روس سے تیل کی فراہمی جاری۔ حکومت ہند

نئی دہلی: حکومت کے مطابق ہندوستان کے لیے سب سے بڑا تیل فراہم کرنے والا ملک اب بھی روس ہے۔ عالمی سیاسی دباؤ کے باوجود بھارت نے روس سے تیل کی خریداری کے لیے کسی دوسرے ملک کی اجازت پر انحصار نہیں کیا۔
گزشتہ ماہ بھی روس سے تیل کی درآمد جاری رہی۔گزشتہ چار برسوں میں بھارت میں تیل کی قیمتیں نسبتاً مستحکم رہی ہیں۔ 2022 سے فروری 2026 تک دہلی میں پٹرول کی قیمت میں 0.67 فیصد کمی آئی جبکہ اسی عرصے میں
پاکستان میں 55 فیصد اور جرمنی میں 22 فیصد اضافہ ہوا۔ بتایا گیا ہے کہ صارفین پر بوجھ کم رکھنے کے لیے سرکاری تیل کمپنیوں نے پٹرول اور ڈیزل پر تقریباً 24,500 کروڑ روپے اور ایل پی جی پر 40,000 کروڑ روپے کا نقصان برداشت کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 12 سالوں میں ملک میں کسی بھی پٹرول پمپ پر ایندھن کی قلت نہیں ہوئی۔ملک میں پٹرول میں 20 فیصد ایتھنول ملا کر استعمال کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے اب تک 44 ملین بیرل خام تیل کا متبادل
حاصل ہو چکا ہے۔بھارت میں سالانہ تیل کی طلب تقریباً 210 سے 230 ملین میٹرک ٹن ہے جبکہ ملک کی ریفائننگ صلاحیت بڑھ کر 258 ملین میٹرک ٹن تک پہنچ چکی ہے۔



