تراویح 20 رکعات یا 8

از قلم مفتی محمد عبدالحمید شاکر قاسمی
توپران ضلع میدک تلنگانہ

رمضان المبارک کی راتوں کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی فضیلت عطا فرمائی ہے۔ دن کے روزے اگر بندۂ مومن کو صبر، تقویٰ اور ضبطِ نفس کی تربیت دیتے ہیں تو راتوں کا قیام ایمان کو تازگی، دل کو خشوع اور روح کو قربِ الٰہی عطا کرتا ہے۔ اسی قیامِ رمضان کو بعد کے ادوار میں نمازِ تراویح کہا گیا، جو عہدِ نبوی ﷺ سے لے کر آج تک امتِ مسلمہ کا متواتر اور مسلسل عمل ہے۔ تراویح کی رکعات کی تعداد کے حوالے سے جو آٹھ اور بیس کا اختلاف پایا جاتا ہے، وہ دراصل فقہی و اجتہادی اختلاف ہے، نہ کہ عقیدے یا فرضیت کا، اور اسی نکتے کو سمجھے بغیر اس مسئلے پر گفتگو اکثر شدت اور انتشار کا سبب بن جاتی ہے۔ حوالہ: سورۃ الاسراء: 79؛ تفسیر ابن کثیر، ج 4، ص 256۔
قرآنِ کریم نے قیام اللیل کی مشروعیت کو عمومی اور مطلق انداز میں بیان کیا ہے، کسی مخصوص عدد کا تعین نہیں فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَكَ، یعنی رات کے کچھ حصے میں تہجد ادا کیجیے، یہ آپ کے لیے زائد عبادت ہے۔ اسی طرح فرمایا: كَانُوا قَلِيلًا مِّنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ، یعنی اللہ کے نیک بندے رات کو بہت کم سوتے تھے۔ ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ شریعت کی نظر میں اصل مقصود رات کا قیام ہے، نہ کہ رکعات کی گنتی، اور یہی اصول نمازِ تراویح کے مسئلے کی بنیاد بنتا ہے۔ حوالہ: سورۃ الاسراء: 79؛ سورۃ الذاریات: 17؛ تفسیر قرطبی، ج 10، ص 308۔
نبی کریم ﷺ کے ذاتی عمل کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ قیام نہیں فرمایا کرتے تھے۔ اس روایت کو بعض حضرات نے آٹھ رکعاتِ تراویح کی دلیل بنایا ہے، حالانکہ محدثین اور فقہاء نے واضح کیا ہے کہ یہ حدیث حضور ﷺ کے معمولِ تہجد کو بیان کرتی ہے، نہ کہ امت کے لیے تراویح کی حد بندی کو۔ خود حضرت عائشہؓ کی دیگر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ قیام کی طوالت کو ترجیح دیتے تھے، نہ کہ رکعات کی کثرت کو۔ حوالہ: صحیح بخاری، حدیث 1147؛ صحیح مسلم، حدیث 738؛ شرح مسلم للنووی، ج 6، ص 39۔
رمضان میں باجماعت قیام کا آغاز خود نبی کریم ﷺ کے عمل سے ثابت ہے۔ حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چند راتیں صحابہؓ کو مسجد میں قیام کرایا، پھر چوتھی رات تشریف نہیں لائے، اور صبح فرمایا کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ یہ تم پر فرض نہ کر دی جائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت کے ساتھ قیام مشروع ہے، لیکن نبی ﷺ نے امت پر آسانی کے لیے اس کا التزام ترک فرمایا، نہ کہ اس کی مشروعیت کو منسوخ کیا۔ حوالہ: صحیح بخاری، حدیث 1129؛ صحیح مسلم، حدیث 761؛ فتح الباری، ج 4، ص 253۔
نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد جب فرضیت کا اندیشہ باقی نہ رہا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے امت کو ایک امام پر جمع کرنے کا تاریخی فیصلہ فرمایا۔ حضرت عبد الرحمن بن عبد القاریؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے لوگوں کو حضرت ابی بن کعبؓ کی اقتدا میں جمع کر دیا اور فرمایا: نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ هَذِهِ۔ اس اقدام کا مقصد عبادت کو منظم کرنا اور انتشار کو ختم کرنا تھا، نہ کہ کوئی نئی عبادت ایجاد کرنا۔ حوالہ: صحیح بخاری، حدیث 2010؛ فتح الباری، ج 4، ص 253۔
حضرت عمرؓ کے زمانے میں تراویح کی رکعات کی تعداد کے بارے میں متعدد آثار موجود ہیں۔ تابعی بزرگ حضرت یزید بن رومانؒ فرماتے ہیں کہ لوگ حضرت عمرؓ کے دور میں بیس رکعات قیام کرتے تھے۔ یہی روایت امام مالکؒ نے موطا میں نقل فرمائی ہے اور امام بیہقیؒ نے اسے سنن کبریٰ میں متعدد اسانید سے ذکر کیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بیس رکعات کا عمل محض ایک فرد یا شہر تک محدود نہیں تھا بلکہ عہدِ فاروقی کا عمومی معمول تھا۔ حوالہ: موطا امام مالک، حدیث 250؛ السنن الکبریٰ للبیہقی، ج 2، ص 496؛ مصنف ابن ابی شیبہ، ج 2، ص 393۔
یہ عمل صرف حضرت عمرؓ تک محدود نہیں رہا بلکہ حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کے ادوار میں بھی اسی طریقے پر امت قائم رہی۔ حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے رمضان میں لوگوں کو بیس رکعات پر قائم رکھا اور اس پر کسی صحابی نے نکیر نہیں کی، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ عمل اجماعی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔ حوالہ: مصنف ابن ابی شیبہ، ج 2، ص 393؛ السنن الکبریٰ للبیہقی، ج 2، ص 496؛ فتح الباری، ج 4، ص 253۔
ائمہ اربعہ کے اقوال بھی اسی تاریخی اور عملی تسلسل کی ترجمانی کرتے ہیں۔ امام ابو حنیفہؒ اور ان کے تلامذہ کے نزدیک تراویح بیس رکعات سنتِ مؤکدہ ہے۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ میں نے مکہ اور مدینہ کے لوگوں کو بیس رکعات ہی پڑھتے پایا۔ امام احمد بن حنبلؒ سے بھی بیس رکعات کا قول منقول ہے، جبکہ امام مالکؒ کے زمانے میں اہلِ مدینہ چھتیس رکعات پڑھتے تھے، جو دراصل طواف کی کثرت کے بدل کے طور پر تھیں۔ حوالہ: بدائع الصنائع، ج 2، ص 275؛ الام للشافعی، ج 1، ص 191؛ المغنی لابن قدامہ، ج 2، ص 604؛ موطا امام مالک، حدیث 249۔
آٹھ رکعات کے قائلین کا اصل مدار حضرت عائشہؓ کی حدیث پر ہے، مگر جمہور محدثین نے واضح کیا ہے کہ اس حدیث کو تراویح پر محمول کرنا محلِ نظر ہے، کیونکہ خود صحابہؓ نے اس سے بیس رکعات مراد نہیں لی۔ اگر یہ حدیث تراویح کی تحدید کے لیے ہوتی تو حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ اور دیگر جلیل القدر صحابہؓ اس کے خلاف عمل نہ کرتے۔ حوالہ: شرح مسلم للنووی، ج 6، ص 39؛ فتح الباری، ج 4، ص 254۔
اس پوری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ تراویح آٹھ یا بیس دونوں صورتوں میں قیامِ رمضان ہے، مگر بیس رکعات کا عمل سنتِ خلفائے راشدین، تعاملِ صحابہؓ اور اجماعِ امت سے ثابت ہے، جبکہ آٹھ رکعات نبی کریم ﷺ کے ذاتی معمولِ تہجد کی اتباع پر مبنی ہیں۔ اس لیے اس مسئلے میں وسعت، تحمل اور امت کے اجتماعی منہج کو سامنے رکھنا ضروری ہے، نہ کہ تشدد اور تفریق۔ حوالہ: صحیح بخاری، حدیث 2010؛ حجۃ اللہ البالغہ، ج 1، ص 123؛ فتاویٰ جمہور اہلِ علم، ج 4، ص 273۔
