تلنگانہ

فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی سزائے موت قانون – حکومت ہند کی خاموشی معنی خیز : جسٹس چندرا کمار

فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی سزائے موت قانون عالمی قوانین کی خلاف ورزی

فلسطینی بچوں کی اموات پر حکومت ہند کی خاموشی معنی خیز و تشویشناک، جسٹس چندرا کمار

 

حیدرآباد(پریس نوٹ) پیپلز سالیڈاریٹی فار فلسطین کے زیر اہتمام ہفتہ کے روز سوریا لوک کامپلکس عابڈس میں ایک گول میز اجلاس منعقد ہوا، جس میں حال ہی میں نافذ کردہ اسرائیلی قانون جس کے تحت فلسطینیوں کو سزائے موت دینے کی اجازت دی گئی ہے پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ شرکاء نے اس قانون کو بین الاقوامی انسانی قوانین کی صریح خلاف ورزی اور جنگی جرم قرار دیا۔

 

اجلاس کی صدارت ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس چندرا کمار نے کی۔ اپنے کلیدی خطاب میں انہوں نے کہا کہ کسی بھی اجتماع کی اہمیت اس کے حجم سے نہیں بلکہ اس میں ہونے والی معیاری اور مسلسل عوامی بحث سے ہوتی ہے۔ انہوں نے امریکہ میں ہونے والی عوامی تحریکوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب بڑی تعداد میں لوگ کسی مقصد کے لیے منظم ہوتے ہیں تو دیرپا اور بامعنی تبدیلی ممکن ہوتی ہے۔جسٹس چندرا کمار نے بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال میں عوامی دباؤ کے ذریعے آنے والی سیاسی تبدیلیوں کی مثالیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں بھی مسلسل جمہوری اور شہری سرگرمیوں کے ذریعہ مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔

 

انہوں نے جمہوریت، سیکولر ازم اور عدلیہ کی خودمختاری کے تحفظ پر زور دیا اور تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ عوامی فورمز کا انعقاد جاری رکھیں۔انہوں نے ہندوستان کی خارجہ پالیسی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کے بعد ابتدائی قیادت نے غیر وابستہ پالیسی اختیار کی تھی، تاہم موجودہ حالات میں تنازعاتی علاقوں میں شہری ہلاکتوں، خصوصاً فلسطینی بچوں کی اموات پر حکومت اور قومی میڈیا کی خاموشی انتہائی تشویشناک ہے

 

۔اجلاس میں تجارتی اور معاشی امور پر بھی گفتگو ہوئی، جس میں ہند۔امریکہ تجارتی تعلقات، محصولات کے نظام، دفاعی خریداری اور دو طرفہ معاہدوں کے زرعی و صنعتی شعبوں پر ممکنہ اثرات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ اہم پالیسی فیصلوں کی تفصیلات عوام کے سامنے شفاف انداز میں پیش نہیں کی جا رہیں۔ہائی کورٹ کے وکیل، ماہر تعلیم اور کالم نگار ملنگری روی کمار ایڈوکیٹ نے اسرائیلی قانون کے قانونی پہلوؤں پر تفصیلی پریزنٹیشن پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون بین الاقوامی انسانی حقوق، منصفانہ سماعت کے حق اور مساوات کے اصولوں کے خلاف ہے

 

۔ انہوں نے کہا کہ شناخت کی بنیاد پر سزا دینا اور فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانا بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی انسانی قوانین میں شہری آبادی کے تحفظ کے واضح اصول موجود ہیں، جن کی یہ قانون صریح خلاف ورزی کرتا ہے۔اجلاس کے اختتام پر ایک متفقہ قرارداد منظور کی گئی جس میں جاری تنازعاتی علاقوں میں خواتین اور بچوں سمیت بے گناہ شہریوں کے خلاف تشدد کی شدید مذمت کی گئی اور حکومت ہند سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق واضح اور اصولی موقف اختیار کرے

 

۔اس موقع پر مولانا تقی رضا عابدی، عمر احمد شفیق (تعمیر ملت)، محمد فضل الدین (جماعت اسلامی)، پروفیسر انور خاں، محترمہ سندھیا (سی پی آئی ایم ایل)، سید نظام الدین (کانگریس)، محمد عبدالقادر، منیر الدین مجاہد، سید علی نقی موسوی، گیانیشور راؤ، نرسنگ راؤ، صالح بن عبداللہ باحاذق، پرساد بابو، ڈی ویرا پرساد، اسد علی، حسیب حسین اور محمد افضل ایڈوکیٹ نے بھی خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی قانون کے انسانی اور قانونی مضمرات پر روشنی ڈالی اور فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button