کانگریس قائد گورو گوگوئی پاکستانی ایجنٹ چیف منسٹر آسام کا سنسنی خیز الزام

نئی دہلی: کانگریس گورو گوگوئی پر آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما نے شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گورو گوگوئی کے پاکستانی ایجنٹ علی توقیر شیخ سے روابط ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایجنٹ 2010 سے 2013 کے درمیان 13 مرتبہ بھارت آیا اور دنیا بھر میں بھارت مخالف پروپیگنڈہ کرتا رہا۔
یہ بات ہمانتا بسوا سرما نے گوہاٹی میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کہی۔انہوں نے کہا”پاکستانی ایجنٹ علی کے گورو گوگوئی ان کی اہلیہ اور برطانوی شہری الزبتھ سے قریبی تعلقات ہیں۔ ایک پاکستانی ادارے نے الزبتھ کو ملازمت دی اور بعد میں انہیں بھارت منتقل کیا گیا۔ ان کی تنخواہ علی ادا کرتا تھا۔
بعد ازاں جب وہ ایک بھارتی ادارے میں کام کر رہی تھیں تو وہ چھ مرتبہ اسلام آباد گئیں۔ ایک اور غیر سرکاری تنظیم میں شامل ہونے کے بعد انہوں نے تین بار پاکستان کا دورہ کیا۔ کسی کو شک نہ ہو اس لیے وہ صرف اٹاری سرحد کے راستے سفر کرتی تھیں اور کبھی ہوائی جہاز استعمال نہیں کیا۔
الزبتھ کو دی گئی ادائیگیوں میں ایف سی آر اے قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ وہ بھارت سے متعلق معلومات اکٹھی کر کے علی کو رپورٹس بھیجتی تھیں۔ وزیر اعظم مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے ماحولیاتی اقدامات سے متعلق خفیہ ایجنسیوں سے معلومات حاصل کیں۔
دوسری جانب گورو گوگوئی نے اپنی انتخابی حلف نامے میں اپنی اہلیہ کے پاکستانی بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔گورو گوگوئی نے خود بھی شادی سے قبل 2013 میں خفیہ طور پر پاکستان کا دورہ کیا۔ اس وقت وہ آسام کے وزیر اعلیٰ کی سرکاری رہائش گاہ میں مقیم تھے۔
اگرچہ انہیں صرف لاہور جانے کا ویزا ملا تھا لیکن انہوں نے اسلام آباد اور کراچی کا بھی دورہ کیا۔ اس سفر کے بارے میں انہوں نے آسام پولیس کو کوئی اطلاع نہیں دی۔ دس دن کے قیام کے دوران وہ ڈیجیٹل دنیا سے مکمل طور پر غائب رہے۔ ہمیں شبہ ہے کہ وہاں انہیں کسی قسم کی تربیت دی گئی۔
اس سفر کے بعد انہوں نے پارلیمنٹ میں دفاعی آلات اور جوہری بجلی گھروں سے متعلق سوالات اٹھائے۔جب اس معاملے پر آسام حکومت نے تفتیش شروع کی تو پاکستانی ایجنٹ نے اپنی تمام ٹوئٹس حذف کر دیں۔ ہمیں یقین ہے کہ گورو گوگوئی اور ان کی اہلیہ کے اس ایجنٹ سے روابط ہیں۔
ہم نے ابھی تک پڑوسی ملک سے تعلقات کے معاملے پر گورو گوگوئی سے پوچھ گچھ نہیں کی ہے۔ ان کے عہدے کا احترام کرتے ہوئے ہم نے یہ معاملہ مرکز کے سپرد کیا ہے۔ ہم اس پورے معاملے کی مرکزی سطح پر جانچ کی سفارش کر رہے ہیں۔”



