Uncategorized

 

دارالعلوم سبیل الرشادسوگوار۔ملت اشکبار

مولانا صغیر احمد خان رشادیؒ: علم، اعتدال اور ریاست کی مشترکہ میراث

اشرف اللہ ابوالکلام محمدی ۔934249 7847

ریاستِ کرناٹک اور ملک بھر کی ملتِ اسلامیہ ایک ایسے عالم اور باوقار قائد سے محروم ہوچکی ہے جن کی زندگی علم و عمل، اعتدال و حکمت اور خاموش مگر مؤثر قیادت کی روشن مثال تھی۔ دارالعلوم سبیل الرشاد، بنگلور کے مہتمم اور امیر شریعت مولانا صغیر احمد خان رشادیؒ کی رحلت محض ایک شخصیت کا انتقال نہیں بلکہ ایک فکری روایت اور اخلاقی معیار کے باب کا اختتام ہے۔

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے۔۔۔۔۔۔ بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

مولانا ان خوش نصیب اہلِ علم میں سے تھے جن کے بارے میں علامہ اقبال کا یہ تصور صادق آتا ہے کہ صدیوں بعد کہیں جا کر قوموں کو ایسا دیدہ ور نصیب ہوتا ہے جو محض علم کا حامل نہیں بلکہ کردار اور بصیرت کا پیکر ہوتا ہے۔ ان کی پوری زندگی اس حقیقت کی عملی تفسیر تھی کہ قوموں کی تقدیر افراد کے ہاتھ میں ہوتی ہے، اور ہر باکردار فرد ملت کے مستقبل کا ستارہ بنتا ہے۔مولانانے اپنی پوری زندگی شہرت کے بجائے خدمت، خطابت کے بجائے تربیت اور تصنیف کے بجائے تعمیر انسان کے لیے وقف کیے رکھی۔ وہ ان علماء میں تھے جو اداروں کو افراد سے مضبوط کرتے ہیں۔ ان کی بصیرت افروز قیادت میں دارالعلوم سبیل الرشاد ایک منظم، باوقار اور ملک گیر شناخت رکھنے والا علمی مرکز بن کر ابھرا، جہاں سے تیار ہونے والی نسلیں ملک و بیرون ملک دینی خدمات انجام دے رہی ہیں۔امیرِ شریعت کی حیثیت سے مولانا رشادی کا اسلوب نہ جذباتی تھا اور نہ تصادمی۔ وہ فتویٰ کو محض ایک شرعی جواب نہیں بلکہ ملت کی امانت سمجھتے تھے۔ حساس دینی و سماجی معاملات میں ان کا موقف ہمیشہ احتیاط، توازن اور حالات زمانہ کے گہرے فہم پر مبنی رہا۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ شریعت کی صحیح ترجمانی وہی ہے جو امت کو جوڑ دے، نہ کہ انتشار کا سبب بنے۔مولانا عملی سیاست سے دور رہے، لیکن ملی شعور اور سماجی ذمہ داری سے کبھی غافل نہیں ہوئے۔ اقلیتی حقوق، دینی آزادی اور آئینی تحفظات جیسے معاملات میں ان کی رائے شائستہ، مدلل اور حکمت پر مبنی ہوتی تھی۔ اسی اعتدال پسند رویے کے باعث انہیں نہ صرف دینی حلقوں بلکہ سماجی اور سیاسی طبقات میں بھی احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ان کی رحلت پر یہ حقیقت واضح طور پر سامنے آئی کہ مولانا کی شخصیت کس قدر ہمہ گیر قبولیت رکھتی تھی۔ ریاست کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا سمیت متعدد ریاستی وزراء نے گہرے رنج و الم کا اظہار کرتے ہوئے دارالعلوم سبیل الرشاد پہنچ کر آخری دیدار کیا۔ یہ منظر اس بات کا غماز تھا کہ مولانا محض ایک مذہبی رہنما نہیں بلکہ سماج کے مختلف طبقات کے لیے اخلاقی وقار کی علامت تھے۔نماز جنازہ کے موقع پر سبیل الرشاد کا احاطہ تاریخ ساز منظر پیش کر رہا تھا۔ ملک بھر سے علماء ، دینی قائدین، سماجی شخصیات اور ہزاروں عقیدت مند شریک ہوئے۔ صف در صف کھڑے سوگوار چہرے اور نمناک آنکھیں اس اجتماعی احساس فقدان کی گواہی دے رہی تھیں۔ نمازِ جنازہ کے بعد مولانا صغیراحمدرشادی ؒ کو اشکبار آنکھوں کے ساتھ دارالعلوم سبیل الرشاد ہی میں سپردِ خاک کیا گیا، اسی جگہ جہاں انہوں نے عمر بھر علم، تربیت اور اخلاص کی شمع جلائے رکھی۔مولانا کی شخصیت کا ایک نمایاں وصف اختلاف میں بھی اخلاق کی پاسداری تھا۔ وہ نوجوان علماء کو بارہا یہ نصیحت کرتے تھے کہ اختلاف دلیل سے کرو، تحقیر سے نہیں۔ ان کی یہ تعلیم آج کے انتشار زدہ ماحول میں ایک قیمتی فکری سرمایہ ہے۔ ان کے تربیت یافتہ علماء کی ایک بڑی جماعت آج بھی ان کے فکر و اسلوب کی عملی ترجمان ہے، جو ان کا سب سے بڑا صدقہ جاریہ ہے۔آخری ایام میں طویل علالت کے باوجود ان کی فکر امت کمزور نہ پڑی۔ ادارے کے امور، طلبہ کی حالت اور ملت کے مستقبل کے بارے میں ان کی دلچسپی آخری سانس تک برقرار رہی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ منصب نہیں بلکہ ذمہ داری کے احساس کے ساتھ جیتے رہے۔مرحوم مولانا صغیر احمد خان رشادی کا تعلق میسور ضلع سے تھا۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم گاؤں کے مکتب میں حاصل کی، اور اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے دارالعلوم سَبیل الرشاد میں داخلہ لیا۔ وہاں انہوں نے قرآن مجید کو حفظ کیا اور پھر اسی ادارے سے علم دین عا لمیت اور فضیلت کی ڈگریاں اعلیٰ نمبروں سے مکمل کیں۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ان کی علمی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے انہیں اسی ادارے میں استاد کے طور پر مقرر کیا گیا جہاں سے انہوں نے تدریسی سلسلہ شروع کیا اور آہستہ آہستہ اعلیٰ مناصب تک پہنچے۔ ان کی علمی گہرائی کی وجہ سے انہیں شیخْ التفسیر اور شیخْ الحدیث جیسے اہم علمی عہدوں پر فائز کیا گیا۔مولانا مفتی محمد اشرف علی باقویؒ کے انتقال کے بعد، رشادی صاحب کو دارالعلوم سَبیلْ الرشاد کے مہتمم (سربراہ) مقرر کیا گیا، اور وہ ریاست کے مسلم برادری کے امیرِشریعت کی حیثیت سے بے حد عزت و احترام سے جانے جاتے تھے۔

