جنرل نیوز

معراج: پیغامِ علم کی فکری نشست سے چیئرمین لینگویجز ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کااظہار خیال

معراج: پیغامِ علم کی فکری نشست سے چیئرمین لینگویجز ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کااظہار خیال

حیدرآباد28ڈسمبر(پریس ریلیز)

چیئرمین لینگویجز ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے آج صدر دفتر، بنجارہ ہلز روڈ نمبر 12 پر منعقدہ فکری نشست بعنوان ’’تسخیرِ کائنات اور واقعۂ معراج‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرآنِ حکیم نے انسان کو زمین و آسمان کی تسخیر کا پیغام دے کر فکر و تدبر، علم و تحقیق اور عقلِ انسانی کی بیداری کا وہ ابدی منشور عطا کیا ہے جو قیامت تک انسانی ترقی کی بنیاد رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ قرآنِ مجید کا اعلان ہے کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب انسان کے لیے مسخر کیا گیا، مگر اس تسخیر کا شرف انہی اقوام کو نصیب ہوگا جو تفکر و تدبر کو اپنا شعار بنائیں۔ غور و فکر، تحقیق و جستجو اور علم کی پیاس ہی وہ کنجیاں ہیں جو کائنات کے بند دروازوں کو کھولتی ہیں۔ قرآن بار بار انسان کو جھنجھوڑ کر کہتا ہے: افلا تعقلون—کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟

مولانا قادری نے واقعۂ معراج کی معنوی عظمت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ سفرِ معراج صرف ایک معجزہ نہیں بلکہ عالمِ انسانیت کے لیے تسخیرِ کائنات کی عملی شہادت ہے۔ یہ واقعہ انسان کو بتاتا ہے کہ جب عقل، ایمان اور علم ہم آہنگ ہو جائیں تو ناممکن، ممکن میں بدل جاتا ہے۔ قرآن کی آیاتِ تسخیر اور آفاق و انفس میں غور کی دعوت آج کے سائنسی انکشافات میں اپنی روشن تعبیر پاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ رسولِ اکرم ﷺ نے اپنی سیرتِ طیبہ کے ذریعے علم کو امت کا طرۂ امتیاز بنایا۔ غزوۂ بدر کے قیدیوں سے تعلیم کو فدیہ قرار دینا، قلم و قرطاس کی حرمت سکھانا اور قوم میں تحقیق و تجزیہ کا مزاج پیدا کرنا—یہ سب وہ روشن نقوش ہیں جنہوں نے صحرا نشین قوم کو علم و حکمت کی قیادت تک پہنچایا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے صدیوں تک دنیا کو علم، فلسفہ، سائنس اور تہذیب کے چراغ عطا کیے۔

چیئرمین لینگویجز ڈویلپنٹ آرگنائزیشن نے تسخیرِ ماہتاب کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ قرآن کی آیات نے صدیوں قبل جس حقیقت کی خبر دی تھی، وہ آج انسانی تاریخ کا حصہ بن چکی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن اللہ کا علم ہے اور انسان اپنے علم کی تمام وسعتوں کے باوجود خالق کے علم کا احاطہ نہیں کرسکتا۔ جو حقیقت آج انسانی مشاہدے میں آتی ہے وہ علم کہلاتی ہے، اور جو ابھی پردۂ غیب میں ہے وہ کل کی روشن حقیقت بن سکتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ عقل اپنی حدود رکھتی ہے، اس لیے ایمان بالغیب مسلمان کی اساس ہے۔ سائنس معجزات کی عقلی بنیادیں فراہم کرتی ہے مگر وحی ان کی اصل حقیقت سے روشناس کراتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت آشکار ہوتی جارہی ہے کہ قرآن کی پیشین گوئیاں انسانی ترقی کے ہر مرحلے پر صداقت کی مہر ثبت کر رہی ہیں۔

آخر میں مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ واقعۂ معراج کا سب سے بڑا درس حصولِ علم، فروغِ تحقیق اور مسلسل فکری ارتقا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر امتِ مسلمہ دوبارہ اپنی علمی و تہذیبی قیادت حاصل کرسکتی ہے۔ انہوں نے دعا کے ساتھ اپنی بات مکمل کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس نبوی دعا کا سچا وارث بنائے: ’’رَبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا‘‘—اے پروردگار! میرے علم میں اضافہ فرما۔

متعلقہ خبریں

Back to top button