آمدِ رمضان: عبادت، تقویٰ اور کردار سازی کا مہینہ

مفتی اشفاق قاضی
چند دنوں میں ہم ان شاء اللہ بفضل خداوندی ماہ صیام میں داخل ہوچکے ہوں گے، ماہِ صیام یعنی رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت، رحمتوں، برکتوں اور مغفرتوں کا مہینہ ہے، یہ وہ مبارک مہینہ ہے جس میں قرآنِ مجید نازل ہوا، جس میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو قید کر دیا جاتا ہے، رمضان دراصل صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ یہ مہینہ خود احتسابی، تقویٰ، صبر، ایثار، عبادت اور اخلاقی تربیت کا مہینہ ہے، لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ رمضان کی آمد کو صرف کھانے پینے کے نظام، سحری و افطار کے اہتمام یا بازاروں کی رونق تک محدود کر دیتے ہیں
حالانکہ اس مہینے کا اصل مقصد روحانی تیاری اور عملی اصلاح ہے، اس لیے ضروری ہے کہ رمضان کے آغاز سے قبل ہم سنجیدگی کے ساتھ اس مبارک مہینے کی تیاری کریں، تاکہ جب رمضان آئے تو ہم اس کی برکتوں سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں، یہ تیاری صرف چند دن کی نہیں بلکہ ایک شعوری عمل ہے جس میں نیت کی درستگی، اعمال کی اصلاح اور زندگی کے معمولات کی ترتیب شامل ہے، سب سے پہلی اور بنیادی تیاری نیت کی درستگی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے "اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔(بخاری) ، اگر ہماری نیت محض رسم کی ادائیگی کے تحت روزہ رکھنے کی ہو تو رمضان کا اصل فیض حاصل نہیں ہوگا، ہمیں دل میں یہ عزم پیدا کرنا ہوگا کہ ہم رمضان کو اللہ کی رضا، اپنے گناہوں کی معافی اور اپنی زندگی کو شریعت کے مطابق ڈھالنے کے لیے گزاریں گے
نیت کی اصلاح کے بغیر نہ روزے میں وہ روح پیدا ہوتی ہے اور نہ عبادت میں وہ لذت۔ رمضان کی تیاری کا دوسرا اہم پہلو عبادت کی عادت ڈالنا ہے، جو شخص پورا سال نمازوں میں سستی کرتا رہا ہو، اس کے لیے اچانک رمضان میں باجماعت نماز، تراویح، تہجد اور نوافل کا اہتمام کرنا مشکل ہو جاتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ عموماً مسجدیں جس طرح پہلے روزے کو بھری ہوتی ہیں ، اس طرح دس دن بعد وہ منظر نہیں ہوتا، اس لیے رمضان سے پہلے ہی نمازوں کی پابندی، خاص طور پر فجر اور عشاء کی نماز باجماعت ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، قرآنِ مجید کی تلاوت کی عادت ڈالنا بھی نہایت ضروری ہے،روزانہ تھوڑا وقت نکال کر قرآن پڑھنے کا معمول بنائیں تاکہ رمضان میں قرآن سے ہمارا تعلق مضبوط ہو
رمضان کی تیاری میں اپنے اخلاق و کردار کی اصلاح بھی نہایت ضروری ہے،روزہ صرف کھانے پینے سے رکنے کا نام نہیں بلکہ آنکھ، کان، زبان اور دل کو بھی گناہوں سے بچانے کا نام ہے، جھوٹ، غیبت، چغل خوری، بدزبانی، حسد اور کینہ جیسی بیماریوں سے توبہ کرنا اور ان سے بچنے کا پختہ عزم کرنا رمضان کی حقیقی تیاری ہے اگر ہم روزہ رکھ کر بھی زبان سے دوسروں کو تکلیف پہنچاتے رہیں تو ایسے روزے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، رمضان سے پہلے اپنے معاملات درست کرنا بھی ضروری ہے اگر کسی کا حق ہم پر واجب ہے تو اسے ادا کرنے کی کوشش کریں، اگر کسی سے ناراضگی یا جھگڑا ہے تو صلح کر لیں، کیونکہ دلوں میں کینہ رکھ کر عبادت کا لطف حاصل نہیں ہوتا ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ بعض لوگوں کے اعمال قبول نہیں ہوتے کیونکہ ان کے دلوں میں بغض ہوتا ہے، لہٰذا رمضان سے پہلے دل کو صاف کرنا، معاف کرنا اور درگزر کی عادت اپنانا نہایت اہم ہے۔
