مرد کا حلیہ بنا کر چوریاں کرنے والی دو لڑکیاں گرفتار۔ بنگالورو پولیس کی کاروائی

بنگالورو: ریاست کرناٹک بنگلور شہر میں چوری کرنے کے لیے کچھ شاطر خواتین نت نئے طریقے اپنا رہی ہیں۔ گرفتاری سے بچنے کے لیے وہ فلمی انداز میں مردوں جیسا بھیس بدل کر وارداتیں انجام دے رہی ہیں۔
حال ہی میں دو نوجوان لڑکیاں مردوں کا حلیہ بنا کر ایک آٹو ڈرائیور کے گھر میں چوری کرتے ہوئے پولیس کے ہاتھ لگ گئیں۔بتایا جا رہا ہے کہ پولیس کو گمراہ کرنے کے لیے ہی ان شاطر خواتین نے یہ منصوبہ بنایا تھا۔یہ واقعہ 13 جنوری کو پیش آیا
جب بنگلور میں رہنے والا ایک آٹو ڈرائیور کام کے سلسلے میں گھر سے باہر گیا ہوا تھا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لینے کے بعد پولیس نے شناخت کی کہ شالو اور نیلو نامی دو نوجوان لڑکیوں نے اس آٹو ڈرائیور کے گھر کو نشانہ بنایا تھا۔
کیمروں میں بھی پہچان سے بچنے اور کسی کو یہ محسوس نہ ہو کہ وہ خواتین ہیں اسی لیے وہ مردوں جیسے کپڑے پہن کر بھیس بدل کر اس گھر پہنچیں۔ گھر خالی دیکھ کر اندر داخل ہوئیں اور جو ہاتھ لگا سمیٹ کر لے گئیں۔
آٹو ڈرائیور جب گھر واپس آیا تو چوری کا پتہ چلا اور اس نے فوراً پولیس میں شکایت درج کرائی۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس نے تفتیش شروع کی اور اطراف کے سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کی۔
فوٹیج میں مردوں جیسے دکھائی دینے والے دو افراد مشتبہ طور پر گھومتے نظر آئے۔واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی کا رجسٹریشن نمبر ملتے ہی چوروں کا سراغ مل گیا۔ اسی نمبر کی بنیاد پر تفتیش کرتے ہوئے پولیس نے آخرکار واضح کر دیا کہ
بھیس بدل کر چوری کرنے والی دراصل دو خواتین ہی تھیں۔فی الحال پولیس نے دونوں نوجوان لڑکیوں کو گرفتار کر کے پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔ اس بات کی بھی جانچ جاری ہے کہ آیا انہوں نے صرف اسی ایک جگہ نہیں بلکہ شہر کے دیگر علاقوں میں بھی بھیس بدل کر چوریاں کی ہیں یا نہیں۔
چوری کے اس نئے انداز کو دیکھ کر پولیس بھی قدرے حیرت میں ہے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ہر گھر میں سی سی ٹی وی نگرانی کس قدر ضروری ہے۔



