فیصلہ لیں یا ہم لیں گے – سپریم کورٹ کا تلنگانہ اسپیکر کو آخری الٹی میٹم، دو ہفتوں کی مہلت

نئی دہلی _ تلنگانہ میں پارٹی بدلنے سے متعلق زیرِ التوا ایم ایل ایز کی درخواستوں پر فیصلہ نہ لینے پر سپریم کورٹ نے سخت اور چونکا دینے والے ریمارکس دیے ہیں۔ عدالتِ عظمیٰ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ“کیا اسپیکر اس معاملے میں فیصلہ کریں گے یا ہمیں ہی کرنا پڑے گا؟”
عدالت نے واضح کیا کہ اسپیکر کو یہ آخری موقع دیا جا رہا ہے، اگر دو ہفتوں کے اندر فیصلہ نہیں کیا گیا تو سپریم کورٹ خود فیصلہ کرے گی۔
عدالت نے ہدایت دی ہے کہ دو ہفتوں کے اندر ایم ایل ایز کی نااہلی سے متعلق اسپیکر کی جانب سے اب تک کی گئی کارروائیوں پر مشتمل حلف نامہ پیش کیا جائے۔
بی آر ایس ارکان اسمبلی کے پارٹی بدلنے کے معاملے پر آج سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی، جس کی جسٹس سنجے کرول اور جسٹس آگسٹین جارج پر مشتمل بنچ نے کی۔
سماعت کے دوران سینئر وکیل ابھیشیک سنگھوی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اب تک اسپیکر 7 ایم ایل ایز سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ دے چکے ہیں۔ اس کے بعد عدالت نے باقی درخواستوں پر بھی دو ہفتوں کے اندر فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔ تاہم ابھیشیک سنگھوی نے عدالت سے مزید مہلت کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ باقی تین ایم ایل ایز کے معاملات کی سماعت مکمل کرنے کے لیے چار ہفتوں کا وقت دیا جائے۔
اس پر عدالت نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر کو پہلے ہی کافی وقت دیا جا چکا ہے اور یہ آخری موقع ہے۔ عدالت نے خبردار کیا کہ اگر مقررہ مدت میں فیصلہ نہیں لیا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ بعد ازاں معاملے کی اگلی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
واضح رہے کہ مجموعی طور پر 10 ایم ایل ایز کے خلاف پارٹی تبدیل کرنے کی شکایات درج ہوئیں، جن میں سے ار کے پوڈی گاندھی، گوڈم مہپال ریڈی، بندلا کرشنا موہن، پرکاش گوڑ، تیلم وینکٹ راؤ، پوچارم سرینواس ریڈی اور کالے یادیا کو اسپیکر کی جانب سے کلین چٹ دی جا چکی ہے۔
باقی تین ایم ایل ایز کے معاملات زیرِ غور ہیں، جن میں دانم ناگیندر کے معاملے میں اسپیکر کی جانب سے کارروائی (نااہلی) کیے جانے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ ایسے میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ اسپیکر گڈم پرساد کمار آئندہ کیا فیصلہ لیتے ہیں۔



