ائمہ و مؤذنین کے اعزازیہ فوری جاری کرنے کویتا کا مطالبہ

کانگریس حکومت وعدوں کی تکمیل کے لئے بجٹ میں خاطر خواہ رقم مختص کرے
بی سی سب پلان کا اعلان کیا جائے، جاب کیلنڈر کی اجرائی پر زور
بلدی انتخابات میں عوامی مسائل نظر انداز، بہتر امیدواروں کے انتخاب کی اپیل
کانگریس اور بی آر ایس دونوں ہی حکومتوں میں اقلیتوں کی ترقی نظر انداز ہونے کا دعویٰ : کویتا
دفتر تلنگانہ جاگرتی بنجارہ ہلز میں پریس میٹ سے خطاب کرتے ہوئے صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ کانگریس حکومت کو اپنے وعدوں کی تکمیل کے لیے آئندہ بجٹ میں واضح فنڈس مختص کرنے چاہئیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایک لاکھ 89 ہزار ملازمتوں کی بھرتی کے لیے بجٹ میں گنجائش رکھی جائے اور فوری طور پر جاب کیلنڈر جاری کیا جائے۔ پسماندہ طبقات کے لیے سالانہ بیس ہزار کروڑ روپے مختص کرتے ہوئے بی سی سب پلان کا اعلان کرنے پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ بلدی انتخابات میں عوامی مسائل کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا اور مہم گالی گلوچ اور الزامات تک محدود رہی۔ عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ اس مرتبہ بہتر امیدواروں کو منتخب کریں اور جاگروتی امیدواروں کو کامیاب بنائیں۔
کویتا نے کہا کہ ریاست میں 116 بلدیات ہونے کے باوجود صرف ایک کو ہی انڈر گراؤنڈ ڈرینیج کی منظوری ملی جبکہ بعض علاقوں کو ترجیح دی گئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مختلف سیاسی جماعتیں کئی مقامات پر آپسی سمجھوتے کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق آنے والا بجٹ معیاری تبدیلی کا موقع ہے مگر حکومت نے آمدنی بڑھانے کے بجائے زمینوں کی فروخت پر انحصار کیا جس سے قرض اور مالی خسارہ بڑھا۔ گزشتہ بجٹ میں پنشن کے لیے مختص رقم مکمل خرچ نہیں ہوئی جبکہ کنٹراکٹرس کو زیادہ ادائیگیاں کی گئیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایس سی، ایس ٹی اور بی سی ڈکلیریشن کے مطابق فنڈس جاری کیے جائیں، پنشن کی رقم دگنی کی جائے، شہری علاقوں میں اندرما مکانات کے لیے فنڈس فراہم ہوں اور آٹو ڈرائیورس، فنکاروں، کسانوں اور کرایہ دار کسانوں سے کیے گئے وعدوں پر عمل کیا جائے۔ یاسنگی رعیتو بھروسہ فوری جاری کرنے اور قرض معافی کے دعوؤں پر کھلی بحث کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
کویتا نے کہا کہ طلبہ کی فیس ری ایمبرسمنٹ کی بڑی رقم زیر التوا ہے جس سے خصوصاً طالبات متاثر ہو رہی ہیں۔ آر ٹی سی میں عملے کی کمی، برطرفیوں اور برقی بسوں سے متعلق امور پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے ادارے کو حکومت میں ضم کرنے کا عمل تیز کرنے کی ضرورت بتائی۔ خواتین کو اسکوٹی اور سونا دینے کے وعدے فوری پورے کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے دو لاکھ نوکریوں کا وعدہ کیا تھا مگر محدود تقرریاں کی گئیں، اس لیے باقی آسامیوں کے لیے بجٹ میں رقم مختص کرتے ہوئے امتحانات کا شیڈول جاری کیا جائے۔ مرکز کی بعض پالیسیوں پر ریاستی حکومت کی خاموشی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے لیبر کوڈ کے خلاف ہونے والے بند کی حمایت کا اعلان کیا۔ ذات پات مردم شماری، روزگار ضمانت اور دیگر مسائل پر بھی وضاحت طلب کی گئی۔
اقلیتی امور سے متعلق انہوں نے کہا کہ گزشتہ ادوار میں مختص بجٹ مکمل طور پر خرچ نہیں ہوا اور عملی اقدامات کی کمی برقرار رہی۔ ان کے مطابق موجودہ دور میں بھی اعلانات زیادہ اور عملی خرچ کم دکھائی دیتا ہے، جس سے اقلیتوں کے مسائل جوں کے توں ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ رمضان المبارک قریب ہونے کے باوجود ائمہ و مؤذنین کے اعزازیے زیر التوا ہیں اور رمضان تحائف کی فراہمی بھی شروع نہیں ہوئی۔ حکومت سے فوری توجہ دینے کا مطالبہ کیا گیا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ رمضان کے پیش نظر مساجد و درگاہوں میں صفائی کے بہتر انتظامات، مفت برقی سربراہی اور سرکاری رمضان تحائف کی شفاف تقسیم کو یقینی بنایا جائے، کیونکہ محض بیانات کافی نہیں ہوتے۔



