تلنگانہ

حضور نظام کے تعلق سے نازیبا الفاظ کی سخت مذمت – اروند کو پاگل خانہ میں شریک ہونے کا مشورہ : سید نجیب علی

حضور نظام کے تعلق سے نازیبا الفاظ کی سخت مذمت
اروند کو پاگل خانہ میں شریک ہونے کا مشورہ
ترقیاتی کاموں پر مباحث کا چیلنج
جناب سید نجیب علی ایڈوکیٹ کانگریس قائد کی نظام آباد پریس کانفرنس

نظام آباد:10/جنوری(اردو لیکس) سینئر کانگریس قائد جناب سید نجیب علی ایڈوکیٹ نے رکن پارلیمنٹ نظام آباد ڈی اروند کو نظام سرکار کے بنائے گئے ایرا گڈہ پاگل خانے میں شریک ہوکر علاج کرانے کا مشورہ دیا اور ان کے اشتعال انگیز نفرت پر مبنی بیانات اور حضور نظام سے متعلق نازیبا الفاظ کے استعمال کی شدید مذمت کی آج ان کے دفتر پر منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ڈی اروند سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں انہیں ترقی کے بجائے نفرت پھیلانے ماحول کو کشیدہ کرنے اور پرُ امن حالات کو بگاڑنے سے دلچسپی ہے

 

اور یہی وجہ ہے کہ وہ حالات کو خراب کرتے ہوئے معصوم جذبات کو استحصال کرکے اپنے حقیر مفادات کی تکمیل کررہے ہیں اس طرح کے بیانات کا پولیس کی جانب سے از خود نوٹ لیتے ہوئے ان کے خلاف سخت کاروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ نظام دور حکومت میں کئے گئے ترقیاتی کاموں اور تمام شعبوں میں کی گئی بے مثال خدمات سے واقف ہوں یا پھر اپنے بزرگوں سے مملکت آصفیہ کے کاموں سے واقف ہوں۔ آج بھی تمام طبقات میں نظام کو احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

 

انہوں نے ڈی اروند سے کہا کہ وہ گدھے کی دم کو باندھے گئے ڈبے کی آواز کے طرز پر بھاگنے کے بجائے نظام دور حکومت کے ترقیاتی کاموں کا مشاہدہ کریں۔ نظام ساگر پراجیکٹ، ریلوے لائنوں کا نظام، دواخانوں کی تعمیر، عثمانیہ یونیورسٹی اور صحت عامہ کے شعبہ میں بچوں، خواتین، طب دق، آرتھوپیڈک، آنکھ، ناک، کان، ای این ٹی ہاسپٹل اور پاگلوں کے لئے بھی انہوں نے دواخانہ قائم کیا تھا

 

انہوں نے ڈی اروند کو مشورہ دیا کہ وہ پاگلوں کے دواخانہ میں شریک ہوکر اپنے دماغ کا علاج کرائیں جو ان کے سر کے میں بالوں کے ساتھ ان کے متاثرہ دماغ کا علاج کریں۔ انہوں نے کہا کہ حضور نظام نے زرعی زمینات کو سیراب کرنے کی غرض سے کئی آبپاشی پراجیکٹس کی تعمیرات عمل میں لائی صرف ایک نظام ساگر پراجیکٹ کے ذریعہ سے ضلع نظام آباد کی 2 لاکھ 75 ہزار ایکر اراضی کو سیراب کیا جا تھا اوراس علاقہ میں اس سیرابی کے باعث زرعی کھیتوں میں فصلوں کی پیداوار میں بے شمار اضافہ دیکھا گیا۔ نظام دور حکومت میں فنی تعمیرات کے علاوہ بہتر نظم و نسق کی فراہمی تمام ہی اضلاع میں وہاں پر زرعی پیداوار کے لحاظ سے صنعتوں کا قیام عمل میں لایا گیا۔جس میں کاغذ کی فیکٹریاں، کپاس کی پیداورا کو پیش نظر رکھتے ہوئے ورنگل اور عادل آباد میں کپڑے کے کارخانہ، کاغذ کا کارخانہ اور نظام آباد ضلع میں ایشیاء کی سب بڑے شکر پیدا کرنے والی نظام شوگر فیکٹری شامل ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ یہ پورا علاقہ تمام شعبوں میں غیر معمولی ترقی کی ہے یہ نظام دور حکومت کی مرہون منت ہے۔انہوں نے کہا کہ نظام دور حکومت میں صنعتوں کو فروغ دیتے ہوئے معیشت کو مستحکم کیا اور یہاں کی عوام کو روزگار فراہم کیا تھا۔ایک بہتر تعلیمی نظام کے ذریعہ سے یہاں کی نسلوں کو تعلیمی اداروں اور عثمانیہ یونیورسٹی کے قیام سے زیور تعلیم سے آراستہ کیا۔ انہوں نے ڈی اروند سے کہا کہ وہ پہلے نظام دور حکومت کے ترقیاتی کامو ں سے تفصیلی معلومات حاصل کرتے ہوئے دوبارہ عوام میں پہنچ کر حضور نظام سے متعلق نازیبا الفاظ پر معذرت خواہی کریں۔

