تلنگانہ

عدالت سے راحت کے بعد کویتا کا بڑا بیان: سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا

شراب پالیسی مقدمہ میں عدالت سے راحت ملنے کے بعد کویتا نے اسے سچائی کی فتح قرار دیا۔ دہلی کی راؤس ایونیو عدالت نے مرکزی تحقیقاتی ادارہ کی جانب سے درج کیس کو مسترد کرتے ہوئے انہیں کلین چٹ دے دی، جس پر انہوں نے عدلیہ کا شکریہ ادا کیا۔

 

اپنی رہائش گاہ بنجارہ ہلز میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنا کر طویل عرصہ تک تہاڑ جیل میں رکھا گیا، جس سے انہیں اور ان کے خاندان کو شدید ذہنی اذیت برداشت کرنی پڑی۔ انہوں نے کہا کہ جیل میں کئی ایسے قیدی موجود ہیں جو مالی کمزوری کے سبب ضمانت حاصل نہیں کر پا رہے اور اپنے اہل خانہ سے دور ہیں۔

 

انہوں نے اس مشکل دور میں ساتھ دینے والوں کا اظہارِ تشکر کیا اور کہا کہ ان کے حوصلے کو مضبوط رکھنے میں ان کے شوہر کا اہم کردار رہا۔ کویتا نے واضح کیا کہ وہ تلنگانہ میں ایک نئی سیاسی جماعت قائم کریں گی جس میں تمام مذاہب کے افراد کو شامل کیا جائے گا اور ہر طبقے کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔

 

کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ حالیہ مہینوں میں مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی جا رہی ہے اور مذہبی مقامات کو مسمار کرنے کے واقعات ناقابل برداشت ہیں

 

۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس طرح کے معاملات میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ کویتا نے کہا کہ وہ حیدرآباد کی بااثر شخصیات سے ملاقات کر کے مسلمانوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ کوشش کریں گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button