ہیٹ اسپیچ کے خلاف سخت قانون کا اعلان – مسلم ریزرویشن کے تحفظ کا چیف منسٹر ریونت ریڈی کا وعدہ

چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اعلان کیا ہے کہ نفرت انگیز تقاریر (ہیٹ اسپیچ) پر قابو پانے کے لیے آئندہ اسمبلی اجلاسوں میں قانون لایا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سماج میں ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے نفرت انگیز تقاریر پر روک لگانا ناگزیر ہے۔ حیدرآباد میں جمعیۃ علمائے ہند کے زیرِ اہتمام منعقدہ اجلاس میں چیف منسٹر ریونت ریڈی نے بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت کی۔
چیف منسٹر نے کہا کہ ملک کی ترقی کے لیے سب کو مل جل کر آگے بڑھنا ہوگا۔ سرمایہ کاری کے لیے امن و امان کا تحفظ انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی ایک فرد ملک کو ترقی نہیں دے سکتا اور نہ ہی کوئی ہمیشہ اقتدار میں رہ سکتا ہے
۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سابق چیف منسٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے ریاست میں اقلیتوں کو چار فیصد ریزرویشن فراہم کئے تھے، اور یہ معاملہ اس وقت سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ذات پر مبنی مردم شماری کے دوران ریاست میں اقلیتی آبادی کا بھی اندراج کیا گیا ہے۔
چیف منسٹر نے یقین دہانی کرائی کہ جب سپریم کورٹ میں چار فیصد ریزرویشن کے مقدمے کی سماعت ہوگی تو اقلیتی آبادی کے اعداد و شمار عدالت کو فراہم کئے جائیں گے۔ انہوں نے اقلیتوں کے لیے چار فیصد ریزرویشن کے نفاذ کے لیے ہر ممکن کوشش کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ کانگریس حکومت کے دیے گئے ریزرویشن سے بے شمار افراد کو روزگار ملا ہے۔
انہوں نے اقلیتی طبقہ پر زور دیا کہ تعلیم کو ترجیح دیں۔ اس موقع پر انہوں نے مرکزی وزیر امیت شاہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اقلیتوں کے چار فیصد ریزرویشن کو منسوخ کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اگر امیت شاہ میں ہمت ہے تو وہ تلنگانہ میں اقتدار حاصل کرکے دکھائیں۔ انہوں نے رائے دی کہ ایک پارٹی کی جانب سے اعضاء کے عطیہ جیسے اقدامات سے بی جے پی کے ووٹ فیصد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
چیف منسٹر نے کہا کہ اگرچہ اظہرالدین انتخابات میں شکست سے دوچار ہوئے، اس کے باوجود انہیں ایم ایل سی بنایا گیا اور وزیر کا عہدہ دیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی ٹکٹ دیے جانے کے بعد امیدوار کو کامیاب بنانے کی ذمہ داری کارکنوں کی ہوتی ہے۔ انہوں نے بلدی انتخابات میں اقلیتی امیدواروں کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔
چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ نفرت انگیز تقاریر پر قابو پانے کے لیے آئندہ اسمبلی اجلاس میں قانون لایا جائے گا، کیونکہ اس پر روک لگانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کی حمایت سے ہی تلنگانہ میں کانگریس حکومت قائم ہوئی ہے۔




