خلیجی ہجرت کی انوکھی داستان – دلت سے ڈورا تک کا سفر – اپنی ہی زندگی میں بنائی قبر میں تدفین

خلیجی ہجرت کے اثرات: دلت سے ڈورا تک کا سفر، 10 لاکھ روپے کی لاگت سے اپنی قبر تعمیر کرنے کی انوکھی داستان
جدہ _ 12 جنوری ( عرفان محمد) خلیجی ممالک کی طرف ہجرت نے بے شمار غریب اور کمزور طبقات و ناخواندہ افرا کی زندگیاں بدل کر رکھ دی ہیں اور انہیں خوشحال بنا دیا ہے۔ تلنگانہ، رائلسیما یا گوداوری اضلاع کے دیہی علاقوں کی زندگی آج خلیجی کمائی کے بغیر ادھوری محسوس ہوتی ہے۔
1970 کی دہائی میں اندرا گاندھی کے دور میں مکانات کے پلاٹس کی تقسیم کے ساتھ ساتھ روزگار کے لیے خلیجی ممالک کی جانب ہجرت نے ریاست میں دلت برادری کے معاشی حالات بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔
تلنگانہ کے جگتیال ضلع کے ایک گاؤں میں کبھی ایک وقت کی روٹی کو ترسنے والا یتیم شخص زندگی کی سختیاں جھیلتے ہوئے خوشحال بنا اور اپنی حیات ہی میں آخرت کے سفر کی تیاری کر لی۔ ہفتہ کے روز اسی قبر میں اس کی تدفین عمل میں آئی جسے اس نے خود تیار کروایا تھا۔
عام طور پر لوگ موت کے ذکر سے گھبرا جاتے ہیں، مگر دبئی سے لوٹنے والے نکا اندریاہ نے موت کو خوش دلی سے قبول کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس نے اپنی آخری آرام گاہ کے لیے خود جگہ منتخب کی۔
گاؤں کے مقامی افراد کے مطابق، اندییا نے 9 سال قبل لکشمی پور میں اپنی قبر 10 لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر کروائی۔ اس میں اعلیٰ معیار کا سنگِ مرمر، آرکیٹیکچرل ڈیزائن اور تمل ناڈو سے آئی ماہر معماروں کی ٹیم کی خدمات لی گئیں۔
سنگِ مرمر کی یادگار کی دیکھ بھال نازک ہوتی ہے، اسی لیے اندییا روزانہ قبر کی صفائی اور پالش کرتا اور اطراف میں لگے پودوں کو پانی دیتا تھا۔
ایک ہفتے کی علالت کے بعد اندییا کا انتقال ہوگیا اور ہفتہ کے روز اسی قبر میں تدفین کی گئی جسے وہ برسوں سے سنوارتا آیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ قبر کی تعمیر کے بعد اس کی اہلیہ کا انتقال ہوا تھا اور انہیں بھی وہیں سپردِ خاک کیا گیا تھا۔
اندییا خلیجی ہجرت کی اُس نئی، بااعتماد اور قدرے نمایاں مردانگی کی علامت ہے جو کمائی، خرچ اور دولت کے حصول سے پہچانی جاتی ہے۔ وہ 1970 کی دہائی میں اُس وقت دبئی پہنچا جب شہر کی ترقی کا آغاز ہو رہا تھا اور بیرونِ ملک سے مزدوروں کو متوجہ کیا جا رہا تھا۔ ناخواندہ ہونے کے باوجود اس نے تعمیراتی مزدور کے طور پر سفر شروع کیا اور بعد ازاں اپنی کمپنی قائم کرلی۔
غریب دلت ذات کے بے زمین مزدور خاندان میں پیدا ہونے والے اندریاہ نے کم عمری میں والد کو کھو دیا اور گاؤں میں ایک مقامی زمیندار کے یہاں بطور چائلڈ لیبر کام کیا۔ کچھ عرصہ ممبئی میں گزارنے کے بعد وہ دبئی منتقل ہوا، جہاں اس نے اپنی زندگی کے تقریباً 45 برس بسر کئے اور گاؤں کے خوشحال ترین افراد میں شمار ہونے لگا۔
محبت اور جذبات کے تحت وہ اپنے آبائی گاؤں لوٹا، جہاں کبھی ایک وقت کی روٹی بھی مشکل تھی۔ اس نے وسیع اراضی پر ایک اسکول کی عمارت تعمیر کروائی اور گاؤں کے لیے شاندار داخلی دروازہ بھی بنوایا۔
اندییا نے ایک خوبصورت چرچ تعمیر کروایا، عیسائیت قبول کی اور اپنا نام جاہن رکھا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ گاؤں میں مندر اور مسجد کی تعمیر کے لئے بھی سب سے بڑا عطیہ دہندہ رہا اور دیگر فلاحی کاموں میں فراخ دلی سے تعاون کرتا رہا۔




