امراوتی میں بم دھماکے کی دھمکی سے کھلبلی ملزم اندور سے گرفتار

امرائوتی ،۳۰ نومبر (ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ کی رپورٹ)امراوتی میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب اس وقت کھلبلی مچ گئی جب پولیس کنٹرول روم میں رات تقریباً 30:8 سے 9 بجے کے درمیان ایک نامعلوم شخص نے کال کرکے یہ سنگین دعویٰ کیا کہ وہ امراوتی میں دہلی جیسا بم دھماکہ کرے گا۔ کالر نے ’’اگر روک سکو تو روک لو‘‘ جیسے اشتعال انگیز الفاظ کہہ کر فون کاٹ دیا، جس کے فوراً بعد پورا پولیس محکمہ ہائی الرٹ موڈ پر چلا گیا۔
سینئر افسران کو اطلاع ملتے ہی شہر کے تمام تھانوں، بم اسکواڈ (BDDS)، اے ٹی ایس، اسپیشل اسکواڈ، کیو آر ٹی، سائیبر سیل اور دیگر حساس یونٹوں کو فوری طور پر متحرک کر دیا گیا۔ چند منٹوں میں شہر کے تمام اہم اور عوامی مقامات پر سخت حفاظتی گھیرا قائم کر دیا گیا۔پولیس نے بس اسٹینڈ، ریلوے اسٹیشن، مذہبی مقامات، تجارتی بازار، اہم چوکوں، سرکاری عمارتوں، عدالت، میونسپل کارپوریشن، اسکولوں اور کالجوں سمیت ہر ان مقام پر بھاری نفری تعینات کر دی جہاں روزانہ بھیڑ جمع رہتی ہے۔ شہر کے مختلف داخلی و خارجی راستوں پرناکہ بندی کردی گئی، اور رات بھر ہر آنے جانے والی گاڑی اور ہر مسافر کی سخت چیکنگ کی گئی۔ یہ آپریشن رات 30:9 بجے شروع ہو کر صبح 30:6 بجے تک جاری رہا۔اسی دوران سائیبر سیل نے دھمکی دینے والے نمبر کو ٹریس کرنے کی کارروائی تیز کی اور کچھ ہی دیر میں معلوم ہوا کہ کال اندور سے کی گئی تھی۔
امراوتی پولیس نے فوری طور پر اندور پولیس سے رابطہ کیا اور اپنی خصوصی ٹیم اندور روانہ کی۔ مشترکہ کارروائی کے دوران ملزم کو اندور میں حراست میں لے لیا گیا، جہاں اس سے ابتدائی پوچھ گچھ کی گئی۔تحقیقات میں ملزم کی شناخت ہریش گھاڑے کے طور پر سامنے آئی، جو اس سے پہلے بھی اسی نوعیت کی سرگرمیوں میں ملوث رہ چکا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم ذہنی طور پر غیر متوازن دکھائی دیتا ہے، تاہم اس کے موبائل فون سے ملنے والی فائلوں اور ریکارڈ کی جانچ جاری ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ اس دھمکی کے پیچھے کوئی سازش تھی یا محض شرارت۔دھمکی کے بعد شہر والوں میں خوف و بے چینی کا ماحول تھا، مگر پولیس کے مسلسل گشت اور سخت نگرانی کے باعث صورتِ حال مکمل طور پر قابو میں رہی۔
امراوتی پولیس کی ٹیم آج ملزم کو لے کر شہر واپس پہنچے گی، جس کے بعد دھمکی کی نوعیت، ارادوں اور پس منظر کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔پولیس کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔



