تلنگانہ

تلنگانہ یونیورسٹی میں اردو تحقیق کے جدید تقاضوں پر قومی ورکشاپ کا انعقاد 

جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تحقیق وقت کی اہم ضرورت: وائس چانسلر

تلنگانہ یونیورسٹی میں اردو تحقیق کے جدید تقاضوں پر قومی ورکشاپ کا انعقاد

 

نظام اباد۔ 10/ اپریل (اردو لیکس) تلنگانہ یونیورسٹی پروفیسر ٹی یادگیری راؤ نے عہد حاضر میں یونیورسٹی سطح پر محقق کو تحقیقی کام کو بخوبی انجام دینے کے لیے جدید تقاضوں سے واقفیت کو نہایت ضروری قرار دیا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شعبۂ اردو تلنگانہ یونیورسٹی کے زیر اہتمام یونیورسٹی کالج آف آرٹس اینڈ سائنسں کے سیمینار ہال میں منعقدہ ایک روزہ قومی ورکشاپ بہ عنوان “اردو میں تحقیق کا فن اور عہدِ حاضر کے تقاضے” سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔

 

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ دور میں تحقیق کی اہمیت مسلم ہے اور ہر شعبۂ علم میں معیاری تحقیق کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اور اردو زبان و ادب میں تحقیق کی ایک مضبوط روایت رہی ہے، تاہم عصرِ حاضر کے تقاضے اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہم اپنے تحقیقی طریقۂ کار کو جدید رجحانات اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کریں۔ تحقیق کے طریقہ کار اور مواد کے حصول کے لیے نئے ذرائع کا کما حقہ استعمال کر سکے آج دنیا بدل گئی قدر تبدیل ہو گئی دنیا اسکرین پر آگئی ہے

 

جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کر کے اعلیٰ ارفع تحقیق کام کو انجام دے۔ وائس چانسلر تلنگانہ یونیورسٹی نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ ورکشاپ طلبہ اور ریسرچ اسکالرز کے لیے نہایت مفید ثابت ہوگا اور ان کی تحقیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس دوران انہوں نے شعبۂ اردو کی جانب سے سیمینار وہ ورکشاپ کی بازیافت وہ احیاء پر اور اس بامقصد ورکشاپ کے انعقاد پر صدر شعبۂ اردو و کنوینر ڈاکٹر محمد عبدالقوی، معاون کنوینر ڈاکٹر گل رعنا اور پروفیسر محمد موسیٰ قریشی کو مبارکباد پیش کی

 

اور امید ظاہر کی کہ یہ ورکشاپ طلبہ و محققین کی تحقیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے میں مؤثر ثابت ہوگا۔ قبل ازیں ورکشاپ کے کنوینر ڈاکٹر محمد عبدالقوی صدر شعبہ اردو نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ تحقیق کسی بھی زبان و ادب کی بنیاد اور اس کی ترقی کا ضامن ہوتی ہے۔ اردو زبان و ادب میں تحقیق کی ایک درخشاں روایت موجود ہے، جس نے نہ صرف ہمارے قدیم علمی ورثے کو محفوظ رکھا بلکہ نئے فکری زاویوں اور تنقیدی جہات کو بھی فروغ دیا۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق محض معلومات کا انبار جمع کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک منظم، سائنسی اور تنقیدی عمل ہے، جس کے ذریعے حقائق کو تلاش کیا جاتا ہے، ان کا تجزیہ کیا جاتا ہے

 

اور پھر ایک معروضی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر عبد القوی نے کہا کہ تحقیق دراصل جستجو کا نام ہے سوال کرنے کا نام ہے. اور حقیقت تک رسائی حاصل کرنے کا ایک سنجیدہ سفر ہے۔ یہی جستجو، یہی تلاش اور یہی بے قراری تحقیق کی اصل روح ہے۔ عصرِ حاضر میں تحقیق کے تقاضے نہایت تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ کنوینر ورکشاپ ڈاکٹر قوی نے مزید کہا کہ آج کا دور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، تیز رفتار معلومات اور عالمی روابط کا دور ہے۔ اس بدلتے ہوئے منظرنامے میں محقق کے لیے یہ ناگزیر ہو گیا ہے کہ وہ نہ صرف روایتی علمی اصولوں سے واقف ہو بلکہ جدید تحقیقی ذرائع، ڈیجیٹل وسائل اور سائنسی طریقۂ کار سے بھی آگاہی رکھتا ہو۔

 

