کل ہند مرکزی رحمت عالم کمیٹی کی چنچل گوڑہ جونیر کالج گراونڈ پر ۳۰ویں معراج النبی ؐکانفرنس

حضور پاکﷺ سے سچی محبت کے بغیر کوئی بھی سچا مومن نہیں ہوسکتا، نماز رب تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ
کل ہند مرکزی رحمت عالم کمیٹی کی چنچل گوڑہ جونیر کالج گراونڈ پر ۳۰ویں معراج النبی ؐکانفرنس سے نبیرۂ اعلیٰ حضرت علامہ مفتی محمد عدنان رضا قادری (بریلی) ، مفتی محمد ناظم رضا منظری (مرادآباد )علامہ مفتی ثناء اللہ قادری (بریلی) کے خطابات
حیدرآباد۔17/جنوری2026ء ( راست ) رب تعالیٰ کا عظیم احسان ہے کہ اس نے ہم سب کو اپنے محبوب نبی کریم ﷺ کی اُمت میں پیدا فرمایا ہے اور ہم کو یہ اعزاز بھی دیا گیا کہ ہمیں خیر اُمت کے لقب سے نواز گیا ۔ ہمیں نیکیو ں کی دعوت دینے والے ور برائیوں سے روکنے والی امت بناکر بھیجا گیا ۔ کیا ہم اس بات کو فراموش کرچکے ہیں کہ رب تعالیٰ نے حضور پاک ﷺ کے صدقے میں ہم پر کتنے احسانات فرمائے ہیں ۔ ذر اغورکریں ! ہمیں ایمان ، پاکیزگی ، عبادات ،حلال و حرام کا فرق ، نماز جیسا عظیم تحفہ ، ماہِ رمضان جیسا مہینہ ، روزوں جیسی روحانی عبادت ، حج جیسا عظیم مقصد عطا کیا گیا ۔ کیا ہم ان نعمتوں کی عظمت کو سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ نہیں ۔ آج ہم نے اللہ اور اس کی اطاعت کو ترک کردیا ، دنیا کی چکاچوند اور مغربی تہذیب کے اثر نے ہماری نسلوں کو دین سے دور کردیا ہے ، کیا ہم اب بھی خاموش تماشائی بنے بیٹھیں گے ۔
کیا ہم نے اپنے گھروں کے ماحول کو اسلامی ماحول بنایا ، کیا ہم نے اپنے گھر والو ںکو قرآن شریف کی تلاوت کا عادی بنایا ، کیا ہم نے خود نمازوں کی پابندی کی اور اپنے گھر والوں کو نماز کا پابند بنایا ، اس پر غور کرلیں کہ ہمارا عمل ! کیا حقیقی مسلمان جیسا ہے ، روزِ حشر جب ہم حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں پیش کئے جائینگے تو ہم کس صورت سے پیش ہونگے ، نبی پاکﷺ کو کیا منہ دکھائیں گے ۔ للہ مسلمانو ! جاگو اپنے دلو ں کو نور ایمان سے مزین کرو ،اپنے گھروں کو اسلامی گہوارہ بناو، اپنی نسلوں کے دلوں میں محبت رسول ﷺ ، اہلبیت و صحابہ کرام کو اُجاگر کرو ، اور انہیں دین کا سچا داعی بناؤ، بہترین اسلامی تعلیم و تربیت سے اپنی نسلوں کو آراستہ کرو تاکہ روزِ حشر حضور پاک ﷺ ہماری مثال پیش کریں کہ دیکھو میری اُمت کو ۔
ان خیالات کااظہارکل ہند مرکزی رحمت عالم کمیٹی کی عظیم الشان تیسویں معراج النبی ﷺ کانفرنس منعقدہ 16 /جنوری 2026 ء جمعہ بعد عشاء بمقام : گورنمنٹ جونیر کالج گراؤنڈ چنچل گوڑہ سے پہلے مہمانِ مقرر ، عالمی شہرت یافتہ عالم دین ، عظیم علمی و روحانی شخصیت ، مفکر اسلام ، خطیب الہند ، نبیرۂ اعلیٰ حضرت ، علامہ مفتی محمد عدنان رضا قادری صاحب (بانی آل انڈیاا رضا ایکشن کمیٹی ، درگاہ اعلیٰ حضرت بریلی شریف) نے کیا ۔ کانفرنس کا آغاز حافظ و قاری کلیم الدین حسان صاحب کی قرات سے ہوا ۔ بارگاہِ رسالتمآب ﷺ میں معروف ثناء خوانِ رسولؐ مسلک اسمٰعیل علی خاں اورمحمد مجتبیٰ محامد اخلاقی نے ہدیہ نعت پیش کی ۔
کانفرنس کی قیادت پیر طریقت حضرت سید محمد رفیع الدین حسینی رضوی قادری شرفی صاحب ( شرفی چمن ) ، سرپرستی حضرت مولانا سید محمد شاہ قادری ملتانی صاحب، نگرانی عالیجناب محمد شوکت علی صوفی صاحب نے کی ۔ محمد شاہد اقبال قادری (صدر کل ہند مرکزی رحمت عالم کمیٹی) نے مہمان مقررین کرام کا پر جوش استقبال کیا ۔ مہمانان ِ خصوصی کی حیثیت سے مولانا محمد اخلاق اشرفی (چیرمین ورلڈ قرآنک مشن )، حکیم ایم اے ساجد قادری ملتانی صاحب ، ڈاکٹر حیدر یمنی صاحب ، محمد عظیم برکاتی (ایڈوکیٹ) ، ، ڈاکٹر محمد عظمت رسول صاحب ، جناب سید اعزاز محمد قادری (اعجاز پریس) ، مولانا محمد عبدالماجد قادری ، مولانا ظہیر الدین رضوی ، مولانا باسط قادری ، مولانا امان رضا ، مولانا سید امجد حسینی چشتی ، مولانا محمد عبدالمقتدر قادری ، نے شرکت کی ۔ نظامت کے فرائض مولانا کمالی حسین رضوی نے انجام دئیے ۔
مولانا نے اپنے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آج ساری دنیا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کی ذات مقدسہ سے معترف ہوچکی ہے ۔ اعلیٰ حضرت کا مقصد صرف اور صرف ایمان و عقیدہ کا تحفظ ، دلوں میں جذبہ ایمانی کے ساتھ حب ِ رسول ﷺ کو اجُاگر کرنا رہا ۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ وہ ہرگز مومن نہیں ہوسکتا جب تک کے میں اس کیلئے اس کی جان و مال ، ماں باپ و اولاد غرض کی دنیا کی ہر چیز سے عزیز نہ ہوجاؤں ۔ اعلیٰ حضرت ؒنے جو بھی پایا وہ حضور پاک ﷺ کی محبت میں پایا ۔ اعلیٰ حضرت کی زندگی کا مقصد یہی تھا کہ مسلمانوں کے دلوں میں حب رسولﷺ اس قدر جاگزیں ہوجائے کہ ان کے دلوں میں سے دنیا کی محبت نکل جائے ۔ کل ہند مرکزی رحمت عالم کمیٹی کی اس عظیم الشان کانفرنس میں عاشقانِ رسولﷺ کے اس اژدھام میں یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ اے مسلمانو ! عصر حاضر میں جس طرح حالات پیدا ہورہے ہیں
آج ہماری ذمہ داری بن چکی ہے کہ اپنی اور اپنی نسلوں کے ایمان و عقیدہ کے تحفظ کے ساتھ ساتھ انہیں بہترین تعلیم و تربیت سے آراستہ کرو ۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دوسرے مہمان مقرر مفکر اسلام ـ،خطیب الہند حضرت العلامہ مفتی ثناء اللہ قادری ( استاذ جامعہ رضویہ مظہر اسلام ، بریلی شریف) نے کہا کہ عصرحاضر فتنوں کا دور ہے ۔ آج مسلمانانِ عالم جن حالات سے گذر رہے ہیں اسکا حل کیا ہے ؟ مسلمانوں نے جب سے اپنے دلوںمیں دنیا کو بسالیا ہے تو رب تعالی نے بھی دنیا کو ان پر مسلط کردیا اور جب مسلمانوں کے دل محبت رسولﷺ سے سرشار تھے اور جب تک اللہ کی اطاعت میں اپنے آپ کو قربان کرنے کا جذبہ رکھتے تھے تو دنیا ان کی ٹھوکروں میں پڑی رہتی تھی
۔آج قوم مسلم کا جو حال ہے وہ ہم پر عیاں ہے جب تک مسلمانوں نے عشق رسول ﷺ کو اپنے سینوں کو جگمگارکھا تھا اس کی روشنی نے اُنہیں دنیا کی حکمرانی عطا کی تھی لیکن جب اپنے آپ کو دنیا کے حوالے کردیا تب سے ساری دنیا ہم پر بھوکوں کی طرح ٹوٹ پڑی ہے لہذا ہر مسلمان پر یہ فرض ہے کہ وہ دین اسلام پر مکمل عمل پیرا ہوجائے ، عشق رسول ؐ کو اپنے سینوں میں بسالے ، نمازوں کی پابندی کریں ، حضور کے اسوئہ حسنہ کو اپنائے پھر دیکھیں کہ دنیا کی کوئی بھی طاقت آپ کے ایمان کے سامنے جھک نہ سکے گی ۔ معجزہ معراج النبی ﷺساری دنیا کیلئے ایک چونکادینے والا معجزہ ہے یہ نہ صرف روحانی معراج تھی بلکہ یہ جسمانی معراج بھی تھی
کہ آقا ﷺ معراج کی شب اللہ رب العزت کی عظیم بارگاہ میں مہمان بن کر پیش ہورہے ہیں ۔ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کا سفر ، مسجد اقصیٰ میں حضور پاک ﷺ نے تمام انبیاء کرام کی امامت فرمائی، پھر مسجد اقصیٰ سے ساتوں آسمان تک اور پھر عرشِ اعظم سے قاب قوسین تک آپ کی رسائی، پھر رب تعالیٰ کی بارگاہ میں آپ کی مہمان نوازی اور آپ کی اُمت کو نماز جیسی بہترین عبادت کا تحفہ عطا کیا گیا ۔ آج مسلم نوجوان مسلسل نمازوں کو ترک کررہے ہیں جو یہ نہیں جانتے کہ نماز ہی میں دنیا و آخرت کی کامیابی مضمر ہے
۔ والدین اور سرپرست حضرات بھی اپنی نسلوں کو نماز کا پابند بنائیں ۔ کل ہند مرکزی رحمت عالم کمیٹی قابل مبارکباد ہے جو تحریک صلوٰۃ کے عنوان سے ایک عظیم تحریک چلارہی ہے جس کے تحت نوجوانوں کو نمازوں کا پابند بنانے کیلئے مسلسل خدمات انجام دی جارہی ہے اللہ پاک اسے مزید کامیابیاں عطا فرمائے ۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تیسرے مہمان مقرر شمالی ہند کے نامور عالم دین ، مفکر اسلام حضرت العلامہ مفتی محمد ناظم رضا منظری (امروہ مرادآباد )نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم تمام کل ہند مرکزی رحمت عالم کمیٹی کی اس عظیم الشان ۳۰ معراج النبی ﷺ کانفرنس میں شریک ہیں یہ رب تعالیٰ اور حضور اکرم کا بڑا احسان ہے کہ ہمیں اُمت مسلمہ میں پیدا فرمایا ور اپنے محبوب رسول کا عاشق بنایا ۔ لیکن کیا ہم نے اپنے آپ کا جائزہ لیا ، کیا ہم نے اپنے آپ کو اطیع اللہ و اطیعو الرسول کے تحت بنالیا ، کیا ہماری زندگیاں سنتوں کے مطابق گذرتی ہے ۔ کیا ہم نے دین اسلام کی کے تحفظ اور فروغ کیلئے خدمات انجام دئیے ۔
کیا ہم نے آقائے کریم ﷺ کی ناموس کے تحفظ کیلئے اپنے آپ کو پیش کیا ، کیا شریعت محمدیؐ کے تحفظ کیلئے ہم نے کوئی خدمات انجام دیں ۔ کیا ہم نے اپنے والدین کی فرمانبرداری کی ، کیا ہم نے نمازوں کی پابندی کو اپنایا ، کیا رمضان المبارک میں اپنی بخشش کا سامان مہیا کرلیا ، کیا شریعت میں حرام کردہ اشیاء سے ہم نے اپنے کو بچایا ۔ للہ ! آج جو مسلمانانِ عالم کے حالات ہیں وہ ہمارے سامنے ہیں اور یہ حالات صرف صرف اور ایمانی کمزوری کا نتیجہ ہے ۔ آج وقت ہے مسلمانو ! اپنے دلوں میں جذبہ ایمانی اور عشق رسول ﷺ کی شمع کو روشن کرلو تاکہ دنیاکی کوئی بھی طاقت تمہیں نقصان نہ پہنچا سکے ۔ مولانا سید شاہ عبدالمقتدر حسینی رضوی قادری شرفی ، مولانا ڈاکٹر محمد عبدالنعیم قادری نظامی ( نائب صدر رحمت عالم کمیٹی )نے بھی خطاب کیا۔ آخر میں صلوٰۃ و سلام اور رقت انگیز دعا پر کانفرنس کا اختتام عمل میں آیا ۔ محمد اسلم اشرفی ، محمد عادل اشرفی ، سید لئیق قادری ، محمد عبدالمنان عارف قادری ، عبید اللہ سعدی قادری شرفی ، عبدالکریم رضوی ، سید طاہر حسین قادری نے انتظامات کئے ۔



