نوجوان لڑکیوں اور ان کے ماں باپ کو حیدرآباد پولیس کمشنر کا مشورہ

حیدرآباد ۔ حیدرآباد میں شادی کے نام پر ہونے والے دھوکہ دہی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر کمشنر پولیس وی سی سجنار آئی پی ایس نے شہریوں کو خبردار کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نہ صرف محبت کے بہانے بلکہ والدین کی جانب سے طے شدہ شادیوں میں بھی کچھ دھوکہ باز خواتین کو مالی اور جذباتی نقصان پہنچا رہے ہیں۔
ابتداء میں روایتی انداز میں شادی کی ملاقاتیں اور منگنی کی تقریبات کروائی جاتی ہیں۔ اس کے بعد نوجوان کہتے ہیں کہ شادی طے پا گئی ہے اور “اب کیا ہوگا؟” جیسے جملوں کے ذریعے جذباتی دباؤ ڈالتے ہیں۔ بعد میں وہ اپنی اصل نیت ظاہر کرتے ہیں اور شادی کے لیے بھاری رقم کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اگر اضافی رقم نہ دی جائے تو شادی کو منسوخ کرنے کی دھمکی دیتے ہیں۔
چونکہ منگنی ہو چکی ہوتی ہے اور رشتہ داروں کو اطلاع دی جا چکی ہوتی ہے اس لیے زیادہ تر لڑکیاں اور ان کے والدین شکایت درج کروانے سے ہچکچاتے ہیں۔ دھوکہ باز اضافی رقم مانگتے ہیں اور دباؤ ڈال کر خوفزدہ کرتے ہیں۔ اگر لڑکیاں خاموش رہیں تو یہ ایک طویل اذیت کا سبب بن سکتا ہے۔ لہٰذا منگنی کے بعد بھی شادی کی رسمی تقریبات تک محتاط رہنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا "شادی سے پہلے تنہا ملاقات یا جسمانی تعلقات کے لیے دباؤ ڈالنے والے افراد پر یقین نہ کریں۔ رقم کی مانگ یا بلیک میلنگ کے خلاف بلا خوف شکایت درج کروائیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ حیدرآباد SH Teams تمام معلومات مکمل طور پر رازدارانہ رکھتی ہیں اور کسی بھی دھوکہ دہی یا دھمکی کے معاملے میں فوری رابطے کی ہدایت کی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ لڑکے کے رویہ دوستوں اور عادات و اطوار کا جائزہ لیں۔ شادی سے پہلے تنہا ملاقات یا جسمانی تعلقات کے لیے دباؤ ڈالنا مشتبہ سمجھیں اور جرأت کے ساتھ انکار کریں۔ رقم کی مانگ یا بلیک میلنگ کے سامنے خوفزدہ نہ ہوں اور فوری طور پر شکایت درج کروائیں۔
شہری واٹس ایپ نمبر 9490616555 یا ڈائل 100 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔کمشنر نے زور دیا کہ شادی کی رسمی تقریبات تک محتاط رہنا ضروری ہے تاکہ نوجوان لڑکیاں خود کو محفوظ رکھ سکیں اور دھوکہ بازوں کے چالاک حربوں سے بچ سکیں۔



