تلنگانہ

ایک کونسلر کے لئے 3 کروڑ کی پیشکش؟ کیتھن پلی میونسپل چیئرمین کے عہدہ پر تجسس برقرار

ریاست تلنگانہ کی کیتھن پلی میونسپلٹی میں چیئرمین کے عہدے کو لے کر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مقامی ایم ایل اے اور وزیر لیبر جی ویویک پر الزام ہے کہ وہ کانگریس کا چیئرمین بنانے کے لئے مبینہ طور پر کھلے عام سودے بازی کر رہے ہیں۔

 

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ تین کونسلروں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے فی کونسلر 3 کروڑ روپے، یعنی مجموعی طور پر 9 کروڑ روپے کی پیشکش کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کیتھن پلی، جو ویویک کا اپنا حلقہ ہے، وہاں بی آر ایس کی کامیابی کے بعد سیاسی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

 

انتخابات سے قبل بی آر ایس اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا نے اتحاد کے طور پر مقابلہ کیا تھا، جس میں بی آر ایس کو 10 اور سی پی آئی کو 4 نشستیں حاصل ہوئیں۔ کانگریس نے 7 جبکہ ایک آزاد امیدوار کامیاب ہوا۔ تاہم مقامی وزیر ویویک، ان کے فرزند اور رکن پارلیمنٹ ومشی کرشنا کے ایکس آفیشیو ووٹوں کے باعث کانگریس کی تعداد 10 تک پہنچ گئی ہے۔

 

اطلاعات کے مطابق اگر بی آر ایس-سی پی آئی اتحاد کے تین کونسلروں کی حمایت حاصل ہو جائے تو چیئرمین کا عہدہ کانگریس کے حق میں جا سکتا ہے۔ اسی حکمت عملی کے تحت بعض کونسلروں اور ان کے گھر والوں سے رابطوں کی کوششوں کی خبریں سامنے آئی ہیں۔

 

دوسری جانب بی آر ایس اپنے کونسلروں کو متحد رکھنے کی کوشش میں ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ بھی بحث چل رہی ہے کہ مختلف طریقوں سے دباؤ ڈالنے کے باوجود مطلوبہ حمایت حاصل نہ ہونے پر حالات مزید پیچیدہ ہو رہے ہیں۔ معاملہ فی الحال سیاسی گرما گرمی کا مرکز بنا ہوا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button