ویملواڑہ میں 800 سالہ درگاہ کی غیر قانونی منتقلی – بیرسٹر اویسی کا چیف منسٹر سے مداخلت کرنے اور متولی کی گرفتاری کا مطالبہ
حیدرآباد _ صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلیمن و رکن پارلیمنٹ حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی نے ریاست تلنگانہ کے سرسلہ ضلع کے ویملواڑہ میں واقع 800 سال قدیم درگاہ حضرت تاج الدین خواجہ باغ سوار رحمتہ اللہ علیہ کی مبینہ مسماری اور منتقلی کو غیر قانونی اور قابلِ مذمت قرار دیا ہے
۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ویملواڑہ کے مقامی ایم ایل اے جو پارٹی وہپ بھی ہیں نے مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر مقرر کردہ متولی کے ساتھ مل کر درگاہ کو منتقل کروایا، جو وقف قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے
۔ بیرسٹر اویسی نے واضح کیا کہ کوئی بھی متولی وقف زمین کو نہ فروخت کر سکتا ہے اور نہ ہی منتقل کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ وقف بورڈ کے سی ای او کی جانب سے متولی افتخار حسین کے خلاف فوجداری شکایت بھیجی گئی، لیکن ویملواڑہ ٹاؤن پولیس ایف آئی آر درج کرنے سے گریز کر رہی ہے
۔صدر مجلس نے کہا کہ موجودہ درگاہ سے تقریباً 400 میٹر دور نئی تعمیر کو “منتقلی” کا نام دینا غیر قانونی عمل کو چھپانے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ مندر اور درگاہ دونوں تقریباً 800 سال قدیم ہیں اور اس طرح کی کارروائی مذہبی ہم آہنگی کو متاثر کر سکتی ہے
۔انہوں نے چیف منسٹر سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ افتخار حسین کو فوراً گرفتار کیا جائے اور اس معاملے کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی ہو سکے۔