مالی تیاری بھی رمضان کی تیاری کا ایک اہم حصہ ہے، زکوٰۃ، صدقات اور خیرات کا حساب پہلے سے کر لینا چاہیے تاکہ رمضان میں مستحقین تک بروقت مدد پہنچ سکے، رمضان میں نیکی کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے، اس لیے اس مہینے میں غریبوں، یتیموں، بیواؤں اور ضرورت مندوں کی مدد کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے، تاہم یہ بھی یاد رہے کہ اسراف اور نمود و نمائش سے بچتے ہوئے سادگی اور اخلاص کے ساتھ خرچ کیا جائے،رمضان کی تیاری میں اپنے وقت کے نظم و ضبط پر بھی توجہ دینا ضروری ہے، عام طور پر رمضان میں لوگ شکایت کرتے ہیں کہ وقت نہیں ملتا، حالانکہ مسئلہ وقت کی کمی کا نہیں بلکہ وقت کے غلط استعمال کا ہوتا ہے، رمضان سے پہلے ہی اپنے روزمرہ معمولات کا جائزہ لیں، غیر ضروری مشاغل کم کریں، موبائل اور سوشل میڈیا کے بے جا استعمال سے بچیں اور عبادت کے لیے مناسب وقت نکالنے کی منصوبہ بندی کریں، خواتین اسلام کے لیے رمضان کی تیاری کچھ اضافی پہلو رکھتی ہے، گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ عبادت کا وقت نکالنا ایک چیلنج ہو تا ہے، اس لیے رمضان سے پہلے ہی کھانے پینے کی غیر ضروری مصروفیات کم کرنے
سادگی اختیار کرنے اور عبادت کو ترجیح دینے کا فیصلہ کرنا چاہیے، مرد حضرات پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ گھریلو کاموں میں تعاون کریں تاکہ گھر کی خواتین بھی سکون کے ساتھ عبادت کر سکیں۔بچوں کی تربیت بھی رمضان کی تیاری کا اہم حصہ ہے، بچوں کو رمضان کی فضیلت، روزے کی اہمیت اور عبادت کی قدر و قیمت سمجھانا والدین کی ذمہ داری ہے، چھوٹے بچوں کو جزوی روزے رکھوانا، نماز کی عادت ڈالنا اور افطار کے وقت دعا کا اہتمام کروانا ان کے دلوں میں رمضان کی محبت پیدا کرتا ہے، یہ تربیت آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے،رمضان کی تیاری میں صحت کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے اگرچہ روزہ روحانی عبادت ہے، لیکن جسمانی صحت کا خیال رکھنا بھی شریعت کا تقاضا ہے رمضان سے پہلے سادہ غذا، مناسب نیند اور غیر ضروری کھانے پینے کی عادتوں سے پرہیز کرنا چاہیے تاکہ روزے آسانی سے رکھے جا سکیں ، افطار اور سحری میں اعتدال اختیار کرنا بھی رمضان کی روح کے عین مطابق ہے، بہرحال ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ رمضان کا مہینہ بہت تیزی سے گزر جاتا ہے جو شخص اس کی تیاری کے بغیر اس میں داخل ہوتا ہے
وہ اکثر حسرت کے ساتھ دیکھتا رہ جاتا ہے کہ رمضان آیا اور چلا گیا،لیکن جو شخص شعوری تیاری کے ساتھ رمضان کا استقبال کرتا ہے، وہ اس مہینے کو اپنی زندگی کا ایک یادگار اور بابرکت حصہ بنا لیتا ہے،اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان المبارک کی قدر کرنے، اس کی صحیح تیاری کرنے اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
(مضمون نگار معروف عالم دین، مشہور کالم نگار، صدر مفتی دارالافتاء والارشاد جامع مسجد بمبئی اور فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر کے بانی وڈائریکٹر ہیں)



