والدین کو نظر انداز کرنا مہنگا پڑے گا: تلنگانہ میں تنخواہ کٹوتی کا نیا قانون اسمبلی میں منظور – چیف منسٹر ریونت ریڈی کا جذباتی خطاب
تلنگانہ اسمبلی نے “ملازمین کی جانب سے والدین کی دیکھ بھال” سے متعلق بل کو منظوری دے دی۔ بل کی منظوری سے قبل خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ والدین اپنی زندگی بچوں کے لیے وقف کرتے ہیں، مگر آج کے دور میں کئی بچے خودمختار ہونے کے بعد انہیں نظر انداز کر دیتے ہیں،
اسی لیے بزرگوں کے تحفظ کے لیے یہ قانون لایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ 2007 کا مرکزی قانون موجود ہے، لیکن موجودہ حالات میں مزید سخت اقدامات کی ضرورت محسوس ہوئی۔ چیف منسٹر نے واضح کیا کہ والدین کی خدمت نہ کرنے والوں کے خلاف سماجی اور قانونی سطح پر کارروائی ضروری ہے۔
اس موقع پر چیف منسٹر نے ممبئی میں حال ہی میں انتقال کرنے والے معروف صنعت کار وجے پتھ سنگھانیا (87) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی کی کمائی، تقریباً ایک ہزار کروڑ روپے مالیت کی ریمونڈ کمپنی کے حصص اپنے بیٹے گوتم سنگھانیا کو تحفے میں دے دیے، لیکن اس کے بعد ان کی زندگی انتہائی تکلیف دہ ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ بیٹے نے نہ صرف انہیں نظر انداز کیا بلکہ ممبئی کے معروف “جے کے ہاؤس” میں رہائش بھی نہیں دی اور گھر سے نکال دیا۔ یہاں تک کہ ان کی گاڑی اور عملہ بھی واپس لے لیا گیا، جس کے بعد انہیں ایک عام کرائے کے مکان میں رہنا پڑا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایک وقت میں پرتعیش زندگی گزارنے والے سنگھانیا کو بعد میں اپنے اخراجات کے لیے عدالت کا سہارا لینا پڑا۔ انہوں نے اپنی سوانح عمری “An Incomplete Life” میں اس دردناک تجربے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ “میں نے اپنی ساری دولت بچوں کو دے کر بڑی غلطی کی، کوئی بھی باپ میری طرح کی حالت کا شکار نہ ہو
۔انہوں نے کہا کہ یہ بل ذمہ داری کے احساس کو بڑھانے اور بزرگ والدین کو تحفظ فراہم کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے، تاکہ کوئی بھی والدین اپنی آخری عمر میں بے سہارا نہ رہے۔ اس قانون کے تحت والدین کی نگہداشت میں لاپرواہی برتنے والے سرکاری ملازم کی تنخواہ سے هر ماہ 10 ہزار روپے کٹ والدین کے اکاؤنٹ میں جمع ہوں گے