آج تحقیق کے میدان میں آن لائن لائبریریاں، ڈیجیٹل آرکائیوز، تحقیقی جرنلز اور مختلف علمی پلیٹ فارمز نے ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تحقیق میں دیانت داری، حوالہ جات کی درستگی اور سرقہ سے مکمل اجتناب جیسے اصولوں کی اہمیت بھی دوچند ہو گئی ہے۔ اسی پس منظر میں اس ورکشاپ کا انعقاد عمل میں لایا گیا ہے تاکہ طلبہ اور ریسرچ اسکالرز کو تحقیق کے بنیادی اصولوں، جدید تقاضوں اور عملی پہلوؤں سے روشناس کرایا جا سکے۔

 

ایک کامیاب محقق وہی ہوتا ہے جو سوال کرتا ہے، جستجو کرتا ہے، تنقیدی انداز میں سوچتا ہے اور حقائق تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

 

اگر آپ تحقیق کے اصولوں کو سمجھ لیں اور جدید وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کریں تو یقیناً آپ نہ صرف ایک کامیاب محقق بن سکتے ہیں بلکہ اردو زبان و ادب کے فروغ میں بھی نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ مہمانِ اعزازی پروفیسر موسیٰ اقبال ڈین فیکلٹی آف آرٹس تلنگانہ یونیورسٹی نے اپنے خطاب میں طلبہ پر زور دیا کہ وہ تحقیق کے بنیادی اصولوں کو گہرائی سے سمجھیں اور جدید وسائل کو مؤثر انداز میں بروئے کار لائیں تاکہ وہ ایک کامیاب محقق بن سکیں۔انہوں نے کہا کہ تحقیق ، ادب یا سائنس کی ہو یا زندگی کے کسی بھی شعبے کی اس کی نوعیت اور اس کی منزل یہی ہوتی ہے کہ تحقیق کا کام سچ کو جھوٹ سے صحیح کو غلط سے الگ کر کے اصل حقیقت کو دریافت کرنا ہے

 

۔ انہوں نے ورکشاپ کے کامیاب انعقاد پر کنوینر ورکشاپ ڈاکٹر عبدالقوی کی کاوشوں کو سراہا۔ ریسورس پرسن ڈاکٹر معید جاوید سابق صدر شعبۂ اردو، عثمانیہ یونیورسٹی نے اپنے فکر انگیز خطاب میں کہا کہ تحقیق ایک مسلسل عمل ہے اور کوئی بھی تحقیق حرفِ آخر نہیں ہوتی۔ انہوں نے طلبہ سے کہا کہ وہ تحقیق میں سائنسی اور تنقیدی اندازِ فکر کو اپنائیں. موضوعات جدید ہو یا قدیم میں تحقیق کوئی مکمل نہیں ہوتی تحقیق در تحقیق کا سلسلہ چلتا رہے گا۔ ڈاکٹر محمد ناظم علی سابق پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج مورتاڈ نے تحقیق کے ذریعے علوم و فنون کے نئے انکشافات ہونے چاہیے

 

۔ انہوں نے تحقیق میں ترقی کو مثالوں سے واضح کیا اور کلاسیکی و جدید ادب دونوں پر تحقیقی کام کی ضرورت پر زور دیا۔ اسی طرح عبدالرحمن داؤدی نے جدید ذرائع جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، آن لائن وسائل اور سوشل میڈیا کے ذریعے مواد کے حصول کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ورکشاپ کے اختتامی تقریب کے موقع پر ڈاکٹر لکشمی چکرورتی اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ تیلگو نے ورکشاپ کو اردو زبان و ادب کے فروغ کے ساتھ ساتھ قومی یکجہتی اور گنگا جمنی تہذیب کے استحکام کے لیے مفید قرار دیا۔

 

مہمان اعزازی پرنسپل کالج آف آرٹس پروفیسر جی رام بابو نے شرکت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ورکشاپ تحقیق کے میدان میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے شرکاء میں اسناد تقسیم کیں۔ اس ورکشاپ کی نظامت ڈاکٹر گل رعنا معاون کنوینر نے انجام دی اور پورے پروگرام کو نہایت خوش اسلوبی سے چلایا۔

 

اور آخر میں تمام شرکاء کا اس ورکشاپ میں شرکت پر اظہار تشکر کیا ۔ ورکشاپ کے مختلف سیشنز میں تحقیق کے بنیادی اصول، جدید تحقیقی طریقۂ کار اور ڈیجیٹل وسائل کے مؤثر استعمال جیسے اہم موضوعات پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ مختلف ڈگری کالجوں سے آئے ہوئے اساتذہ، ریسرچ اسکالرز اور طلبہ کی بھرپور شرکت نے اس علمی نشست کو نہایت کامیابی سے ہمکنار کیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button