلوں کا رکا ہونا غریب طلبہ کو تعلیم کے حق سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔

 

درخواست گزاروں کے وکیل سید مونس عابدی نے عدالت کو بتایا کہ محکمہ اقلیتی بہبود نے تو اپنا جواب داخل کر دیا ہے، لیکن محکمہ خزانہ نے بار بار موقع دیے جانے کے باوجود اب تک کوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ فنڈز کی درخواست بھیجی جا چکی ہے مگر فائلیں محکمہ خزانہ میں دھول چاٹ رہی ہیں۔ عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہر سال کا معمول بن گیا ہے جس سے طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

 

عدالت نے کہا کہ فیس کی عدم ادائیگی پر کالجوں کا طلبہ کے سرٹیفکیٹس روکنا غلط ہے۔ اگر کسی طالب علم کا سرٹیفکیٹ 6 ماہ بھی روک لیا جائے تو وہ زندگی کا اہم موقع گنوا سکتا ہے، جس کا ازالہ ممکن نہیں۔ عدالت نے سوال کیا کہ جب حکومت نے فروری 2024 میں سرکلر جاری کر کے کالجوں کو سرٹیفکیٹ نہ روکنے کی ہدایت دی تھی، تو اس پر عمل کیوں نہیں ہو رہا؟ حکومت کی خلاف ورزی کرنے والے کالجوں کے خلاف کارروائی کا کیا نظام ہے؟

 

ججوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ جو طلبہ فیس نہیں بھر سکتے، انہیں اپنے سرٹیفکیٹ لینے کے لیے عدالتوں اور انسانی حقوق کمیشن کے چکر لگانے پڑ رہے ہیں، جس سے ان پر قانونی اخراجات کا مزید بوجھ پڑتا ہے۔ عدالت نے محکمہ خزانہ کو اپنا جواب داخل کرنے کے لیے دو ہفتوں کا وقت دیا ہے اور اگلی سماعت 3 مارچ 2026 کو مقرر کی ہے ساتھ ہی محکمہ اقلیتی بہبود کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایک مضبوط نظام (Grievance Redressal Mechanism) جیسے کہ ٹول فری نمبر یا ہیلپ ڈیسک قائم کرے، تاکہ طلبہ کو کالجوں کی من مانی کے خلاف عدالت نہ آنا پڑے۔

 

یہ درخواست (ASEEM) اور ‘ایس آئی او’ (SIO) تلنگانہ کی جانب سے دائر کی گئی تھی تاکہ اسکالرشپ کی رقم جلد جاری ہو اور مستقبل میں ایسی تاخیر کو روکنے کے لیے ایک مستقل حل تلاش کیا جا سکے۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button