اور جمہور کا مسلک کے نزدیک نمازِ تراویح کے مسئلے کو سمجھنے کے لیے محض چند روایات پر اکتفا نہیں کیا جاتا بلکہ اصولِ فقہ، تعاملِ صحابہؓ، تسلسلِ امت اور مقاصدِ شریعت کو مجموعی طور پر سامنے رکھا جاتا ہے۔ امام ابو حنیفہؒ کے منہج کی اساس یہی ہے کہ جس عبادت پر صحابۂ کرامؓ کا اجتماعی اور متوارث عمل قائم ہو جائے، وہ سنتِ مؤکدہ کے درجے میں داخل ہو جاتی ہے، اگرچہ اس کی رکعات یا ہیئت میں نبی کریم ﷺ سے ایک سے زائد صورتیں منقول ہوں۔ اسی اصول کے تحت فقہ میں بیس رکعات تراویح کو سنتِ مؤکدہ قرار دیا گیا، کیونکہ یہ وہ صورت ہے جو خلفائے راشدین، بالخصوص حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہم کے ادوار میں بلا اختلاف رائج رہی۔ حوالہ: اصول الشاشی، ص 289؛ بدائع الصنائع، ج 2، ص 275؛ فتح القدیر، ج 1، ص 407۔
فقہ میں سنتِ مؤکدہ کی تعریف یہ ہے کہ وہ عمل جس پر نبی کریم ﷺ نے مداومت فرمائی ہو یا آپ ﷺ کے بعد صحابۂ کرامؓ نے اس پر دوام اختیار کیا ہو اور اس کا ترک امت میں شاذ سمجھا جاتا ہو۔ نمازِ تراویح بیس رکعات اسی تعریف پر پوری اترتی ہے، کیونکہ عہدِ فاروقی سے لے کر صدیوں تک امت کا تعامل اسی پر قائم رہا۔ یہی وجہ ہے کہ فقہ میں بیس رکعات کا ترک بلا عذر مکروہ شمار کیا گیا ہے، اگرچہ آٹھ رکعات پڑھ لینے سے قیامِ رمضان کا اصل ثواب حاصل ہو جاتا ہے۔ حوالہ: رد المحتار، ج 2، ص 45؛ الدر المختار، ج 1، ص 456۔
جمہور کا مسلک دراصل فقہ اور حدیث فہمی کے اس جامع منہج کا تسلسل ہے جس میں روایت اور درایت دونوں کو جمع کیا جاتا ہے۔ جمہور محققین نے تراویح کے مسئلے میں ہمیشہ اعتدال، وسعت اور امت کے اجتماعی منہج پر زور دیا ہے۔ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ فرماتے ہیں کہ بیس رکعات تراویح خلفائے راشدین کا مسنون طریقہ ہے اور اسی پر امت کا عمل چلا آ رہا ہے، لہٰذا اسے چھوڑ کر آٹھ پر اصرار کرنا فتنہ کا سبب بن سکتا ہے، خصوصاً وہاں جہاں بیس کا تعامل ہو۔ حوالہ: فتاویٰ رشیدیہ، ص 274؛ فتاویٰ جمہور اہلِ علم، ج 4، ص 273۔
حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ اور ان کے تلامذہ نے بھی اسی منہج کی تائید فرمائی کہ تراویح کی اصل روح قیام، خشوع اور قرآن کے ساتھ تعلق ہے، نہ کہ محض عدد پر نزاع۔ تاہم جہاں امت کا غالب اور متوارث عمل بیس رکعات پر ہو، وہاں اسی کو اختیار کرنا اتحادِ امت اور سدِّ فتنہ کے لیے ضروری ہے۔ یہ موقف دراصل حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے اس اصول کی عملی شکل ہے کہ فروعی اختلافات میں مقامی اور اجتماعی عمل کی رعایت کی جائے۔ حوالہ: حجۃ اللہ البالغہ، ج 1، ص 123؛ فتاویٰ شیخ الہند، ج 1، ص 215۔
اکابر کے نزدیک آٹھ رکعات کا قول اگرچہ بعض اہلِ علم سے منقول ہے، مگر اسے بیس رکعات کے بالمقابل کھڑا کرنا علمی دیانت کے خلاف ہے، کیونکہ آٹھ رکعات کے حق میں نہ تو صحابۂ کرامؓ کا اجتماعی تعامل ہے اور نہ ہی خلفائے راشدین کا تسلسل۔ اسی لیے جمہور محققین نے واضح فرمایا کہ آٹھ رکعات کو سنتِ تراویح کہنا درست نہیں، بلکہ یہ نبی ﷺ کے تہجد کے معمول سے ماخوذ ایک اجتہادی تطبیق ہے۔ حوالہ: فتاویٰ محمودیہ، ج 7، ص 175؛ شرح مسلم للنووی، ج 6، ص 39۔
اور نقطۂ نظر میں ایک اہم اصول یہ بھی ہے کہ عبادات میں کثرتِ عمل کو امت کے اجتماعی مزاج کے ساتھ جوڑا جائے۔ بیس رکعات تراویح میں قرآنِ کریم کی زیادہ مقدار سننے اور سنانے کا موقع ملتا ہے، جس کی طرف خود اکابر نے توجہ دلائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برصغیر میں رمضان کے دوران مکمل قرآن سنانے کا جو رواج قائم ہوا، وہ بیس رکعات کے ساتھ زیادہ مناسب اور سہل ہے۔ حوالہ: فتاویٰ جمہور اہلِ علم، ج 6، ص 243؛ احسن الفتاویٰ، ج 3، ص 514۔
جمہور کے تحقیقی منہج کے مطابق نمازِ تراویح کے مسئلے میں حتمی اور راجح موقف وہی ہے جو تعاملِ صحابہؓ، اجماعِ امت اور ائمہ اربعہ کے متفقہ اقوال سے ثابت ہو۔ اسی بنیاد پر آٹھ رکعات کو نمازِ تراویح قرار دینا درست نہیں بلکہ یہ صریح طور پر خلافِ آثارِ صحابہؓ اور خلافِ اجماعِ عملی ہے۔ حضرت عائشہؓ کی روایت جس میں گیارہ رکعات کا ذکر ہے، جمہور محدثین و فقہاء کے نزدیک تہجد سے متعلق ہے، اور اسے تراویح پر منطبق کرنا اصولِ حدیث اور فہمِ سلف کے خلاف ہے۔ اگر یہ روایت تراویح کی تحدید کے لیے ہوتی تو حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ، حضرت ابن عباسؓ اور دیگر صحابہؓ اس کے خلاف کبھی بیس رکعات پر اجتماع نہ کرتے۔ حوالہ: شرح مسلم للنووی، ج 6، ص 39؛ فتح الباری، ج 4، ص 254؛ مصنف ابن ابی شیبہ، ج 2، ص 393۔
جمہور اہلِ علم نے بارہا اس امر کی صراحت کی ہے کہ آٹھ رکعات کو تراویح کہنا تاریخی، حدیثی اور فقہی لحاظ سے ناقابلِ قبول ہے۔ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ فرماتے ہیں کہ تراویح بیس رکعات ہیں، یہی سنتِ خلفائے راشدین ہے، اور اس کے خلاف کہنا بدعت اور گمراہی کا دروازہ کھولتا ہے۔ اسی طرح فتاویٰ جمہور اہلِ علم میں واضح طور پر درج ہے کہ آٹھ رکعات کو سنتِ تراویح کہنا غلط ہے اور اس کی کوئی صحیح بنیاد عہدِ صحابہؓ میں نہیں ملتی۔ حوالہ: فتاویٰ رشیدیہ، ص 274؛ فتاویٰ جمہور اہلِ علم، ج 4، ص 273۔
ائمہ اربعہ کے اقوال اس مسئلے میں نہایت واضح اور فیصلہ کن ہیں۔ امام ابو حنیفہؒ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کے نزدیک نمازِ تراویح بیس رکعات ہے، جبکہ امام مالکؒ کے نزدیک اصل بیس ہی ہیں، البتہ اہلِ مدینہ کے عمل کے طور پر چھتیس رکعات بھی منقول ہیں، جو بیس کی نفی نہیں بلکہ اس پر اضافہ ہے۔ کسی ایک امام سے بھی آٹھ رکعات کو تراویح قرار دینا ثابت نہیں۔ حوالہ: بدائع الصنائع، ج 2، ص 275؛ الام للشافعی، ج 1، ص 191؛ المغنی لابن قدامہ، ج 2، ص 604؛ موطا امام مالک، حدیث 249۔
