امریکی یلغار، صدر کی گرفتاری، اقتدار معلق: جنوبی امریکہ کے ملک وینزویلا عالمی بحران کے دہانے پر

حیدرآباد _ 4 جنوری ( اردولیکس ڈیسک) امریکہ کے بڑے فوجی حملے کے بعد وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کی گرفتاری نے ملک کو شدید آئینی، سیاسی اور سلامتی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔
اقتدار کی منتقلی، نائب صدر اور وزیرِ دفاع کے کردار، اور روس و ایران کی سخت مذمت کے ساتھ عالمی سطح پر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔2جنوری کو وینزویلا میں ہونے والے ایک غیر معمولی فوجی آپریشن میں امریکہ نے بڑے پیمانے پر حملے کئے،
جن کے بعد صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو دارالحکومت کراکس سے گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ایک ”شاندار اور مکمل طور پر منصوبہ بند آپریشن” قرار دیا۔ ٹرمپ کے مطابق یہ کارروائی امریکی مسلح افواج کے مختلف ونگز، انٹیلی جنس اداروں اور واشنگٹن کے سیکوریٹی نیٹ ورک کے درمیان قریبی ہم آہنگی کا نتیجہ تھی
۔ نیویارک ٹائمز کو دیے گئے مختصر انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ”یہ ایک شاندار آپریشن تھا، جس میں عظیم فوجیوں اور بہترین منصوبہ بندی نے کلیدی کردار ادا کیا۔’
امریکی حکومت برسوں سے مادورو کی گرفتاری کی کوشش کر رہی تھی۔ مارچ 2020میں ایک امریکی عدالت نے ان پر منشیات کی دہشت گردی سمیت سنگین الزامات عائد کئےتھے جس کے بعد انہیں امریکی انعامی فہرست میں شامل کیا گیا۔ 2025 میں ٹرمپ انتظامیہ نے مادورو کی گرفتاری سے متعلق معلومات پر انعام بڑھا کر 50 ملین ڈالر کر دیا تھا۔
واضح رہے کہ مادورو کو دنیا کے سب سے زیادہ محفوظ لیڈروں میں شمار کیا جاتا تھا۔ ان کے تحفظ کیلئے صدارتی اعزازی گارڈ، بولیورین نیشنل انٹیلی جنس سروس، نیشنل گارڈ اور مسلح افواج کی متعدد پرتیں تعینات تھیں۔ اس کے باوجود امریکی ایلیٹ یونٹ ڈیلٹا فورس نے انہیں حراست میں لے لیا۔



