تلنگانہ

تلنگانہ بلدی انتخابات: ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع – نتائج کا بے چینی سے انتظار

ریاست میں بلدی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی شروع ہو گئی ہے۔ 116 بلدیات اور 7 میونسپل کارپوریشنوں کے تحت منعقدہ انتخابات کے بیلٹ باکسوں میں موجود ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ بلدیات کے ابتدائی نتائج صبح 10 بجے تک آنے کا امکان ہے،

 

جبکہ کارپوریشن انتخابات کے نتائج کچھ تاخیر سے متوقع ہیں۔ ریاست بھر میں مجموعی طور پر 136 کاؤنٹنگ مراکز قائم کئے گئے ہیں اور ان مراکز پر سخت سیکورٹی انتظامات کئے گئے ہیں۔ امن و امان کی برقراری کے لیے بی این ایس کی دفعہ 163 نافذ رہے گی، یہ بات الیکشن کمیشن کے سکریٹری لنگیا نائک نے بتائی۔

 

ووٹوں کی گنتی اور نتائج کے اعلان کے طریقۂ کار کے بارے میں سکریٹری نے بتایا کہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی نظام اپنایا گیا ہے۔ سب سے پہلے پوسٹل بیلٹ کی گنتی کی جائے گی، اس کے بعد عام بیلٹ پیپروں کی گنتی ہوگی

 

۔ ہر وارڈ کے بیلٹ باکس مرحلہ وار کاؤنٹنگ ٹیبلوں تک پہنچائے جائیں گے۔ ہر پولنگ اسٹیشن کے بیلٹ 25 کے بنڈلوں میں ترتیب دیے جائیں گے اور وارڈ کے تمام پولنگ اسٹیشنوں کے بیلٹ بنڈل ایک ڈرم میں ڈال کر اچھی طرح ملائے جائیں گے، جس کے بعد تفصیلی گنتی شروع ہوگی۔ ہر مرحلے میں ڈرم سے ایک ہزار بیلٹ پیپر (40 بنڈل) نکال کر کاؤنٹنگ ٹیبلوں کو بھیجے جائیں گے۔

 

چیک ٹرے میں امیدواروں کے حساب سے ووٹ، نوٹا اور مشتبہ ووٹ الگ کیے جائیں گے۔ ہر بیلٹ کو امیدواروں کے ایجنٹوں کو دکھانے کے بعد ہی شمار کیا جائے گا۔ ہر 100 ووٹ مکمل ہونے پر ایک بنڈل بنایا جائے گا۔

 

ہر مرحلے کے اختتام پر امیدواروں کو ملنے والے ووٹوں اور مسترد شدہ ووٹوں کی تفصیلات رزلٹ شیٹ میں درج کرکے ایجنٹوں کے دستخط حاصل کئے جائیں گے۔ وارڈ کے تمام ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے اور ریٹرننگ افسر کی توثیق کے بعد سرکاری طور پر نتائج کا اعلان کیا جائے گا اور کامیاب امیدواروں کو سرٹیفکیٹ فراہم کئے جائیں گے۔

 

کاؤنٹنگ مراکز میں صرف کاؤنٹنگ سپروائزرز، معاون عملہ، امیدوار یا ان کے انتخابی و کاؤنٹنگ ایجنٹوں کو داخلے کی اجازت ہوگی۔ صرف درست پاس رکھنے والوں کو ہی اندر جانے دیا جائے گا، جبکہ موبائل فون اور دیگر الیکٹرانک آلات کاؤنٹنگ ہال میں لانے پر پابندی عائد ہے۔ شفافیت کے پیش نظر اسٹرونگ رومز اور کاؤنٹنگ مراکز پر ویب کاسٹنگ کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button