سعودی عرب میں تین ماہ کے دوران 46.7 ملین افراد کا ریل ٹرانسپورٹ سے سفر

کے این واصف
سعودی عرب میں نئی ریلوے لائنز اور میٹرو ریل کے متعارف کرائے جانے کو ایک انقلابی اقدام کہا جاسکتا ہے۔ ٹرین کی سہولت اگر ریاض اور دیگر بڑے شہرون سے جدہ اور مدینہ منورہ کردی جائے تو عوام کو عمومی طور پر اور زائرین کو خصوصی پر بڑی سہولت ہوگی۔
گزشتہ روز جاری سعودی ٹرانسپورٹ جنرل اتھارٹی کے بیان کے مطابق مملکت بھر میں ریل ٹرانسپورٹ سے 2025 کی چوتھی سہ ماہی میں تقریبا 46.7 مسافروں نے سفر کیا۔‘ایس پی اے کے مطابق گزشتہ برس کی چوتھی سہ ماہی میں سال 2024 کے مقابلے میں ریلوے مسافروں کی تعداد میں 199 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اتھارٹی کا کہنا تھا مملکت میں گزشتہ برس ریلوے سروس استعمال کرنے کے رجحان میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔گزشتہ برس 2.9 ملین افراد نے انٹرسٹی سروس استعمال کی جن میں سے 2.3 ملین افراد نے ہائی سپیڈ حرمین ریلوے جبکہ 3 لاکھ 67 ہزار الشرق ریلوے نیٹ ورک اور 2 لاکھ 34 ہزار نے شرق ریلوے’سار‘ سے سفر کیا۔
انٹر سٹی ریلوے استعمال کرنے والوں کی تعداد 43.8 ملین رہی، ریاض میٹرو کے مسافر 32 ملین تھے۔جدہ کے کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر10.6 ملین مسافروں نے خود کارٹرین کا استعمال کیا جبکہ امیرہ نورہ بنت عبدالرحمن یونیورسٹی ریاض میں ریلوے میٹرو سروس استعمال کرنے والے مسافروں کی تعداد 982 ہزار رہی۔



