دستورکی دھجیاں اڑائی جائے تو سپریم کورٹ کیسے خاموش رہ سکتا ہے!

ڈاکٹر شجاعت علی صوفی آئی آئی ایس‘پی ایچ ڈی
ـCell : 9705170786
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے
نتیش کمار کا ٹوپی پہننے سے انکار
ہر ایک گھر میں دیا بھی جلے اناج بھی ہو
اگر نہ ہو کہیں ایسا تو احتجاج بھی ہو
اس وقت ملک میں دو انقلاب چل رہے ہیں۔ ایک سپریم کورٹ میں اور دوسرا سڑکوں پر۔
راہول گاندھی کی ’ووٹ ادھیکار یاترا‘ ایک طرف عدلیہ اپنے اختیارات کو لے کر پریشان ہے۔اپوزیشن قائدین جمہوریت کے اقدار کے گرنے پر حیران ہیں۔ سپریم کورٹ میں چل رہے صدارتی ریفرنس سے متعلق کیس پر عدالت العالیہ نے اس تاثر کااظہار کیا کہ وہ دستور کا نگہبان ہے تو وہ دستور کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے کیسے دیکھ سکتا ہے؟ ٹاملناڈو سے متعلق یہ وہ کیس ہے جہاں گورنر نے ایک قانون کو 4 سال تک اپنے دفتر میں دبائے رکھا، جس کے خلاف ٹاملناڈو سرکار نے سپریم کورٹ کا رخ کیا اور دریافت کیا کہ اگر کوئی بل گورنر کے راج بھون میں سالوں تک دبا رہے تو پھر ریاستی سرکاریں کیسے چل پائیں گی۔ چیف جسٹس کے زیرقیادت چل رہے اس مقدمہ میں سی جے آئی گوائی کے اس زبانی تاثر پر جب سالیسٹر جنرل توشار مہتا نے یہ کہا کہ عدلیہ قانون بنانے والوں کے حقوق پر قبضہ کررہی ہے یا وہ غیرمعمولی دستوری اتھاریٹی رکھنے والے گورنرس اور صدر کے اختیارات پر دخل اندازی کررہی ہے۔
گورنر کے کسی بھی قدم پر سیاسی دخل دیا جانا چاہئے نہ کے سپریم کورٹ وہاں پر اپنے اختیارات کا استعمال کرے۔ سپریم کورٹ یقینا مسائل کو حل کرنے کی دسترس رکھتا ہے لیکن ہر مسئلہ عدالتی دخل اندازی سے ٹھیک کیا جانا کوئی بہتر بات نہیں ہے۔ سالیسٹر جنرل کا یہ بھی کہنا تھا کہ عدالت اپنے اس قانون کو مانے جو نیشنل جوڈیشیل اپائنمنٹ کمیشن کے تحت کیا گیا تھا، جس میں یہ کہا گیا کہ مقننہ بیوروکریسی اور جوڈیشری اپنے اپنے اختیارات سے منسلک رہے۔ اس پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے یہ کہا کہ ہم ہر مسئلہ کو باریکی سے دیکھنا نہیں چاہتے اور نہ ہی ہم سرکاری معاملات میں دخل دینا چاہتے ہیں لیکن جب ایک ادارہ اپنی فرض کی ادائیگی میں کوتاہی کرتا ہے اور وہ کئی برسوں تک ریاست کی کسی بل کو روکے رکھتا ہے تو سپریم کورٹ کیوں کر خاموش بیٹھ سکتا ہے؟ بہرحال سپریم کورٹ کا تاثر جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لئے ایک بہت بڑا قدم ہے کیونکہ ایک منتخبہ حکومت اسمبلی میں کوئی قانون پاش کرتی ہے تو گورنر کو اسے پاس کرنا ضروری ہے، ورنہ جمہوریت کا چلن کمزور پڑ سکتا ہے۔ راہول گاندھی نے اپنی
”ووٹ ادھیکار یاترا“ سے ملک کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اگر جمہوریت کو کمزور کیا جاتا ہے تو ملک کا وجود ہی خطرہ میں پڑ جاتا ہے۔ ان کی بہار میں جاری اِس یاترا سے یہ پیغام ملتا ہے کہ بہار کی سرزمین سے شروع ہونے والی ہر تحریک ہمیشہ کامیاب ہوئی ہے اور یقینا یہ تحریک بھی ملک کو مضبوط کرنے میں اہم رول ادا کرے گی۔ لوگوں میں زبردست جوش ہے جو اِس سچائی کو مضبوط کرتا ہے کہ ہندوستان جمہوریت کا دلدادہ ہے اور کوئی بھی تاناشاہ اس کو کمزور نہیں کرسکتا۔ ہندوستان کے مدبرین نے جو عام طور پر خاموش رہتے ہیں اس ضرورت پر زور دیا کہ جب تک سڑک پر نہیں آیا جاتا تب تک تاناشاہوں کو کمزور کرنے کا کوئی اور ذریعہ نہیں ہوتا۔ آج پورے ملک میں اِس یاترا کا چرچہ ہے اور سبھی لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ تاناشاہی اب نہیں چلے گی۔ ایسا لگتا ہے جمہوری طور پر راہول گاندھی کی جدوجہد اور سپریم کورٹ کے تاثرات دونوں ہی اِس بات کا اشارہ کرتے ہیں کہ ایک نیا
انقلاب آنے کو ہے۔ انڈیا بلاک میں راہول گاندھی کی قیادت کو مان لیا گیا ہے، ان کے احترام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے سبھی کے دلوں میں زبردست جگہ بنالی ہے۔ ان کی سادگی اور ان کی بیباکی نوجوانوں کو بھی بہت زیادہ متاثر کررہی ہے۔ جس جس ملک میں نوجوان حرکت میں آتے ہیں وہاں تبدیلی ناگزیر ہوجاتی ہے۔ سیاسی ماہرین بڑی ذمہ داری سے کہہ رہے ہیں کہ مودی نے جس تیزی کے ساتھ عروج حاصل کیا تھا اسی تیزی کے ساتھ وہ زوال کا شکار ہورہے ہیں۔ ان کے خلاف لگنے والے نعرے اِس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ شخصی وقار سے محروم ہوگئے ہیں۔ اِس دوران ایک موقع پرستانہ بات دیکھنے کو ملی جس میں بہار کے چیف منسٹر نتیش کمار نے ایک مسلمان کی جانب سے پہنائی جانے والی ٹوپی کو قبول کرنے سے انکار کردیا جبکہ یہ وہی نتیش ہیں جنہوں نے کہا تھا کہ جمہوریت میں ٹوپی پہننا اور بٹولگانا بھی ضروری ہے۔ ان کی اس حرکت سے ایک شعر کا مصرعہ یا آجاتا ہے کہ
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے
بہرحال ہندوستان میں تبدیلی کی فضائیں واضح طور پر دکھائی دے رہی ہیں اور لوگ دعا کررہے ہیں کہ ملک فرقہ پرست دشمنی سے چھٹکارا پائے اور نفرت کی جگہ محبت لے لے۔
خوشحالی کو نصب العین بنایا جائے اور یہ کہا جائے کہ
ہر ایک گھر میں دیا بھی جلے اناج بھی ہو
اگر نہ ہو کہیں ایسا، تو احتجاج بھی ہو