ممبئی کے ایک ڈی مارٹ میں مسلم خاتون کے ساتھ نفرت انگیز سلوک، ریپ کی دھمکی؛ ویڈیو وائرل ہونے پر پولیس حرکت میں

ویرار ڈی مارٹ میں مسلم خاتون کے ساتھ نفرت انگیز سلوک، ریپ کی دھمکی؛ ویڈیو وائرل ہونے پر پولیس حرکت میں
ممبئی کے ویرار علاقے میں واقع ڈی مارٹ میں ایک مسلم خاتون کو برقعہ پہن کر خریداری کرنے پر مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا۔ اتوار کے روز پیش آئے اس واقعہ میں ایک ہندو جوڑے نے مسلم خاتون اور ان کے شوہر کے ساتھ نہ صرف بدتمیزی کی بلکہ خاتون کو ریپ کی دھمکی بھی دی۔ واقعہ میچی وہار کے یشونت گورو رہائشی علاقے میں واقع ڈی مارٹ اسٹور کا بتایا جا رہا ہے۔
متاثرہ خاتون کے مطابق وہ اپنے شوہر کے ساتھ قطار میں کھڑی تھیں کہ سامنے موجود ہندو جوڑے نے ان کے حجاب کو دیکھ کر نفرت انگیز اور توہین آمیز ریمارکس کیے۔ ویڈیو میں سنا جا سکتا ہے کہ انہیں “گندی ذات” کہہ کر دور رہنے کو کہا گیا۔ جب شوہر نے اعتراض کیا تو ہندو خاتون کے شوہر نے برہم ہو کر مسلم خاتون کو باہر نکلنے اور آدمیوں کو بلا کر ریپ کرانے کی دھمکی دی۔
خاتون کا الزام ہے کہ اس دوران اسٹور میں موجود دیگر گاہکوں اور ڈی مارٹ کے عہدیداروں نے مداخلت نہیں کی، بلکہ الٹا مسلم جوڑے سے مراٹھی میں بات کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور مبینہ طور پر یہ کہا گیا کہ اگر وہ مراٹھی میں بات نہیں کریں گے تو آئندہ اسٹور میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
واقعہ کے بعد متاثرہ جوڑا پولیس اسٹیشن پہنچا، تاہم خاتون کا کہنا ہے کہ رات دیر گئے تک شکایت پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق موقع پر تقریباً آٹھ پولیس اہلکار موجود تھے، لیکن ہندو جوڑے کو جانے دیا گیا، شکایت درج کرنے سے انکار کیا گیا اور اس وقت کوئی خاتون کانسٹیبل بھی موجود نہیں تھی۔ بعد ازاں اگلے دن ایک صحافی کی مدد سے ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئی، جس کے بعد پولیس متحرک ہوئی اور کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
اسی دوران ڈی مارٹ انتظامیہ نے خاتون سے معذرت کی، تاہم متاثرہ خاتون نے الزام عائد کیا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم کرنے سے انکار کیا گیا اور مبینہ طور پر مسلمانوں کے داخلے سے متعلق نامناسب باتیں کی گئیں۔ خاتون کا یہ بھی کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے بار بار پولیس اسٹیشن بلا کر ہراساں کیا جا رہا ہے اور مخالف جوڑے سے معافی مانگنے کا دباؤ ڈالا جا رہا ہے، جسے انہوں نے مسترد کر دیا۔



