تلنگانہ

غریب مسلم کے” کھووا بن ” واقعہ پر سیاست گرم – بھائی چارے کے تحفظ کا مطالبہ

تلنگانہ کے کھمم میں حال ہی میں منعقدہ ایشیا کی قبائلی برادریوں کی سب سے بڑی جاترا، میڈارم جاترا کے دوران پیش آئے “کھووا بن” واقعہ نے اب سیاسی رخ اختیار کر لیا ہے۔

 

تفصیلات کے مطابق آندھراپردیش کے ضلع کرنول کے  ویلوگوڈو گاؤں سے تعلق رکھنے والے چھوٹے تاجر شیخ شاہ ولی میڈارم جاترا میں صرف 10 روپے میں کھووا بن فروخت کر رہے تھے کہ چند یوٹیوبرز نے زیادہ ویوز اور لائکس حاصل کرنے کی غرض سے انہیں گھیر لیا اور ان پر بے بنیاد “فوڈ جہاد” کا الزام عائد کرتے ہوئے ہراساں کیا۔ یہاں تک کہ ولی کو سرِعام یہ ثابت کرنے پر مجبور کیا گیا کہ کھانا محفوظ ہے، جس کے لیے انہیں خود وہ کھانا کھانا پڑا۔ اس واقعہ نے مقامی سطح پر شدید تشویش پیدا کر دی۔

 

واقعہ کے بعد مختلف سیاسی قائدین کا ردِعمل سامنے آیا ہے۔صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلیمن و رکن پارلیمنٹ حیدرآباد اسد الدین اویسی نے اس واقعہ کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی چھوٹے تاجر کو مذہب کی بنیاد پر ہراساں کرنا نہ صرف غیر انسانی عمل ہے بلکہ یہ سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس طرح کے واقعات کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور قصوروار افراد کے خلاف کارروائی کریں تاکہ آئندہ کسی بے گناہ کو اس قسم کی ذلت اور خوف کا سامنا نہ کرنا پڑے

 

آندھرا پردیش کے وزیر نارا لوکیش نے شیخ شاہ ولی کے حق میں آواز اٹھاتے ہوئے سوشل میڈیا پر جذباتی پیغام جاری کیا اور اس ہراسانی کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے لکھا کہ تلگو معاشرے میں تفرقہ انگیز سیاست اور مذہبی بنیادوں پر ہراسانی کی کوئی جگہ نہیں، اور یہ سماج ہمیشہ باہمی احترام اور بھائی چارے کی مثال رہا ہے۔ انہوں نے جلد ولی سے ملاقات کر کے ان کے کھووا بن کا ذائقہ چکھنے کی خواہش بھی ظاہر کی اور کہا کہ سب لوگ ولی کے ساتھ کھڑے ہیں۔

 

ادھر جناسینا کے ایم ایل سی ناگابابو نے بھی کھووا بن فروخت کرنے والے تاجر ولی سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ روزی روٹی کے لیے محنت کرنے والے چھوٹے تاجروں کو خوف و ہراس میں مبتلا کرنا درست نہیں اور بعض افراد کی حد سے زیادہ سرگرمی ایک خاندان کو فاقوں تک پہنچا سکتی ہے، جو انتہائی افسوسناک ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button