اردو یونیورسٹی کی اسکالر جویریہ ارم کی نمایاں کامیابی۔عالمی اہمیت کے حامل رسالہ میں دو آرٹیکلس کی اشاعت

حیدرآباد، 22 اکتوبر (پریس نوٹ) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی اسکالر جویریہ ارم کے دو تحقیقی مقالے عالمی معیار کے جرنل ‘سائنٹفک رپورٹس’ میں شائع ہوئے ہیں۔ جویریہ ارم ڈپارٹمنٹ آف فزکس کی پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ واضح رہے کہ ’سائنٹفک رپورٹ‘ ایک ممتاز جریدہ جس میں سائنس کے تمام شاخوں جیسے نباتیات، حیوانیات، کیمیائ، طبیعات وغیرہ پر تحقیقی مقالے شائع ہوتے ہیں۔
جویریہ ارم کی یہ تحقیق ایک بین شعبہ جاتی اشتراک کا حصہ ہے۔ ان کا یہ مقالہ 20 اکتوبر 2025 کو شائع ہوا ہے، جس کا عنوان "Multiscale Structural and Crystallographic Characterisation of Pigeon Eggshells and Membranes as an Evolutionary Model for Biomimetic Applications” ہے۔ اس تحقیق میں ایک انوکھا اور ارتقائی نمونہ پیش کیا گیا ہے جو یہ بتاتا ہے کہ پرندوں کے انڈوں کے خول کی نینو ساخت اور قلمیت ماحولیاتی ہم آہنگی کے تحت کیسے تشکیل پاتی ہے۔
اس سے قبل ان کا پہلا مقالہ 9 اکتوبر 2025 کو شائع ہوا تھا جس کا عنوان "Terahertz Time Domain Spectroscopy Technique Used for Evaluation of Thickness and Optical Cum Dielectric Properties of Table and Fertile Eggshells” ہے۔ مانو کی اسکالر جویریہ ارم کی یہ تحقیق یونیورسٹی آف حیدرآباد کے اشتراک سے عمل میں آئی، جس میں پہلی بار ٹیراہرٹز سپیکٹروسکوپی کو ایک غیر مداخلتی تشخیصی آلے کے طور پر استعمال کیا گیا تاکہ عازلیت کی خصوصیات کی بنیاد پر تولیدی اور غیر تولیدی انڈوں میں فرق کیا جاسکے۔ یہ تحقیق پولٹری انڈسٹری میں معیار اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے حوالے سے یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔
جویریہ ارم کی اس تحقیق کے لیے پروفیسر علیم باشا، ڈین ، اسکول آف سائنسز، اردو یونیورسٹی کے علاوہ ڈاکٹر کلیم جلیلی، نظام کالج (عثمانیہ یونیورسٹی) اور پروفیسر رفیق ابو طُراب، صدر شعبہ فزکس، مانو کی سرپرستی حاصل ہے۔مانو کے اسکالر کی اس نمایاں تحقیقی کاوش پر پروفیسر سید عین الحسن، وائس چانسلر، اور پروفیسر
اشتیاق احمد، رجسٹرار، نے مبارکباد پیش کیں۔ اور بین شعبہ جاتی اور پائیدار سائنسی تحقیق میں ان کے نمایاں کردار کی تعریف کی۔



