تلنگانہ

’’میرٹ کو سزا، تعصب کو انعام‘‘ — شبیر علی کی ویشنو دیوی میڈیکل کالج کی منظوری منسوخی پر مرکز پر سخت تنقید

’’میرٹ کو سزا، تعصب کو انعام‘‘ — شبیر علی کی ویشنو دیوی میڈیکل کالج کی منظوری منسوخی پر مرکز پر سخت تنقید، ادارہ جاتی جانبداری میں اضافے کا انتباہ

 

کاماریڈی، 13 جنوری ( اردولیکس) تلنگانہ حکومت کے مشیر و سینئر کانگریس قائد محمد علی شبیر نے منگل کے روز کاماریڈی میں منعقدہ ختمِ نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی زیر قیادت مرکزی حکومت پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے جموں و کشمیر میں واقع شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس (SMVDIME) کی ایم بی بی ایس کورس کی منظوری منسوخ کیے جانے کو ’’منصوبہ بند، ناانصافی پر مبنی اور مسلم دشمن اقدام‘‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کو روکنے کی خطرناک کوشش ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ 7 جنوری کو نیشنل میڈیکل کمیشن کی جانب سے SMVDIME کی ایم بی بی ایس نشستوں کی منظوری منسوخ کرنا بنیادی طور پر انفراسٹرکچر کا مسئلہ نہیں بلکہ اس حقیقت کا ردعمل ہے کہ داخلہ پانے والے 50 طلبہ میں سے 42 مسلمان تھے۔ شبیر علی نے کہا:

“جب میرٹ ان کے بیانیے کے خلاف گیا تو ہمارے بچوں کے مستقبل پر تالہ ڈالنے کے لیے تکنیکی بہانہ ڈھونڈ لیا گیا۔”

 

یہ تنازعہ نومبر 2025 میں اس وقت شروع ہوا جب شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی سے وابستہ اور شرائن بورڈ کے تحت قائم میڈیکل کالج نے اپنی پہلی ایم بی بی ایس میرٹ لسٹ جاری کی۔ جے کے بی او پی ای ای کے ذریعے نیٹ کی بنیاد پر کیے گئے داخلوں میں 42 مسلمان، 7 ہندو اور ایک سکھ طالب علم شامل تھا۔ حکام کے مطابق تمام داخلے مکمل طور پر میرٹ کے اصولوں کے مطابق تھے۔

 

تاہم طلبہ کے مذہبی تناسب پر دائیں بازو کی تنظیموں، بشمول وشوا ہندو پریشد اور بجرنگ دل، نے احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ چونکہ ادارہ ہندو عقیدت مندوں کے چندے سے چلتا ہے اس لیے ہندو طلبہ کو ترجیح دی جائے۔ شبیر علی نے اس مطالبے کو آئین کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی سرکاری تسلیم شدہ تعلیمی ادارے میں مذہبی بنیاد پر ریزرویشن کا مطالبہ مساوی مواقع کے اصول کی توہین ہے۔

 

انہوں نے الزام لگایا کہ نیشنل میڈیکل کمیشن نے سیاسی دباؤ میں آکر کارروائی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ میرٹ لسٹ کو قانونی طور پر رد نہیں کیا جا سکتا تھا، اس لیے انفراسٹرکچر کا بہانہ بنایا گیا، اور یہ کارروائی احتجاج کے فوراً بعد ہونا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

 

شبیر علی نے اس واقعہ کو مسلمانوں کے خلاف جاری وسیع تر پالیسیوں سے جوڑتے ہوئے کہا کہ پہلے این آر سی، پھر سی اے اے اور اب امید پورٹل — ہر چند ماہ بعد مسلمانوں کو گھیرنے، حاشیے پر ڈالنے یا نگرانی میں لینے کا نیا طریقہ لایا جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ اب محض امتیاز نہیں بلکہ منظم اخراج کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

 

امید پورٹل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ ابھی اس کے اصل مقصد کو نہیں سمجھ پائے ہیں۔ ان کے مطابق یہ وقف اور اقلیتی املاک کا ڈیٹا جمع کرنے کا ذریعہ ہے، جس کے بعد مساجد، قبرستانوں اور زمینوں پر کنٹرول اور پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔

 

شبیر علی نے مسلم سماج پر زور دیا کہ وہ دین اور تعلیم، خصوصاً دیہی علاقوں میں، زیادہ سرمایہ کاری کرے۔ انہوں نے تحفظِ ختمِ نبوت ٹرسٹ کی ستائش کی جو دیہات میں ائمہ کی تقرری اور دینی مراکز کے قیام کے لیے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے حاضرین سے اپیل کی کہ وہ اس مشن کی مالی مدد بڑھائیں کیونکہ یہ محض خیرات نہیں بلکہ آئندہ نسلوں کے ایمان کا تحفظ ہے۔

 

انہوں نے یومِ حساب سے متعلق ایک دینی مثال بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہاں دولت اور عہدے نہیں بلکہ اعمال دیکھے جائیں گے، اور ذمہ دار عہدوں پر فائز افراد سے زیادہ سخت سوال ہوگا۔

 

شبیر علی نے کاماریڈی میں اپنی سابقہ خدمات کا بھی حوالہ دیا، خاص طور پر قبرستان کے قیام کا ذکر کیا جو آج ایک اہم عوامی سہولت بن چکا ہے۔ انہوں نے مساجد کے قریب غسل خانوں، جنازہ ہالوں اور تدفین کے انتظامات قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا، خاص طور پر شہری علاقوں میں۔

 

انہوں نے کہا کہ ان کاموں کی قیادت ماہر افراد کو کرنی چاہیے — اساتذہ تعلیم دیں، ڈاکٹر علاج کریں اور علما دینی رہنمائی انجام دیں۔

 

انتخابات سے قبل شہروں کے نام بدلنے کی مہم پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ نظام آباد جیسے شہروں کا نام بدلنے سے نہ بے روزگاری ختم ہوگی اور نہ تعلیم بہتر ہوگی، یہ محض عوام کو بانٹنے کی کوشش ہے۔

 

انہوں نے تلنگانہ اور کرناٹک میں کانگریس حکومتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی مساجد کی تعمیر، وقف زمینوں کی رجسٹریشن اور اقلیتی اداروں کا تحفظ آئین کی بدولت ممکن ہے، اور یہ کوئی احسان نہیں بلکہ ہمارا آئینی حق ہے۔

 

خطاب کے اختتام پر انہوں نے دیہی تلنگانہ میں دینی خدمات انجام دینے والے علما اور رضاکاروں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کانفرنس میں شرکت پر مولانا شاہ جمال الرحمٰن اور دیگر شخصیات کا شکریہ ادا کیا۔

 

اس سے قبل دن میں محمد علی شبیر نے ٹرسٹ کے چیئرمین مولانا شاہ جمال الرحمٰن کے ساتھ قبرستان کے قریب نئی تعمیر شدہ مسجدِ عباس کا افتتاح کیا۔ یہ موقع تحفظِ ختمِ نبوت تعلیمی و فلاحی ٹرسٹ کی 26ویں سالانہ تقریب کا بھی تھا۔

 

تقریب سے مفتی مولانا ابرارالحسن سمیت دیگر علما نے خطاب کیا اور کہا کہ ٹرسٹ آئندہ بھی دینی تحفظ، تعلیم کے فروغ اور فلاحی سرگرمیوں کو وسعت دیتا رہے گا۔ اس موقع پر علما، سابق عوامی نمائندے اور سینکڑوں افراد شریک تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button