معراجِ مصطفیٰ ﷺ — عقل کی شکست، ایمان کی معراج،مولانامفتی ڈاکٹرحافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب
معراجِ مصطفیٰ ﷺ — عقل کی شکست، ایمان کی معراج،مولانامفتی ڈاکٹرحافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب
حیدرآباد 16جنوری (پریس ریلیز ) خطیب وامام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز نامپلی حیدرآباد مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے آج وہ ابنے خطاب کرتےہوئے بتلایا کہ واقعۂ معراج وہ نورانی حقیقت ہے جس کے در و دیوار پر آج بھی عقلِ انسانی سرِ نیاز خم کیے کھڑی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں فکر کی پرواز تھک کر بیٹھ جاتی ہے، فلسفے کی مشعل مدھم پڑ جاتی ہے اور مادّیت کی عینک دھندلا جاتی ہے۔ عقلِ ناتواں، جو چار عناصر کی اسیر اور زمان و مکان کی حدود میں مقید ہے، اس رازِ سربستہ کو سمجھنے میں آج بھی حیرت و استعجاب کے صحرا میں سرگرداں ہے کہ آخر وہ کون سا لمحہ تھا، کون سا راز تھا اور کیونکر وہ سفر طے پایا جس میں زمین آسمان سے ہم کنار ہو گئی اور عبد و معبود کے درمیان قربت کا نیا باب رقم ہوا۔
یہ دنیا جس کی بنیاد مادّی فلسفہ پر رکھی گئی ہے، جس کی عقل تجربہ، مشاہدہ اور پیمائش کی غلام ہے، اس حقیقت کو ماننے سے قاصر رہتی ہے کہ ایک بشر خاکی جسم و روح کے کامل توازن کے ساتھ ان حدوں کو پھلانگ سکتا ہے جہاں روشنی بھی ٹھٹھک کر ٹھہر جاتی ہے اور جہاں نگاہِ انسانی کی تاب ختم ہو جاتی ہے۔ مگر معراج کا پیغام یہی ہے کہ جب ربّ العالمین خود بلاوا دے تو ثقل، فاصلہ اور وقت سب سرنگوں ہو جاتے ہیں۔
معراج محض سفر نہیں، انقلابِ شعور ہے؛ یہ فقط جسمانی ارتقاء نہیں بلکہ روحانی انتہا ہے۔ یہ اعلان ہے کہ بندگی جب اخلاص و اطاعت کے نقطۂ کمال کو چھو لیتی ہے تو خاک افلاک سے ہم آغوش ہو جاتی ہے۔ یہاں عقل کو انکار نہیں، بلکہ اعتراف سکھایا جاتا ہے؛ یہاں سوال نہیں، یقین جنم لیتا ہے؛ اور یہاں فلسفہ نہیں، ایمان حاکم ہوتا ہے۔
اسی لیے حدود و قیود کے خوگر، مادّی نگاہ سے دیکھنے والے اذہان اس عظیم عروج کے سامنے ششدر رہ جاتے ہیں۔ وہ اس نورانی حقیقت کو اپنے محدود سانچوں میں ڈھالنا چاہتے ہیں، حالانکہ معراج کا تعلق حساب و پیمائش سے نہیں بلکہ ربّانی انتخاب اور مصطفوی قرب سے ہے۔ یہ وہ راز ہے جسے عقل چھو نہیں سکتی، مگر دل مان لیتا ہے؛ جسے آنکھ دیکھ نہیں سکتی، مگر ایمان دیکھ لیتا ہے۔
واقعۂ معراج دراصل انسان کو اس کی اصل پہچان یاد دلاتا ہے کہ وہ محض زمین کا باسی نہیں بلکہ آسمانی امانت کا حامل ہے۔ یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ جو رب سے جڑ جائے، اس کے لیے ناممکن کا وجود باقی نہیں رہتا۔ یہی وہ پیغام ہے جو صدیوں سے اہلِ دل کے سینوں کو منور اور اہلِ یقین کے قدموں کو ثابت رکھے ہوئے ہے۔
معراج، شکستِ عقل نہیں بلکہ فتحِ ایمان ہے؛ یہ انکار کی تاریکی نہیں بلکہ یقین کی روشنی ہے؛ اور یہ وہ زندہ حقیقت ہے جو آج بھی اعلان کر رہی ہے کہ جب عبدِ کامل کا سفر شروع ہوتا ہے تو کائنات خاموش ہو جاتی ہے اور رب کی قربت بولنے لگتی ہے۔
واقعۂ معراج تاریخِ انسانی کا وہ درخشاں اور روح افروز باب ہے جس میں زمین و آسمان کے فاصلے سمٹ گئے، زمان و مکان کی حدیں مٹ گئیں اور بندگی اپنے کمالِ قرب تک جا پہنچی۔ یہ وہ مقدس سفر ہے جس میں عقلِ انسانی حیرت میں گم، اور ایمان سرور میں ڈوبا نظر آتا ہے۔
لفظِ معراج کا لغوی مفہوم
عربی لغت میں لفظ ’’معراج‘‘ ایسے وسیلہ کو کہا جاتا ہے جس کے ذریعے بلندی کی طرف چڑھا جائے۔ اسی مناسبت سے سیڑھی کو بھی ’’معراج‘‘ کہا جاتا ہے۔
لسان العرب میں ابن منظور اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ معراج ہر اس ذریعے کو کہتے ہیں جو عروج اور بلندی کا سبب بنے۔
اصطلاحِ شریعت میں حضور نبی اکرم ﷺ کے اس جسمانی اور روحانی سفر کو معراج کہا جاتا ہے جس میں آپ ﷺ کو ایک ہی رات میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ، پھر آسمانوں کی رفعتوں اور عرشِ الٰہی تک لے جایا گیا، اور پھر اپنے وطنِ عزیز مکہ مکرمہ واپس لوٹایا گیا۔
قرآنِ مجید میں معراج کا ذکر
قرآنِ مجید سورۃ الاسراء کی پہلی آیت میں اس عظیم الشان سفر کے پہلے مرحلے کو یوں بیان کرتا ہے:
سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ اٰيٰتِنَا ۭ اِنَّهُ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ.
