تلنگانہ

قانون میں ” ڈیجیٹل گرفتاری” جیسی کوئی چیز نہیں۔ کمشنر پولیس حیدرآباد

حیدرآباد ۔کمشنر پولیس حیدرآباد وی سی سجنار کی جانب سے سائبر جرائم کے خلاف شعور بیداری مہم کو مزید مؤثر بناتے ہوئے ایک نئی ویڈیو جاری کی گئی ہے جس میں عوام کو “ڈیجیٹل اریسٹ” کے نام پر ہونے والے فراڈ سے خبردار کیا گیا ہے۔

 

 

حیدرآباد پولیس کی مسلسل کوشش ہے کہ شہریوں کو بیٹنگ ایپس، آن لائن دھوکہ دہی اور مختلف اسکامس کے بارے میں آگاہ رکھا جائے تاکہ وہ کسی بھی قسم کے سائبر جال میں پھنسنے سے محفوظ رہیں۔حال ہی میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر شیئر کی گئی اس ویڈیو میں کمشنر پولیس نے تفصیل کے ساتھ بتایا کہ کس طرح دھوکہ باز خود کو پولیس افسر ظاہر کرتے ہوئے ویڈیو کال کے ذریعہ معصوم افراد کو ڈراتے، دھمکاتے اور ہراساں کرتے ہیں۔

 

 

وہ فرضی مقدمات اور گرفتاری کا خوف دلا کر متاثرین سے بڑی رقم وصول کرتے ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ تعلیم یافتہ افراد بھی اس جدید طرز کے فراڈ کا شکار ہو کر لاکھوں اور کروڑوں روپے سے محروم ہو رہے ہیں۔اپنے پیغام میں انہوں نے واضح الفاظ میں خبردار کیا کہ پولیس کی وردی یا سرکاری دفتر کا پس منظر دکھا کر کی جانے والی ویڈیو کال پر ہرگز یقین نہ کریں۔

 

 

انہوں نے کہا کہ پولیس کبھی بھی واٹس ایپ یا کسی بھی ویڈیو کال کے ذریعہ تفتیش نہیں کرتی اور نہ ہی رقم طلب کرتی ہے۔ “ڈیجیٹل اریسٹ” جیسی کوئی اصطلاح قانونی طور پر موجود نہیں ہے، لہٰذا اس نام سے ڈرانا سراسر دھوکہ دہی ہے۔کمشنر پولیس نے شہریوں پر زور دیا کہ اگر اس طرح کی کوئی کال موصول ہو تو خوفزدہ ہونے کے بجائے فوری طور پر مستند ذرائع سے تصدیق کریں اور قریبی پولیس اسٹیشن یا سائبر کرائم حکام سے رابطہ کریں۔

 

 

انہوں نے کہا کہ “جاگروت حیدرآباد – سرکشت حیدرآباد” مہم کے تحت ہر شہری کا بیدار اور محتاط رہنا بے حد ضروری ہے تاکہ سائبر مجرموں کے عزائم کو ناکام بنایا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button