ائمہ اربعہ کے اس متفقہ موقف کے بعد آٹھ رکعات کے جواز یا ترجیح کی بات کرنا اجماعِ امت کے مقابلے میں شاذ اور ناقابلِ التفات ہے۔ اصولِ فقہ کا مسلم قاعدہ ہے کہ جب کسی مسئلے میں صحابہؓ کا تعامل اور ائمہ کا اتفاق موجود ہو تو اس کے خلاف انفرادی فہم یا جزوی روایت کو قبول نہیں کیا جاتا۔ یہی منہج جمہور اہلِ علم کا ہے اور یہی منہج اہلِ سنت والجماعت کا امتیاز ہے۔ حوالہ: اصول الشاشی، ص 289؛ فتح القدیر، ج 1، ص 407۔
لہٰذا اس تحقیقی مطالعہ کا قطعی اور حتمی نتیجہ یہ ہے کہ نمازِ تراویح بیس رکعات سنتِ مؤکدہ ہے، جو نبی کریم ﷺ کے اشارے، خلفائے راشدین کے فیصلے، صحابہؓ کے اجماعِ عملی اور ائمہ اربعہ کے متفقہ اقوال سے ثابت ہے۔ آٹھ رکعات کو تراویح کہنا علمی دیانت کے خلاف اور امت کے متوارث دینی نظام میں خلل ڈالنے کے مترادف ہے۔ جمہور اہلِ علم کے علمی معیار کے مطابق اسی موقف کی ترجیح واجب ہے اور اسی کو امت کے سامنے پیش کرنا حق و صواب ہے۔ حوالہ: صحیح بخاری، حدیث 2010؛ فتاویٰ جمہور اہلِ علم، ج 4، ص 273؛ رد المحتار، ج 2، ص 46۔
اس تحریر میں اختیار کیا گیا منہج کسی فرد، ادارے یا معاصر عنوان کا محتاج نہیں بلکہ وہی قدیم، متوارث اور محتاط علمی طریقہ ہے جو امت کے اکابر فقہاء اور محدثین نے اختیار کیا۔ اس منہج کی بنیاد یہ ہے کہ عبادات کے باب میں وہی صورت راجح اور لازم العمل ہوتی ہے جس پر نبی کریم ﷺ کے بعد صحابۂ کرامؓ کا اجتماعی تعامل قائم ہو، جسے خلفائے راشدین نے نافذ کیا ہو اور جسے ائمہ مجتہدین نے بلا تردد قبول کیا ہو۔ اس طریقِ کار میں شاذ روایات، جزوی فہم یا بعد کے انفرادی رجحانات کو اصل کے مقابل نہیں رکھا جاتا، بلکہ انہیں نصوص، آثار اور اجماع کے تابع سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس منہج میں نمازِ تراویح کے مسئلے کو محض عددی بحث کے طور پر نہیں دیکھا گیا بلکہ اسے سنت کے تحفظ اور امت کے اجتماعی دینی نظام کے بقا سے جوڑا گیا ہے۔ حوالہ: فتح القدیر، ج 1، ص 407؛ اصول الشاشی، ص 289؛ الاعتصام للشاطبی، ج 1، ص 64۔
اسی منہج کو اگر امت کے ایک اور متفق علیہ مسئلے، یعنی داڑھی کے حکم پر منطبق کیا جائے تو اصول پوری طرح واضح ہو جاتا ہے۔ داڑھی کے بارے میں نبی کریم ﷺ کا حکم صریح ہے، صحابۂ کرامؓ کا اس پر تعامل متواتر ہے اور امت کا اس پر اجماعِ عملی قائم ہے، اس لیے فقہاء نے اس میں کمی بیشی یا گنجائش کی بات کو قبول نہیں کیا۔ اگر کوئی شخص چند جزوی احتمالات یا بعد کے عرفی رجحانات کی بنیاد پر داڑھی کے وجوب میں نرمی پیدا کرے تو اسے علمی طور پر مردود قرار دیا جاتا ہے، کیونکہ وہ متوارث سنت کے مقابل ایک شاذ زاویۂ نظر پیش کرتا ہے۔ بعینہٖ یہی اصول نمازِ تراویح پر لاگو ہوتا ہے۔ جس طرح داڑھی کے باب میں متواتر عمل کے ہوتے ہوئے چند احتمالی تعبیرات کو اصل پر ترجیح نہیں دی جا سکتی، اسی طرح تراویح کے باب میں صحابۂ کرامؓ اور ائمہ امت کے متفقہ تعامل کے مقابل آٹھ رکعات کے انفرادی فہم کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ حوالہ: صحیح بخاری، حدیث 5892؛ رد المحتار، ج 6، ص 407؛ الاعتصام للشاطبی، ج 2، ص 182۔