(بنی اسرائیل: 1)
یہ آیت اس حقیقت کی شاہد ہے کہ اس سفر کا مقصد محض نقل و حرکت نہیں تھا بلکہ مشاہدۂ آیاتِ الٰہیہ تھا—یعنی محبوبِ رب العالمین ﷺ کو اپنی قدرتوں اور نشانیوں کا جلوہ دکھانا۔
معراج کے دوسرے مرحلے کا ذکر سورۃ النجم کی ابتدائی آیات میں یوں ملتا ہے:
وَالنَّجْمِ اِذَا هَوٰی مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوٰی.
(النجم: 1–2)
یہ آیات اعلان کرتی ہیں کہ وہ ہستی جو اس معراج کی مسافر بنی، نہ کبھی گمراہ ہوئی، نہ راہِ حق سے ہٹی—بلکہ وہ سراپا ہدایت اور میزانِ حق ہے۔
معراج کی حکمتیں: دلجوئی، عظمت اور پیغام
یہ سوال فطری طور پر ذہن میں ابھرتا ہے کہ معراج کیوں عطا کی گئی؟ اہلِ فکر و نظر نے اس کی متعدد حکمتیں بیان کی ہیں، اگرچہ حقیقتِ کاملہ کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں۔ ان حکمتوں میں چند نمایاں پہلو یہ ہیں:
پہلی حکمت: محبوب کی دلجوئی
اعلانِ نبوت کے بعد کفارِ مکہ نے حضور ﷺ پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیے، معاشرتی بائیکاٹ کیا، حتیٰ کہ شعبِ ابی طالب کی صعوبتیں بھی جھیلنی پڑیں۔ انہی ایام میں آپ ﷺ کے عظیم سہارا—چچا ابو طالب—اور غمگسار زوجہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ یہ وہ دور تھا جسے تاریخ نے عامُ الحزن کا نام دیا۔
ایسے نازک اور کربناک لمحوں میں ربِّ کائنات نے چاہا کہ اپنے محبوب ﷺ کو اپنے حضور بلا کر تسکینِ قلب عطا فرمائے، غموں کو مٹا دے اور قربِ خاص سے نوازے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب ربِّ ذوالجلال نے اپنے محبوب ﷺ کو یہ یقین دلایا کہ:
وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْيُنِنَا.
(الطور: 48)
یعنی اے محبوب! آپ ہماری نگاہِ کرم میں ہیں—دنیا اگر ستاتی ہے تو کیا، ہم آپ کو دیکھ رہے ہیں۔
دوسری حکمت: امت کے لیے عظیم تحفہ
معراج کی شب حضور ﷺ کو عرش پر بلا کر دیدارِ الٰہی سے سرفراز کیا گیا، امت کی مغفرت کی نوید سنائی گئی اور پچاس نمازوں کا تحفہ عطا ہوا—جو بعد میں تخفیف کے ساتھ پانچ رہ گئیں مگر اجر پچاس ہی کا رکھا گیا۔ یہ امتِ محمدیہ ﷺ پر وہ خصوصی عنایت ہے جو قیامت تک جاری رہے گی۔
تیسری حکمت: سیادتِ مصطفیٰ ﷺ کا اعلان
شبِ معراج بیت المقدس میں تمام انبیاء و رسل علیہم السلام کی امامت کا شرف عطا کیا جانا دراصل اس حقیقت کا اعلان تھا کہ محمد ﷺ نہ صرف خاتم النبیین ہیں بلکہ امامُ الانبیاء بھی ہیں۔
بیت المقدس میں امامتِ انبیاء: ایک عبرت انگیز روایت
روایات میں آتا ہے کہ مسجدِ اقصیٰ کے ایک بڑے عیسائی پادری نے بیان کیا کہ وہ ہر رات سونے سے پہلے مسجد کے تمام دروازے بند کیا کرتا تھا۔ اس رات اس نے پوری کوشش کے باوجود ایک دروازہ بند نہ کر سکا۔ صبح جب آیا تو دیکھا کہ دروازہ درست ہے مگر مسجد کے پتھر میں ایک نشان ہے، جیسے کسی سواری کو وہاں باندھا گیا ہو۔
اس منظر کو دیکھ کر وہ بول اٹھا:
“یہ دروازہ آج رات صرف نبیِ آخرالزماں ﷺ کے لیے کھلا رہا ہوگا، اور یقینا اسی نبیِ معظم ﷺ نے یہاں نماز ادا کی ہے۔”
اس روایت کو تفسیر ابن کثیر میں ابن کثیر نے نقل کیا ہے۔
معراج النبی ﷺ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایمان کے لیے پیغام، عشق کے لیے معراج اور انسانیت کے لیے عظمت کا اعلان ہے۔ یہ واقعہ آج بھی پکار پکار کر کہتا ہے کہ جب بندہ رب سے جڑ جائے تو ناممکن، ممکن بن جاتا ہے—اور خاک افلاک سے ہم کلام ہو جاتی ہے۔



