مرکزی وزیر بنڈی سنجے اور ایم پی دھرم پوری اروِند کو کے ٹی آر کے قانونی نوٹس
بی آر ایس کے کارگزار صدر تارک راما راؤ نے اپنے اور اپنے خاندان کے خلاف بے بنیاد، توہین آمیز اور کردار کشی پر مبنی بیانات دینے پر بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ و مرکزی وزیر بنڈی سنجے کمار اور ایم پی دھرم پوری اروِند کو علیحدہ علیحدہ قانونی نوٹس جاری کئے ہیں۔
کے ٹی آر نے کہا کہ ان دونوں قایدین کے بیانات ان کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور عوام کے اعتماد کو مجروح کرنے کی دانستہ کوشش ہیں۔ ذمہ دار عہدوں پر فائز ہونے کے باوجود اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے پر انہوں نے فوری اور غیر مشروط معافی کا مطالبہ کیا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ بغیر کسی ثبوت کے، محض بدنیتی اور گھٹیا سیاسی مقاصد کے تحت ایسے الزامات لگائے گئے ہیں۔
کے ٹی آر نے نشاندہی کی کہ مرکزی وزیر بنڈی سنجے کے خلاف پہلے ہی اسی نوعیت کے بیانات پر عدالت میں مقدمہ زیر سماعت ہے، اس کے باوجود انہوں نے ایک بار پھر قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے توہین آمیز الزامات دہرائے۔ اسی تناظر میں کے ٹی آر نے اپنے وکلاء کے ذریعہ بنڈی سنجے اور دھرم پوری اروِند کو قانونی نوٹس روانہ کیے ہیں۔
بنڈی سنجے کو بھیجے گئے نوٹس میں فون ٹیپنگ معاملے پر ان کی جانب سے لگائے گئے الزامات کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ نوٹس میں واضح کیا گیا کہ 23 جنوری کو منعقدہ پریس کانفرنس میں بندی سنجے نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ کے ٹی آر کے خاندان نے فون ٹیپنگ کے ذریعے ہزاروں کروڑ روپے کمائے اور مشہور شخصیات کے فون ٹیپ کیے، جو سراسر جھوٹ اور بے بنیاد الزامات ہیں۔ اس کے باوجود کہ بنڈی سنجے کے خلاف سٹی سول کورٹ میں پہلے ہی ہتکِ عزت کا مقدمہ چل رہا ہے، دوبارہ اسی نوعیت کے جھوٹے الزامات لگانا ان کی بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے۔
وہیں ایم پی دھرم پوری اروِند کو بھیجے گئے نوٹس میں ان کی ذاتی اور نازیبا زبان کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ دھرم پوری اروِند کی جانب سے کے ٹی آر پر منشیات کے استعمال اور اسمگلنگ جیسے الزامات عائد کرنا نہایت قابلِ اعتراض اور ناقابلِ قبول ہے۔ وکلاء نے واضح کیا کہ کے ٹی آر ایک سابق وزیر ہیں جنہوں نے ریاست کی ترقی اور آئی ٹی شعبے کی توسیع میں اہم کردار ادا کیا، اور وہ ایک ذمہ دار سیاسی جماعت کے ورکنگ صدر ہیں۔ ایسے شخص پر بغیر کسی ثبوت کے الزامات لگانا محض سیاسی انتقام کے سوا کچھ نہیں۔
نوٹس میں دونوں ایم پیز سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے بیانات واپس لیں اور کے ٹی آر سے عوامی طور پر غیر مشروط معافی مانگیں۔ اگر نوٹس موصول ہونے کے پانچ دن کے اندر جواب نہیں دیا گیا تو دیوانی اور فوجداری قوانین کے تحت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
کے ٹی آر نے واضح کیا کہ سیاسی مفادات کے لیے کسی کی کردار کشی کرنے والوں کو قانون کے مطابق اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔



