کاماریڈی میں اندرا گاندھی کے مجسمے کی نقاب کشائی، شبیر علی کی قیادت میں خراجِ عقیدت

کاماریڈی میں اندرا گاندھی کے مجسمے کی نقاب کشائی، شبیر علی کی قیادت میں خراجِ عقیدت
کاماریڈی، 20 جنوری: تلنگانہ کے کاماریڈی ٹاؤن میں ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع اندرا چوک پر سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے مجسمے کی منگل کے روز نقاب کشائی عمل میں آئی۔ اس موقع پر تلنگانہ حکومت کے مشیر اور سینئر کانگریس قائد محمد علی شبیر نے تقریب کی قیادت کی۔ ان کے ہمراہ ضلع انچارج وزیر ڈی سیتکا، ٹی پی سی سی صدر مہیش کمار گوڑ اور ظہیرآباد کے رکنِ پارلیمنٹ سریش کمار شیٹکر موجود تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شبیر علی نے کاماریڈی کے ساتھ اندرا گاندھی کے قریبی تعلقات کو یاد کیا اور شہر کو کانگریس کا مضبوط گڑھ قرار دیا۔ انہوں نے مجسمے کی نقاب کشائی کو باعثِ فخر لمحہ بتایا اور اندرا گاندھی کو غریبوں کی حامی، جرات مند اور دوراندیش قائد قرار دیا۔ انہوں نے بینکوں کی قومی تحویل اور ’غریبی ہٹاؤ‘ مہم جیسے انقلابی فیصلوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات نے محروم طبقات کی زندگیوں میں نمایاں تبدیلیاں پیدا کیں۔ شبیر علی نے کاماریڈی کی ترقی کے لیے کانگریس کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ’اندیراما راجیہ‘ کے ثمرات ہر گھر تک پہنچانے کا وعدہ کیا اور کارکنوں پر زور دیا کہ وہ منظم سپاہیوں کی طرح اندرا گاندھی کے وژن کی تکمیل کے لیے کام کریں۔
وزیر سیتکا نے اندرا گاندھی کو جرات اور خواتین کو بااختیار بنانے کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم کی حیثیت سے اندرا گاندھی نے خواتین کے وقار کو بلند کیا اور نسلوں کو متاثر کیا۔ سیتکا کے مطابق موجودہ تلنگانہ حکومت ’اندیراما راجیہ‘ کی سمت گامزن ہے اور ’اندیراما اِلّو‘ جیسی اسکیموں کے ذریعے غریبوں کو رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اندرا گاندھی کو ’آئرن لیڈی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت آج بھی قوم کی رہنمائی کرتی ہے۔
ٹی پی سی سی صدر مہیش کمار گوڑ نے قومی یکجہتی کے لیے اندرا گاندھی کی عظیم قربانی کو سراہا اور کہا کہ ان کے نظریات آج بھی کانگریس پارٹی کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا 20 نکاتی پروگرام موجودہ کئی فلاحی اقدامات کی بنیاد بنا۔ ان کے مطابق کاماریڈی میں مجسمے کی موجودگی کارکنوں کے حوصلے بلند کرے گی اور خطے میں کانگریس کو مضبوط کرے گی۔
رکنِ پارلیمنٹ سریش کمار شیٹکر نے اندرا گاندھی کو محض ایک سیاسی شخصیت نہیں بلکہ ’’طاقتور قوت‘‘ قرار دیا، جن کی بصیرت نے ملک کو غذائی خودکفالت اور خود انحصاری کی راہ پر گامزن کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی فلاحی اسکیموں کے اثرات ظہیرآباد پارلیمانی حلقے کے ہر گاؤں میں آج بھی محسوس کیے جاتے ہیں اور انہوں نے ان کے نظریات کے مطابق عوامی خدمت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔




