تلنگانہ

سپریم کورٹ از خود کاروائی کرکے چیف منسٹر آسام کو جیل بھیج دے صدر جمہوریہ سے ہیمنت بسوا شرما کو عہدہ سے برخواست کرنے یونائٹیڈ مسلم فورم کی اپیل

سپریم کورٹ از خود کاروائی کرکے چیف منسٹر آسام کو جیل بھیج دے

صدر جمہوریہ سے ہیمنت بسوا شرما کو عہدہ سے برخواست کرنے یونائٹیڈ مسلم فورم کی اپیل

 

حیدرآباد یکم فروری (پریس نوٹ) یونائٹیڈ مسلم فورم نے آسام کے چیف منسٹر ہیمنتا بسوا شرما کی جانب سے آسام میں رہنے والے مسلمانوں کے خلاف کی جارہی مسلسل بیان بازیوں، بنگالی بولنے والے مسلمانوں (میاں) کے سماجی، معاشی بائیکاٹ، ان کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے ریاست سے بیدخل کرنے کی دی گئی دھمکیوں کو ملک کے دستور کے خلاف قرار دیتے ہوئے، اس چیف منسٹر کو فوری عہدہ سے برخواست کرنے کی صدر جمہوریہ سے اپیل کی۔ فورم نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ از خود ریاست کے اس دستوری عہدہ کے حامل شخص کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرکے اسے جیل بھیج دے۔

 

فورم کے ذمہ داران مولانا مفتی سید صادق محی الدین فہیم (صدر)، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین حسینی صابری، مولانا سید شاه حسن ابراهیم حسینی قادری سجاد پاشاہ، مولانا شاہ محمد جمال الرحمن مفتاحی، مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ، جناب ضیا الدین نیئر، جناب سید منیر الدین احمد مختار (جنرل سکریٹری)، مولانا سید شاہ ظہیرالدین علی صوفی قادری، مولانا سید شاہ فضل الله قادری الموسوی، مولانا محمد شفیق عالم خان جامعی، مولانا سید مسعود حسین مجتہدی، مولانا مفتی محمد عظیم الدین انصاری، مولانا سید احمد الحسینی سعید قادری، مولانا سید تقی رضا عابدی، مولانا ابوطالب اخباری، مولانا میر فراست علی شطاری ایڈوکیٹ سپریم کورٹ، مولانا عمر عابدین قاسمی مدنی، جناب ایم اے ماجد، مولانا ڈاکٹر خواجہ شجاع الدین افتخاری حقانی پاشاه، مولانا ظفر احمد جمیل حسامی، مولانا مکرم پاشاه قادری تخت نشین، مولانا مفتی معراج الدین علی ابرار، مولانا عبدالغفار خان سلامی، جناب بادشاہ محی الدین، ڈاکٹر نظام الدین، جناب شفیع الدین ایڈوکیٹ، جناب ضیاء الدین آرکٹکٹ، مولانا سید وصی الله قادری نظام پاشاه، مولانا سید شیخن احمد قادری شطاری کامل پاشاہ، مولانا سید قطب الدین حسینی صابری، ڈاکٹر مشتاق علی، جناب نعیم صوفی اور جناب خلیل الرحمٰن اور دیگر ذمہ داروں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ گزشتہ چند سال سے آسام میں مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ سے تنگ کردیا جارہا ہے۔ مسلمانوں کی غالب آبادی والے کئی دیہاتوں کو بلڈوزر کاروائی کے ذریعہ اجاڑ دیا گیا ہے۔

 

آسام میں الکشن کمیشن کی جانب سے جاری فہرست رائے دہندگان کی خصوصی نظر ثانی کے دوران چیف منسٹر کھلے عام 4 سے 5 لاکھ مسلمانوں کے ناموں کو خارج کروانے اپنی پارٹی کے کارکنوں کو ہدایت دے رہا ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف اعتراضات کا فارم بھر کر ان کے ناموں کو ہٹادیں ۔ اس کھلے عام بیان کے باوجود الیکشن کمیشن جو فہرست رائے دہندگان پر نظر ثانی کا ذمہ دار ہے خاموش ہے۔

 

ایک چیف منسٹر مسلمانوں کے معاشی بائیکاٹ کی اپیل کررہا ہے۔ مسلمان جو گذر بسر کے لئے میوہ، ترکاری یا دیگر اشیاء فروخت کرتے ہیں ان سے نہ خریدنے اور نہ انہیں اشیاء فروخت کرنے کا انتباہ دے رہا ہے۔ رکشا چلانے والے مسلمانوں کو کرایہ کم دینے کا مشورہ کررہا ہے۔

 

چیف منسٹر شرما جس نے دستور پر حلف لےکر عہدہ سنبھالا ہے، عوام سے کہہ رہا ہے کہ مسلمانوں کو اتنا تنگ کرو کہ وہ ریاست چھوڑ کر چلے جائیں۔ عہدے پر رہتے ہوتے اس نے سماج کو تقسیم کرنے کی سازش کی ہے۔ اس ریاست میں قانون کی حکمرانی پر یہ ایک سوال ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی سے ایسی کوئی امید نہیں ہے کہ وہ غیر دستوری، غیرقانونی ان حرکتوں کو روکیں۔

 

فورم کے ذمہ داروں نے صدر جمہوریہ سے فوری مداخلت کرنے اور اس چیف منسٹر کو برخواست کرنے کی اپیل کی ہے، ساتھ ہی سپریم کورٹ جو ملک میں قانون و دستور کا نگہبان ہے، عدالت عظمیٰ سے چیف منسٹر آسام کے خلاف ازخود کاروائی کی اپیل کی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button