تلنگانہ

حیدرآباد کی بلدی تاریخ میں بڑا فیصلہ – جی ایچ ایم سی تین کارپوریشنوں میں تقسیم

تلنگانہ حکومت نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) کو انتظامی سہولت اور شہری خدمات کو مؤثر بنانے کے مقصد سے تین علیحدہ میونسپل کارپوریشنوں میں تقسیم کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں

 

۔ نئے انتظام کے تحت جی ایچ ایم سی، ملکاجگیری اور سائبرآباد کو الگ الگ کارپوریشنوں کی حیثیت دی گئی ہے، جس سے شہری نظم و نسق میں بہتری اور مقامی مسائل کے فوری حل کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

 

حکومت کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے مطابق جی ایچ ایم سی کارپوریشن کے کمشنر کے طور پر سینئر آئی اے ایس عہدیدار آر وی کرنن کو مقرر کیا گیا ہے، جب کہ سائبرآباد کارپوریشن کی ذمہ داری سریجنا کے سپرد کی گئی ہے۔

 

اسی طرح ملکاجگیری کارپوریشن کے کمشنر کے طور پر ونئے کرشنا ریڈی کو تعینات کیا گیا ہے۔ ان تقرریوں کو شہری انتظامیہ میں مؤثر ہم آہنگی پیدا کرنے کی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

 

ذرائع کے مطابق اس تنظیمِ نو کے ساتھ ہی مجموعی طور پر متعدد آئی اے ایس عہدیداروں کے تبادلے بھی عمل میں لائے گئے ہیں تاکہ نئی کارپوریشنوں کے انتظامی ڈھانچے کو مضبوط بنایا جا سکے اور عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں تیزی لائی جا سکے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ کارپوریشنوں کی تقسیم سے بڑھتی ہوئی آبادی، شہری پھیلاؤ اور انفراسٹرکچر سے متعلق مسائل پر بہتر توجہ دی جا سکے گی۔

 

ماہرین شہری ترقی کے مطابق یہ فیصلہ مستقبل کی شہری منصوبہ بندی کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے، تاہم اس کے مؤثر نتائج کا انحصار نئی انتظامیہ کی کارکردگی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوامی تعاون پر ہوگا۔ حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ شہری خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے مزید اصلاحی اقدامات بھی مرحلہ وار کیے جائیں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button