قومی سطح پر خدمات:مولانا صغیر احمد خان رشادی صرف کرناٹک تک محدود نہیں تھے، بلکہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (AIMPLB) کے انتظامی کمیٹی کے فعال رکن بھی رہے اور وہ آل انڈیا ملی کونسل کے رہنماؤں میں شامل تھے جہاں وہ امت مسلمہ کے مفادات کے لیے کام کرتے رہے۔ انہوں نے مذہبی شعور بڑھانے کے لیے ‘سلسبیل’ نامی ماہنامہ کو دوبارہ شائع کرکے اس کے ادارہ جاتی و اداری خدمات بھی انجام دیے۔

شخصیت اور اثر:مولانا رشادی صاحب ایک نہایت سادہ اور ملنسار شخصیت کے مالک تھے۔ انہوں نے کمیونٹی کی فلاح، اتحاد اور تعلیمی ترقی کے لیے اپنی زندگی وقف کر رکھی تھی۔ ان کی رہنمائی میں ہزاروں طلبہ نے دینی تعلیم حاصل کی اور ملک بھر میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔آج جب مولانا صغیر احمد خان رشادیؒ ہم میں موجود نہیں، تو یہ لمحہ محض تعزیت کا نہیں بلکہ عہد نو کا تقاضا بھی ہے کہ ہم ان کے چھوڑے ہوئے اعتدال، حکمت اور ادارہ جاتی وژن کو آگے بڑھائیں۔ یہی ان کے لیے سب سے بڑا خراجِ عقیدت ہوگا۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور ملت کو ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آسمان تیری لحدپرشبنم افشانی کرے۔۔۔۔۔سبزہ نورستہ اس گھرکی نگہبا

نی کرے

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button