ریٹائرڈ ملازمین کی رقم کی ادائیگی میں تاخیر پر تلنگانہ حکومت کو ہائی کورٹ کا الٹی میٹم – 9 اپریل تک ادا کرنے کے احکام

تلنگانہ ہائی کورٹ نے ریٹارئرڈ ملازمین کو واجب الادا رقم کی ادائیگی میں ہونے والی تاخیر سے متعلق دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران حکومت کی سخت سرزنش کی۔ عدالت نے پہلے ہی فینانس سکریٹری کو شخصی طور پر حاضر ہونے کا حکم دیا تھا۔ لیکن ان کی عدم موجودگی پر عدالت نے شدید ناراضگی ظاہر کی۔
سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس وقت اسمبلی کا اجلاس جاری ہے اور فینانس سکریٹری ان مصروفیات کی وجہ سے : حاضر نہیں ہو سکے اسی لئے انہیں شخصی حاضری سے استثنیٰ دیا جائے تا ہم ہائی کورٹ نے اس درخواست کو صاف طور پر مسترد کر دیا اور ریمارکس کئے کہ عدالت کے احکامات کی تعمیل نہ کرنا نا قابل قبول ہے۔ عدالت نے سوال کیا کہ ریٹائرڈ ملازمین کی واجب الا رقم کے معاملہ میں حکومت اتنی لا پرواہی کیسے برت سکتی ہے؟ عدالت کے سخت موقف کے بعد سندیپ کمار سلطانیہ آن لائن عدالت میں حاضر ہوئے اور اگر عدالت اجازت دیتی ہے تو حکومت اپنے ترجیحات کو پس پردہ ڈالتے ہوئے 31 مارچ تک ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی تمام واجب الا دار قم ادا کر دے گی
سرکاری وکیل سی آر کمار کے مطابق فینانس سکریٹری سلطانیہ نے عدالت سے کہا کہ 3656 موظف سرکاری ملازمین کی واجب الادا رقم ادا شدنی ہے۔ حکومت نے تاحال عدالت کے احکامات کے بعد 1056 موظف سرکاری ملازمین کی واجب الا دا رقم ادا کر دی ہے۔ 2600 ریٹائرڈ ا سٹاف کی رقم ہنوز ادا شدنی ہے۔ اس مرحلہ پر فینانس سکریٹری کو یہ رقم ادا کرنے کے لئے 30 دن دینے سے انکار کرتے ہوئے جسٹس این راجیشور راؤ نے کہا که تمام سبکدوش ملازمین کی واجب الاداء رقم ادا کرنے کے لئے عدالت تلنگانہ حکومت کو 9 اپریل تک کا وقت دیتی ہے بصورت دیگر دیگر فینا فینانس سکریٹری کو جب کبھی بھی اس معاملہ کی سماعت ہوگی حاضر عدالت ہونا پڑے گا۔
اس پر سندیپ کمار سلطانیہ نے رضا مندی ظاہر کی۔ جسٹس راؤ نے کہا کہ یہ رقم موظف ملازمین کی ہے۔ 9 اپریل سے پہلے تمام سبکدوش سرکاری ملازمین کو خوشخبری سناتے ہوئے وظیفہ کے فوائد جاری کئے جائیں۔



