تلنگانہ انٹرنیشنل ہاٹ ایئر بیلون فیسٹیول: بیلون لینڈنگ سے متعلق افواہوں کی منتظمین کی تردید
تلنگانہ انٹرنیشنل ہاٹ ایئر بیلون فیسٹیول کے تحت ہفتہ کی صبح ہونے والی بیلون لینڈنگ سے متعلق میڈیا اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو منتظمین نے بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے تردید کی ہے۔ اس سلسلے میں منتظمین کی جانب سے ایک باضابطہ بیان جاری کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ہفتہ کی صبح مجموعی طور پر 18 ہاٹ ایئر بیلونز نے ڈی جی سی اے کے طے شدہ ضابطوں کے مطابق پرواز کی۔ تمام بیلونز نے بین الاقوامی معیار کے مطابق محفوظ انداز میں سفر مکمل کرتے ہوئے مقررہ مقامات پر بحفاظت لینڈنگ کی۔
منتظمین نے واضح کیا کہ ایک بیلون کے تالاب میں اترنے کی جو خبریں پھیلائی جا رہی ہیں، ان میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مذکورہ بیلون صبح 8 بجے معمول کے مطابق محفوظ لینڈنگ کے عمل سے گزرا اور اس میں سوار دونوں مسافر مکمل طور پر محفوظ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز اور دعوؤں کے برخلاف، بیلون کسی تالاب میں نہیں اترا بلکہ یہ ایک عام اور محفوظ لینڈنگ تھی۔ بیلون میں کسی قسم کی تکنیکی خرابی پیش نہیں آئی اور نہ ہی کوئی حفاظتی مسئلہ درپیش ہوا۔
منتظمین نے وضاحت کی کہ ہاٹ ایئر بیلونز کے لیے طیاروں کی طرح رن وے یا پہلے سے طے شدہ لینڈنگ پوائنٹس نہیں ہوتے۔ یہ بیلون ہوا کے رخ کے مطابق سفر کرتے ہیں اور پائلٹس اپنے تجربے کی بنیاد پر محفوظ اور کھلے مقامات کا انتخاب کرتے ہوئے لینڈنگ کرتے ہیں، جو کہ عالمی سطح پر رائج طریقۂ کار ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس فیسٹیول میں صرف تجربہ کار پائلٹس اور رجسٹرڈ بیلونز ہی شامل کیے گئے ہیں اور مسافروں کی سلامتی کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ منتظمین نے عوام اور سوشل میڈیا صارفین سے اپیل کی کہ حقائق جانے بغیر کسی بھی قسم کی غلط یا گمراہ کن خبریں پھیلانے سے گریز کریں۔
اس سے قبل میڈیا نے یہ اطلاع دی گئی کہ حیدرآباد کے علاقے ابراہیم باغ کے قریب ہاٹ ایئر بیلون میں اچانک تکنیکی خرابی پیدا ہوگئی۔ فنی نقص کے باعث بیلون کی ہوا کم ہونے لگی
، جس کے نتیجے میں بیلون کو ہنگامی طور پر کیچڑ والے علاقے میں اتارنا پڑا۔بیلون میں سوار تینوں مسافر بحفاظت باہر نکل آئے، جس سے ایک بڑا حادثہ ٹل گیا۔ مقامی افراد اور عملے نے فوری طور پر امدادی کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں کرلیا۔
واقعے سے علاقے میں کچھ دیر کے لیے سنسنی پھیل گئی، تاہم کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔



