ایجوکیشن

ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی کا سفرمولانا آزاد کے وژن سے ہم آہنگ ، بانی و چیئرمین محمد لطیف خان کا مانو میں بصیرت افروز خطاب

یونیورسٹی میں حیدرآباد کے طلبہ کی تعداد بڑھانے کے لیے بھرپور تعاون کا عزم

حیدرآباد19 ڈسمبر ۔ پریس ریلیز/مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی کے بانی و چیئرمین محمد لطیف خان کو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر سید عین الحسن کے ہاتھوں باقاعدہ طور پر تہنیت پیش کی گئی۔مانو المنائی اسوسی ایشن نے اس تقریب کا انعقاد محمد لطیف خان کو تعلیم اور سماجی خدمات کے اعتراف میں حکومت تلنگانہ کی جانب سے پیش مولانا ابوالکلام آزاد نیشنل ایوارڈ ملنے پر کیا تھا۔

 

اس موقع پر مہمان خصوصی محمد لطیف خان نے ایک جامع اور فکرانگیز خطاب کرتے ہوئے اپنی تعلیمی جدوجہد کو عظیم مفسر قرآن، مجاہد آزادی اور ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کے افکار اور وژن سے جوڑا۔محمد لطیف خان نے کہا کہ ان کا تعلیمی سفر محض ایک پیشہ ورانہ انتخاب نہیں بلکہ حضرت مولانا ابوالکلام آزاد رحمتہ اللہ علیہ کے تعلیمی فلسفے کا عملی تسلسل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی ابتدائی تعلیم جس اسکول میں ہوئی اس کا نام مولانا آزاد میموریل ہائی اسکول ہے اور ایم ایس کی بنیاد بھی وہیں سے پڑی جب اسی کیمپس سے کلاسس کا آغاز کیا گیاتھا۔ انہوں نے اردو زبان کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اردو ہماری تہذیبی شناخت اور فکری وراثت کی بنیاد ہے اسی لیے ایم ایس اداروں میں اردو کو لازمی مضمون بنایا گیا تاکہ نئی نسل اپنی زبان اور ثقافت سے جڑی رہے۔

 

انہوں نے واضح کیا کہ اردو جاننے والے طلبہ کے لیے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ایک غیر معمولی موقع ہے جہاں معیاری اعلی تعلیم جدید انفراسٹرکچر اور سازگار تعلیمی ماحول میسر ہے۔ ان کے مطابق اگر طلبہ اسکولی سطح سے اردو کے ساتھ وابستہ رہیں تو مانو میں داخلہ ان کے لیے آسان ہو جاتا ہے تاہم افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حیدرآباد جیسے بڑے شہر سے آنے والے طلبہ کی تعداد اب بھی کم ہے۔

 

محمد لطیف خان نے ایلومنائی ایسوسی ایشن کے صدر ایڈووکیٹ اعجاز قریشی کی اس تجویز کا خیرمقدم کیا کہ طلبہ کو مانو کے کیمپس وزٹس کرائے جائیں تاکہ وہ یونیورسٹی کے ماحول اور سہولتوں کو قریب سے دیکھ سکیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی اپنے طلبہ کو منظم انداز میں مانو کے مطالعاتی دوروں پر لے جانے کے لیے عملی اقدامات کرے گی انہوں نے مزید بتایا کہ آج ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی کے تحت ملک بھر میں ایک سو تریسٹھ سے ادارے قائم ہیں جہاں تقریباً تیس ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ صرف تعلیمی نتائج تک محدود نہیں بلکہ کردار سازی نظم زندگی اور تربیت پر بھی خصوصی توجہ دیتا ہے جس کی ایک مثال مشن فجر جیسی اصلاحی مہم ہے۔

 

محمد لطیف خان کے خطاب سے قبل وائس چانسلر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی پروفیسر سیدعین الحسن نے حیدرآباد میں یونیورسٹی کی موجودگی کے باوجود مقامی طلبہ کے کم داخلوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ عثمانیہ یونیورسٹی کی تاریخی شناخت مانو کے بارے میں آگاہی کی کمی اور اردو یونیورسٹی کو صرف زبان تک محدود سمجھنا اس کی بڑی وجوہات ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایلومنائی ایسوسی ایشن کے تعاون سے مدارس اور تعلیمی اداروں کے طلبہ کے لیے کیمپس وزٹس براہ راست ملاقاتیں جدید شعبہ جات کی تشہیر اسکالرشپس اور ہاسٹل سہولیات جیسے اقدامات کیے گئے ہیں جن کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔اس موقع پر محمد لطیف خان نے حیدرآباد کے طلبہ کے لیے خصوصی کوٹہ مقرر کرنے کی تجویز کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس کی بھرپور حمایت کی اور یقین دلایا کہ ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی اپنے تعلیمی نیٹ ورک کے ذریعے زیادہ سے زیادہ اہل طلبہ کو مانو سے جوڑنے میں تعاون کرے گی۔

 

اس موقع پر تقریب کی ابتداء میں مانو المنائی اسوسی ایشن کے صدر ایڈووکیٹ اعجاز علی قریشی نے خیرمقدم کیا ،ڈاکٹر محمدمصطفی سروری اسوسی ایٹ پروفیسر نے نظامت کے فرائض انجام دیے جبکہ سابق طلبہ نے اردو یونیورسٹی سے تعلیم کو اپنی کامیابی کا راز قرار دیتے ہوئے تاثرات پیش کیے۔ اختتام پر مانو المنائی اسوسی ایشن کے کوآرڈینیٹرپروفیسرسید نجم الحسن نے اظہار تشکر کیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button