ایران میں نئی قیادت — مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر نامزد کر دیا گیا

ایران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے تقریباً ایک ہفتے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا گیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں علی خامنہ ای کی وفات کے بعد پورا خطہ شدید جنگی صورتحال سے دوچار ہو گیا تھا۔
56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای کو اتوار کے روز ایران کے اعلیٰ علما نے اپنے والد کا جانشین مقرر کیا۔ ایران کی طاقتور پاسدارانِ انقلاب، فوجی قیادت اور اہم سیاسی رہنماؤں نے فوری طور پر نئے سپریم لیڈر کی حمایت کا اعلان کیا۔
سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سکریٹری علی لاریجانی، جنہیں امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے بعد ایران کی سکیورٹی حکمتِ عملی کی قیادت سونپی گئی ہے، نے قوم سے اپیل کی کہ وہ نئے سپریم لیڈر کے گرد متحد ہو جائیں۔ پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ نئے سپریم لیڈر کی اطاعت ایک مذہبی اور قومی فریضہ ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے کبھی کسی عوامی انتخاب میں حصہ نہیں لیا، تاہم وہ کئی دہائیوں سے سپریم لیڈر کے قریبی حلقے میں ایک بااثر شخصیت سمجھے جاتے ہیں اور پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات بھی رہے ہیں۔
گزشتہ چند برسوں سے انہیں اپنے والد کے ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔ مبصرین کے مطابق ان کی تقرری اس بات کا اشارہ ہو سکتی ہے کہ ایران کے سخت گیر حلقے اب بھی اقتدار پر مضبوطی سے قابض ہیں اور موجودہ جنگی صورتحال میں ایران کی قیادت فوری طور پر کسی سمجھوتے یا مذاکرات کے لئے تیار نظر نہیں آتی۔
الجزیرہ کے تجزیہ کار علی ہاشم کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کو اکثر اپنے والد کا “دروازہ بان” کہا جاتا تھا، کیونکہ وہ سپریم لیڈر کے قریبی معاملات اور رسائی کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔



