عادل آباد وارڈ 35 میں بلدی انتخابات کی گہماگہمی، عتیق الرحمن کانگریس سے مضبوط دعویدار
خضر یافعی کی خاص رپورٹ
عادل آباد، 6 /جنوری (اردو لیکس)
آئندہ بلدی انتخابات کے پیشِ نظر عادل آباد شہر کے مختلف وارڈوں میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ سیاسی قائدین اور سابقہ کونسلرس اپنے اپنے علاقوں میں متحرک نظر آ رہے ہیں اور ووٹرس کو راغب کرنے کے لیے بھرپور کوششیں جاری ہیں۔ اسی تناظر میں وارڈ نمبر 35، محلہ شانتی نگر اور کالج کالونی سے سیاست میں ابھرتا ہوا نام عتیق الرحمن عوامی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
تعلیم یافتہ، سنجیدہ اور عوام دوست شخصیت کے حامل عتیق الرحمن کانگریس پارٹی کے مضبوط دعویدار مانے جا رہے ہیں۔ اگرچہ اب تک وہ کسی باضابطہ سیاسی عہدے پر فائز نہیں رہے، اس کے باوجود وہ ابتدا ہی سے بلا تفریق عوامی خدمات میں ہمہ تن مصروف رہے ہیں۔ ان کی خدمات اور زمینی سطح پر موجودگی کو دیکھتے ہوئے وارڈ نمبر 35 کے ووٹرس میں ابھی سے ان کی کامیابی کے حوالے سے مثبت رائے پائی جاتی ہے۔
عتیق الرحمن نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز 2002 میں کیا اور اب باقاعدہ عملی سیاست میں قدم رکھتے ہوئے پوری تیاری کے ساتھ انتخابی میدان میں اترنے کے لئے پُرعزم ہیں۔ انہوں نے بغیر کسی ذاتی مفاد کے وارڈ کے عوام کو درپیش متعدد بنیادی مسائل کے حل میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ جن میں شادی مبارک، کلیان لکشمی، انکم و رہائشی سرٹیفکیٹس، سی ایم آر ایف چیکس، اندرماں مکانات، برقی بل اسکیمات، نالیوں اور سڑکوں کی صفائی، پینے کے پانی کی فراہمی، اسٹریٹ لائٹس، پیدائش و اموات کے سرٹیفکیٹس، آسرا وظائف، راشن کارڈس، مالی امداد اور سرکاری دفاتر میں مؤثر نمائندگی شامل ہیں۔
انہوں نے کانگریس قائد کندی سرینواس ریڈی اور اعلیٰ حکام سے مسلسل رابطہ رکھتے ہوئے وارڈ میں اپنی مضبوط موجودگی قائم کی ہے۔ عتیق الرحمن کو مسلم و غیر مسلم دونوں طبقات کی بھرپور تائید حاصل ہے، کیونکہ وہ مذہب سے بالاتر ہو کر خدمات انجام دیتے آئے ہیں۔
عتیق الرحمن نے واضح کیا کہ وہ وارڈ نمبر 35 سے بلدی انتخابات میں ہر حال میں مقابلہ کریں گے،کیوںکہ ان کی کامیابی کے امکانات روشن ہیں، بشرطیکہ ووٹوں کی تقسیم کو روکا جائے اور وارڈ کے عوام متحد ہو کر ان کی حمایت کریں۔ مجموعی طور پر وارڈ نمبر 35 میں عتیق الرحمن ایک مضبوط اور سنجیدہ امیدوار کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔



