جنرل نیوز

جامعہ اسلامیہ عربیہ مسجد ترجمہ والی بھوپال میں بعد نماز عصر مجلس شوریٰ کی میٹنگ و بعد نماز عشاءختم بخاری شریف و دستار بندی 

بھوپال ۔ جامعہ اسلامیہ عربیہ مسجد ترجمہ والی بھوپال کے زیر اہتمام 16 جنوری2026ء بروز جمعہ بعد نماز عصر حضرت مولانا قاری ریاض احمد صاحب صدر شعبہ تجوید و قرأت دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ مجلس شوریٰ کی میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں جامعہ کے تمام شعبوں کی پورے سال کی رپورٹ پیش کی گئی ، اور آئندہ کے لیے ارکان شوریٰ کے مشوروں سے کئی اہم فیصلے لیے گئے۔

 

نیزجلسہ ختم بخاری شریف، دستار بندی و تقسیم اسنادبعد نماز عشاء موتی مسجد بغیا میں زیرصدارت حضرت مولانا مفتی محمد فاروق صاحب استاذ تفسیر و حدیث جامعہ اکل کوا مہاراشٹر و شیخ الحدیث فلاح دارین ترکیسر گجرات منعقد ہوا۔نظامت کے فرائض حضرت مولانا مفتی ضیاء اللہ صاحب قاسمی شیخ الحدیث جامعہ ہذا نے ادا کیے، حضرت مولانا مفتی قاری ریاض احمد صاحب صدر شعبہ تجوید و قرأت دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کی تلاوت سے جلسہ کا آغاز ہوا۔

 

تلاوت کلام اللہ کے بعد آپ نے جامعہ سے فارغ ہوئے ایک طالب علم کا نکاح بھی اس با برکت مجلس میں پڑھایا۔صدر جلسہ حضرت مولانا مفتی محمد فاروق صاحب نے بخاری شریف کا آخری درس دیا،آپنے بخاری شریف کی آخری حدیث کی تشریح کرتے ہوئے میزان کے اوپر تفصیلی روشنی ڈالی، ساتھ ہی آپ نے بتایا کہ آج جو چیزوں میں لذت ختم ہو گئی ہے، لوگ کہتے ہیں کہ ملاوٹ کی وجہ سے ہےمگر ایسا نہیں ہے ،بلکہ ہمارے اعمال کے خراب ہونے اور اللہ سے دوری ہونے کے سبب ایسا ہوا ہے،آپنے فرمایا کہ آج ہم‌بڑی آسانی سے کہہ دیتے ہیں کہ پریشانیاں حالات کی وجہ سے ہیں ،بلکہ ایسا نہیں ہے ہماری بد اعمالیوں کے سبب یہ عذاب ہے حالات نہیں ہے،باپ بیٹے کے نظریات میں اختلاف کا ہونا یہ بھی اللہ کی طرف سے عذاب ہے،آپ نے فرقہ باطلہ کا رد کرتے ہوئے فرمایا کہ کوئی بھی فرقہ بظاہر ختم ہوجائے مگر اسکے افکار باقی رہتے ہیں

 

اپنے فرقہ معتزلہ اور فتنہ شکیلیت کے باطل عقائد و خیالات کو بھی سامنے رکھا،اور قرآن کی آیات و احادیث نبویہ کی روشنی میں تشفی بخش جوابات سے سامعین کو روشناس کرایا،آپنے مزید فرمایا کہ نقل صحیح اور عقل سلیم میں کبھی بھی تضاد نہیں ہو سکتا،طلباء عزیزان کو انکی ذمہ داریوں کا احساس کروایا،فرمایا کہ آپ کے سامنے محنت کے لئے وسیع میدان ہے، آپ کو مستقبل میں معلم بننا ہے،لوگوں کو علم دین اور ادب سکھانا ہے،آپکا بیان اتنا مؤثر تھا کہ کیا عوام کیا خواص سب آپکی علمی باتوں کے دیوانہ ہو رہے تھے اور دل چاہ رہا تھا کہ حضرت کا درس اسی طرح پوری رات چلتا رہے،وقت اپنی جگہ رک جائے، لوگوں میں سننے کی رغبت باقی تھی مگر تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کے بعد رات زیادہ ہو جانے کی وجہ سے حضرت کا بیان تو ختم ہو گیا ،مگر دلوں میں سیکھنے کی چاہت باقی رہی۔

 

اس سے قبل مہمان خصوصی حضرت مولانا قاضی ابو ریحان صاحب فاروقی قاضی شہر اندور و مہتمم مدرسہ ریاض العلوم کھجرانہ اندور نے بخاری شریف کی فضیلت ، علم‌دین کے حصول پر ملنے والے انعامات ، شب معراج کی فضیلت ،مدارس اسلامیہ کی اہمیت و اصلاحی معاشرہ کے عنوان سے جامع خطاب فرمایا ۔درمیان میں حضرت مولانا قاری محمد آفتاب احمد صاحب امروہوی استاذ شعبہ تجوید و قرأت نے بہترین لب و لہجہ اور حسن صوت میں ڈوبی آواز سے مجلس کو زعفران زار و مشکبار بنا دیا۔ اس کے بعد حضرت مولانا مفتی اشرف عباس صاحب قاسمی استاذ فقہ و ادب و ناظم دار الاقامہ دار العلوم دیوبند نے علم دین کی فضیلت،دینی مدارس مصرف کی بہترین جگہ، فارغین فضلاء کی ذمہ داریاں، والدین کے حقوق ،نکاح کو سنت کے مطابق کرنے ،نماز کی پابندی، موجودہ زمانہ میں سنجیدہ اور ہوشیار رہنے،امانتداری ،خلوص کے ساتھ دین کے کام کرنے اور فتنہ شکیلیت جیسے فتنوں سے اپنے ایمان کی حفاظت کرنے پر بصیرت افروز خطاب فرمایا ۔

 

حضرت مولانا عبد القادر صاحب امام و خطیب مسجد سات راستہ ممبئی نے اصلاح معاشرہ،اولاد کی اچھی تربیت،دینی تعلیم سے انکو آراستہ کرانے پر زور دیا ،اور فتنہ شکیلیت کا مقابلہ کرنے جیسے کئی اہم موضوعات پر مؤثر انداز میں خطاب فرمایا۔آخر میں ناظم جامعہ حضرت مولانا مفتی محمد احمد خانصاحب نے مختصر خطاب فرمایا ،آپنے اپنے بیان میں فرمایاکہ آج ہم پر جو حالات آرہے ہیں یہ ہماری بد اعمالیوں کا نتیجہ ہے ،ہمارے معاملات لین دین خراب ہو گئے،ہم تجارت میں دھوکہ دینے لگے ، اللہ کے حکم کو چھوڑ دیا ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں سے روگردانی کرنے لگے، اسی وجہ سے ہم پریشانیوں میں مبتلا ہے اور اللہ کی رحمتوں سے دور ہیں لہذا ہمیں اپنے اعمال درست کرنے کی اشد ضرورت ہے، ساتھ ہی آپ نے جامعہ اسلامیہ عربیہ مسجد ترجمہ والی بھوپال کے تمام معاونین اور جلسہ میں تشریف لائے ہوئے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا

 

اسکے بعد حضرت مفتی تبریز صاحب نے طلباء کو اسٹیج پر بلایا اور حضرت ‌مولانا مفتی محمد فاروق صاحب مدنی و حضرت مولانا مفتی اشرف عباس صاحب قاسمی کے دست مبارک سے فارغین جامعہ کی دستار بندی کا عمل وجود میں آیا ساتھ ہی ان اکابر کے ہاتھوں اسناد تقسیم کی گئی اورحضرت مولانا مفتی محمد فاروق صاحب کی دعا پر جلسہ کا اختتام ہوا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button