تلنگانہ

پٹرول 500 فی لیٹر ہو جانے کی افواہ۔‌حیدرآباد کے پرانے شہر کے پٹرول پمپس پر ہجوم امڈ پڑا

حیدرآباد: امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث عالمی سطح پر تیل کی منڈی میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔ انہی حالات کے تناظر میں عرب ممالک سے ہندوستان آنے والے خام تیل کے جہازوں کی آمد متاثر ہونے سے متعلق غیر مصدقہ اطلاعات گردش کرنے لگیں۔

 

اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض عناصر نے سوشل میڈیا پر یہ افواہ پھیلا دی کہ آنے والے دنوں میں پٹرول پمپ بند کر دیے جائیں گے اور پٹرول کی قیمت اچانک بڑھ کر فی لیٹر 500 روپے تک پہنچ جائے گی۔یہ افواہیں دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگئیں جس کے نتیجے میں گزشتہ رات شہر کے مختلف علاقوں خصوصاً پرانے شہر میں پٹرول پمپوں پر غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا۔

 

نوجوانوں کی بڑی تعداد اپنی موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کے ساتھ پٹرول پمپوں پر پہنچ گئی اور احتیاطی طور پر ٹینک فل کروا لیے۔ بعض افراد بوتلوں اور ڈبوں میں بھی پٹرول ذخیرہ کرتے ہوئے نظر آئے۔اس سے متعلق ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں اور لوگ بے چینی کے عالم میں اپنی باری کے منتظر ہیں۔

 

اس اچانک ہجوم کے باعث پٹرول پمپ ملازمین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔تاہم حکام نے پٹرول کی قیمت میں کسی غیر معمولی اضافے یا سپلائی کی بندش سے متعلق خبروں کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیا ہے۔ سرکاری ذرائع اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے واضح کیا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی سپلائی معمول کے مطابق جاری ہے اور گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔

 

حکام کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو بنیاد بنا کر کچھ عناصر جان بوجھ کر غلط معلومات پھیلا رہے ہیں تاکہ عوام میں خوف و ہراس پیدا کیا جا سکے۔ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اگرچہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ممکن ہے تاہم فوری طور پر مقامی سطح پر ایسی کسی ہنگامی صورتحال کے آثار نہیں ہیں۔

 

انہوں نے خبردار کیا کہ بلا ضرورت پٹرول ذخیرہ کرنے سے مصنوعی قلت پیدا ہو سکتی ہے جس سے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ خبروں پر یقین نہ کریں انہیں آگے شیئر کرنے سے گریز کریں اور کسی بھی اہم اطلاع کی تصدیق صرف سرکاری یا مستند ذرائع سے کریں۔

 

ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا ہی اس وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ افواہوں کو پھیلنے سے روکا جا سکے اور شہری زندگی معمول کے مطابق جاری رہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button