امید پورٹل، ایس آئی آر اور قتل کے واقعات پر شعور بیداری کی ضرورت انتخابی فہرستوں کے سلسلہ میں آگے آنے کی اپیل۔ یونائٹیڈ مسلم فورم کا بیان

امید پورٹل، ایس آئی آر اور قتل کے واقعات پر شعور بیداری کی ضرورت
انتخابی فہرستوں کے سلسلہ میں آگے آنے کی اپیل۔ یونائٹیڈ مسلم فورم کا بیان
حیدرآباد 18 دسمبر (پریس نوٹ) یونائٹیڈ مسلم فورم نے امید پورٹل ایس آئی آر اور شہر میں قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ان موضوعات پر عوامی شعور کی بیداری کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
فورم کے ذمہ داران مولانا مفتی سید صادق محی الدین فہیم (صدر)، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین حسینی صابری، مولانا سید شاه حسن ابراهیم حسینی قادری سجاد پاشاہ، مولانا شاہ محمد جمال الرحمن مفتاحی، مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ، جناب ضیا الدین نیئر، جناب سید منیر الدین احمد مختار (جنرل سکریٹری)، مولانا سید شاہ ظہیرالدین علی صوفی قادری، مولانا سید شاہ فضل الله قادری الموسوی، مولانا محمد شفیق عالم خان جامعی، مولانا سید مسعود حسین مجتہدی، مولانا مفتی محمد عظیم الدین انصاری، مولانا سید احمد الحسینی سعید قادری، مولانا سید تقی رضا عابدی، مولانا ابوطالب اخباری، مولانا میر فراست علی شطاری ایڈوکیٹ سپریم کورٹ، مولانا عمر عابدین قاسمی مدنی، جناب ایم اے ماجد، مولانا ڈاکٹر خواجہ شجاع الدین افتخاری حقانی پاشاه، مولانا ظفر احمد جمیل حسامی، مولانا مکرم پاشاه قاری تخت نشین، مولانا مفتی معراج الدین علی ابرار، مولانا عبدالغفار خان سلامی، جناب بادشاہ محی الدین، ڈاکٹر نظام الدین، جناب شفیع الدین ایڈوکیٹ، جناب ضیاء الدین آرکٹکٹ، مولانا سید وصی الله قادری نظام پاشاه، مولانا سید شیخن احمد قادری شطاری کامل پاشاہ، مولانا سید قطب الدین حسینی صابری، ڈاکٹر مشتاق علی، جناب نعیم صوفی اور جناب خلیل الرحمٰن اور دیگر ذمہ داروں نے اپنے مشترکہ بیان میں
اوقافی جائیدادوں کہ امید پورٹل میں اندراج کی مہلت میں تین ماہ کی توسیع کرنے وقف ٹریبونل کے فیصلہ کا خیر مقدم کیا ہے۔ فورم کے ذمہ داروں نے کہا کہ امید پورٹل کی تاریخ میں توسیع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مقررہ وقت میں تمام جائیدادوں کے اندراج کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ اس کے لیے رضاکارانہ طور پر آن لائن مفت خدمات کی سہولتیں فراہم کرنے کے ضمن میں رہنمائی کی جاسکتی ہے۔ اوقافی جائیدادوں کے اندراج کے لیے مسلمانوں کی مختلف تنظیموں، اداروں اور شخصیات کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے فورم کے ذمہ داروں نے اس سلسلہ میں مختلف تنظیموں و شخصیات کے رول کی ستائش کی ہے۔
فورم کے ذمہ داروں نے الکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی فہرستوں پر انتہائی نظر ثانی (ایس آئی آر) کے عمل پر کہا کہ ریاست بہار کے بعد جو 12 ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں میں میں اس عمل کے دوران مسلمانوں اور پچھڑے طبقات کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ قابل مذمت ہے۔ ریاست مغربی بنگال میں 83 لاکھ رائے دہندگان کو حذف کردیا گیا ہے، جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ بہار میں بھی ایسا ہی کیا گیا تھا۔ اترپردیش سے موصولہ اطلاعات کے مطابق اس عمل کے دوران 3 کروڑ ووٹرس کو حذف کیے جانے کے اندیشے ظاہر کیے گئے ہیں۔
اس تناظر میں تلنگانہ و آندھراپردیش بالخصوص شہر حیدرآباد کی عوام کو ایس آئی آر کے لیے تیار رہنے کی اپیل کی گئی ہے۔ پولنگ بوتھ کی سطح پر ووٹرس والینٹرس کی تجویز پیش کرتے ہوئے فورم کے ذمہ داروں نے کہا کہ الکشن کمیشن کے ایس آئی آر کے ذریعہ حکومت (این آر سی) نیشنل رجسٹریشن آف سٹیزنس کو نافذ کررہی ہے۔ اس لیے ووٹرس والینٹرس کی تعیناتی کے لیے مسلمانوں کی تنظیموں، جماعتوں اور فکر مند شخصیات کو آگے آنا چاہیے، تاکہ ایس آئی آر کے لئے دستاویزات کی تیاری کے عمل میں رہنمائی کی جاسکے۔
شہر حیدرآباد میں قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے فورم کے ذمہ داران نے اس سلسلہ میں عوامی شعور کی بیداری اور ایک صالح وہ مہذب معاشرے کی تشکیل کی ضرورت پر زور دیا۔ فورم نے قاتلوں کے سماجی بائیکاٹ کی بھی تجویز پیش کی ہے۔ شہر و اضلاع میں شادیوں میں بڑھتے ہوئے اصراف پر فورم نے عوامی شعور کو جھنجوڑتے ہوئے اس رجحان کے تدارک پر زور دیا۔ شادیوں میں ناچ گانے، تلوار، گن کلچر کے مظاہرے اقدار کی پستی کو ظاہر کررہے ہیں۔
فورم نے آئمہ مساجد و خطیب صاحبان سے اپیل کی ہے کہ وہ جمعہ کے خطبات اور دیگر مجالس اور جلسوں میں ان موضوعات پر عوام کی رہنمائی کریں۔



