تلنگانہ

آئندہ سال ایک لاکھ خواتین کے ساتھ بڑے پیمانے پر بتکماں منعقد کرنے کا اعلان۔ کے کویتا کی پریس کانفرنس

دونوں قومی جماعتیں کانگریس اور بی جے پی عوام کو دھوکہ دے رہی ہیں

بی سیز کے ساتھ ناانصافی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا

آئندہ سال ایک لاکھ خواتین کے ساتھ بڑے پیمانے پر بتکماں منعقد کرنے کا اعلان۔ کے کویتا کی پریس کانفرنس

صدر تلنگانہ جاگروتی و سابق رکن پارلیمنٹ نظام آباد کلواکنٹلہ کویتا نے آج پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ عوام نے انہیں چنتا مڈکا سے لندن تک بھرپور محبت اور عزت بخشی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آج ریاست میں ایک ایسی حکومت چل رہی ہے جس میں تلنگانہ کی سچی پہچان اور ثقافت کا کوئی اثر نظر نہیں آتا۔

 

کویتا نے کہا کہ گذشتہ حکومت نے تلنگانہ تلی مجسمہ کے لئے گزٹ جاری نہیں کیاتھا، لیکن اب موجودہ حکومت نے مجسمے کو بدل کر گزٹ جاری کیا ہے۔ وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کبھی بھی "جئے تلنگانہ” نہیں کہے، اس کے باوجود ان کا بتکماں تہوار میں شرکت کرنا عجیب محسوس ہوا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے گنیز بک ریکارڈ کے لئے بتکماں کا انعقاد کیا لیکن اگر یہ تہوار خواتین کو ساڑیاں تقسیم کرکے منایا جاتا تو زیادہ بامعنی ہوتا۔انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ سال تلنگانہ جاگروتی کی جانب سے حیدرآباد میں ایک لاکھ خواتین کے ساتھ شاندار انداز میں بتکماں تہوار منایا جائے گا،

 

چاہے حکومت کوئی رکاوٹ ڈالے، جاگروتی اس تہوار کو اور زیادہ عظیم بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے صرف دس ہزار خواتین کو شامل کرکے بتکماں تہوار کا انعقاد کر کے ریاست کی بیٹیوں کی توہین کی ہے۔بی سی ریزرویشن کے مسئلے پر کویتا نے کہا کہ بی سی بل پر سیاسی ریزرویشن میں مشکلات پیدا کی جارہی ہیں، لیکن تعلیم اور ملازمتوں میں بی سی ریزرویشن پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ بی سی کو 42 فیصد ریزرویشن دیئے گئے مگر وزیراعلیٰ کے قریبی افراد نے ہی عدالتوں میں مقدمے دائر کئے

 

۔ بی جے پی کو بی سی ریزرویشن کو قانونی جواز فراہم کرنا چاہئے، لیکن الیکشن کے وقت وہ عدالت میں اس کو منسوخ کرنے کی بات کرتے ہیں۔انہوں نے سوال کیا کہ بی جے پی لیڈر ایٹالہ راجندر کس حیثیت سے کہتے ہیں کہ وہ الیکشن میں مقابلہ نہ کریں؟ کیا بی جے پی خود عدالت ہے؟ کویتا نے کہا کہ ایٹالہ راجندر بی سی کے بیٹے ہیں، جدوجہد کار اور رکن پارلیمان ہیں، ان کے ایسے بیانات غیر مناسب ہیں۔ وہ یا تو وضاحت کریں کہ ان کی بات ذاتی رائے ہے یا بی جے پی کا سرکاری موقف۔ عدالتوں کے جملے راجندر کیسے دہرا سکتے ہیں؟

 

انہوں نے کہا کہ گورنر کے پاس زیر التواء آرڈیننس پر بی جے پی کو بات کرنی چاہئے۔ وزیر اعظم مودی کے پاس جا کر بی سی ریزرویشن کے لئے منظوری حاصل کرنی چاہئے۔ کئی تانڈوں اور پنچایتوں میں ایس سی موجود نہیں لیکن وہاں ایس سی کو ریزرویشن دیا گیا ہے، اسی طرح کچھ گرام پنچایتوں میں ایس ٹی نہ ہونے کے باوجود ان کے لئے عہدے مختص کئے گئے۔ کویتا نے کہا کہ ہر گاؤں کی آبادی کے تناسب کے مطابق ریزرویشن دیئے جائیں

 

۔انہوں نے الزام لگایا کہ دونوں قومی پارٹیاں کانگریس اور بی جے پی عوام کو دھوکہ دے رہی ہیں۔ ایس سی درجہ بندی کا بل پاس ہونے کے باوجود اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ بی جے پی بی سی ریزرویشن بل پاس کرے گی یا نہیں، اس پر وضاحت کرے۔ ایٹالہ راجندر اور بی جے پی دونوں کو تلنگانہ بی سی عوام سے معافی مانگنی چاہئے۔

کویتا نے کہا کہ حکومت نے بتکماں ریکارڈ قائم کیا ہے مگر آئندہ سال تلنگانہ جاگروتی کی جانب سے اس ریکارڈ کو توڑا جائے گا۔ بی سی ریزرویشن کے معاملے میں کانگریس پارٹی سازش کر رہی ہے۔ اگر حکومت آبادی کا ڈیٹا جاری کرتی تو جاگروتی ایسے الزامات نہ لگاتی۔

 

انہوں نے کہا کہ 8 اکتوبر کو عدالت کے فیصلے کی روشنی میں جاگروتی اپنی آئندہ کی حکمتِ عملی طئے کرے گی۔ اگر ریاست کے بی سی بچوں کے ساتھ ناانصافی ہوئی تو خاموش تماشائی نہیں بنیں گے۔ کویتا نے طنزیہ انداز میں نظام آباد ایم پی اروند کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے انہیں رہنمائی اور مشورے دیئے۔

 

کویتا نے کہا کہ ابھی تک مقامی ادارہ جات کے انتخابات میں جاگروتی کے مقابلے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ جوبلی ہلز ضمنی انتخاب غیر متوقع ہے اور اس کے نتائج سے عوامی زندگیوں میں کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔

 

انہوں نے کہا کہ کالیشورم پروجیکٹ عوامی اثاثہ ہے، میڈی گڈہ بیرج کی مرمت سبھی تلنگانہ وادیوں کا مطالبہ رہا ہے۔ لیکن کانگریس حکومت تاخیر کرکے عوام کو مشکلات میں ڈال رہی ہے۔ کسانوں کو یوریا کھاد تک مہیا کرنے سے قاصر یہ حکومت عوام دشمن پالیسیوں پر عمل پیراہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button