 

انہوں نے یاد دلایا کہ ن کے خاندان کی ترقی کانگریس پارٹی کی وجہ سے ہے۔ 2004 ء کانگریس پارٹی میں ان کے والد کو پردیش کانگریس کا صدر بنانے کے بعد ان کے خاندان نے بے شمار دولت سمیٹ لی تھی۔انہوں نے کہا کہ نفرت اور اشتعال پر مبنی بیانات کے بجائے انہوں نے ترقیاتی کاموں پر مباحث کرنے کا چیلنج کیا اور کہا کہ گذشتہ 6 سال کے دوران انہوں نے بحیثیت ایم پی مرکزی حکومت کی اسکیمات کو نظام آباد پارلیمانی حلقہ تک پہنچانے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے ہیں

 

۔ نظام آباد تا سکندرآباد ڈبل ریلوے لائن جو دھرم آباد تک پہنچ کر روکدی گئی ہے۔ نظام آباد کے مادھو نگر علاقہ میں ریلوے اوور برج کی تعمیر میں مرکزی حکومت کی جانب سے فنڈس کو روک دئیے جانے کے باعث نا مکمل ہے اور اس کام کو مکمل کرنے میں انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ نظام آباد کے ارسہ پلی سے گذرنے والے ریلوے اوور برج کے سلسلہ میں بار بار مسلمانوں کو متوجہ کرتے ہوئے احسان بتانے کی کوشش پر انہوں نے کہا کہ اس ریلوے اوور برج سے صرف مسلمان ہی نہیں تمام ہی لوگ اس سے استفادہ کریں گے انہوں نے استفسار کیا کہ وہ ہمیشہ سے اس طرح سے گفتگو کرتے ہیں کہ جیسے کہ وہ ارسہ پلی ریلوے برج اپنے آباواجدا د کے ذاتی پیسوں سے تعمیر کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسلمان اس ملک کے باعزت شہری ہیں اور مسلمانوں کے ٹیکس سے یہ ترقیاتی کام انجام دئیے جاتے ہیں

 

۔انہوں نے کہا کہ نظام آباد میں مرکزی حکومت کی کئی فلاحی اسکیمات کو آج تک روشناس نہیں کرایا گیا اور نہ ہی نظام آباد کی ترقی کیلئے مرکز سے فنڈس فراہم کئے گئے۔ ’’صرف ہندو مسلم، نظام آباد اندور“ سبزاور زعفرانی رنگوں کے نام پر وہ عوام کے ذہنوں کو خراب کرنے اور اشتعال دلانے کا کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب جبکہ بلدیاتی انتخابات قریب ہیں وہ ماحول کو خراب کرتے ہوئے اپنے مفادات پورا کرنا چاہتے ہیں۔ماضی میں بھینسہ میں ہوئے فسادات کے نام پر انہوں نے نظام آباد بلدیہ میں کامیابی حاصل کی تھی۔انہوں نے کہا کہ اب نظام آباد کی عوام پوری طرح ان کے ایجنڈہ سے واقف ہوگئے ہیں اور اس مرتبہ صرف ترقی کے ایجنڈہ پر انتخابات ہوں گے۔

 

گذشتہ دوسال کے دوران نظام آباد میں کانگریس پارٹی نے بے مثال ترقیاتی کام انجام دیتے ہیں اور اب بھی کئی کام جاری ہیں۔ انہوں نے ڈی اروند کو خبردار کیا کہ وہ اپنی زبان کو لگام دیں اور اپنی رویہ سے باز آجائیں ورنہ نفرت کے اس ایجنڈہ کو عوام مسترد کرتے ہوئے انہیں سبق سکھائیں گی۔ اس پریس کانفرنس میں قومی تنظیم کے زونل صدر سمیر احمد کے علاوہ سینئر کانگریس قائد و سابق ڈائریکٹر نوڈا اختر بھی موجود تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button