یہی وجہ ہے کہ اس منہج میں داڑھی اور تراویح دونوں کو ایک ہی اصولی زاویے سے دیکھا جاتا ہے، یعنی سنت کی حفاظت، شعارِ امت کا بقا اور دین میں تدریجی کمزوری کے دروازے بند کرنا۔ اگر تراویح جیسے شعیرہ میں عدد کے نام پر گنجائش کا دروازہ کھولا جائے تو بالآخر یہی طرزِ فکر دیگر مسنون اعمال میں تخفیف اور تعطیل تک پہنچتا ہے، جیسا کہ داڑھی، لباس، نماز کی ہیئت اور دیگر ظاہری شعائر میں دیکھا جا چکا ہے۔ اس لیے اکابر فقہاء نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ جہاں نصوص کے ساتھ تعاملِ صحابہؓ اور اجماعِ امت موجود ہو، وہاں رخصت اور تخفیف کی باتo کرنا دراصل سنت کو کمزور کرنا ہے۔ حوالہ: حجۃ اللہ البالغہ، ج 1، ص 123؛ الاعتصام للشاطبی، ج 1، ص 110۔
اس بحث کا مقصد کسی گروہی شناخت کو ابھارنا نہیں بلکہ اس اصولی حقیقت کو واضح کرنا ہے کہ دین اپنی اصل صورت میں تبھی محفوظ رہتا ہے جب اسے اسی اجتماعی، محتاط اور وراثتی منہج کے ساتھ منتقل کیا جائے جس کے ذریعے وہ ہم تک پہنچا ہے۔ نمازِ تراویح کی بیس رکعات اسی منہج کی عملی مثال ہیں، جیسے داڑھی کا وجوب اسی منہج کی علامت ہے۔ دونوں میں قدرِ مشترک یہ ہے کہ یہ اعمال نص، تعامل اور اجماع کے امتزاج سے ثابت ہیں، اور دونوں میں گنجائش پیدا کرنا دراصل امت کے متفقہ دینی تشخص کو مجروح کرنا ہے۔ حوالہ: صحیح بخاری، حدیث 2010؛ رد المحتار، ج 2، ص 46؛ الاعتصام للشاطبی، ج 2، ص 200۔
خلاصہ کلام
یہ تحقیقی مضمون نمازِ تراویح کے مسئلے کو محض رکعات کی عددی بحث کے طور پر نہیں بلکہ سنت کے فہم، اس کے تحفظ اور امت کے متوارث دینی منہج کے تناظر میں پیش کرتا ہے۔ قرآنِ کریم نے قیامُ اللیل کی اصل کو بیان فرمایا، نبی کریم ﷺ نے اس کی ترغیب دی، اور آپ ﷺ کے بعد صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اس عبادت کو منظم، محفوظ اور اجتماعی شکل میں امت کے لیے جاری رکھا۔ خلفائے راشدین کے فیصلے، خصوصاً حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بیس رکعات پر اجتماع، اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ نمازِ تراویح کی یہی صورت امت کے لیے راجح، مضبوط اور لازم العمل ہے۔
یہ گفتگو واضح کرتی ہے کہ آٹھ رکعات کو نمازِ تراویح قرار دینا نہ صحابۂ کرامؓ کے تعامل سے ثابت ہے، نہ ائمہ مجتہدین کے اقوال سے، بلکہ یہ نبی کریم ﷺ کے ذاتی معمولِ تہجد کو تراویح پر منطبق کرنے کا نتیجہ ہے، جو اصولِ حدیث اور فہمِ سلف کے خلاف ہے۔ اس کے برخلاف بیس رکعات کا ثبوت آثارِ صحابہؓ، اجماعِ عملی اور ائمہ اربعہ کے متفقہ موقف سے قائم ہے، اور اسی بنیاد پر اسے سنتِ مؤکدہ تسلیم کیا گیا ہے۔
الحاصل : عبادات میں وہی طریقہ اختیار کیا جائے جو سنتِ نبوی ﷺ، سنتِ خلفائے راشدین اور امت کے اجتماعی عمل سے ثابت ہو، اور ایسے شاذ، انفرادی یا بعد کے رجحانات سے اجتناب کیا جائے جو بظاہر سہولت یا توسع کے نام پر دین کی متوارث ہیئت کو کمزور کر دیتے ہیں۔ اسی اصولی تناظر میں یہ مضمون عددی نزاع اور جدت پسندی کی نفی کرتے ہوئے سنتِ ثابتہ کے تحفظ کو اپنا مرکزی ہدف بناتا ہے۔
زیرِ نظر مقالہ نمازِ تراویح کی رکعات کے مسئلے کا اصولی، حدیثی اور فقہی تجزیہ پیش کرتا ہے۔ اس تحقیق میں ک نصوص قطعیہ، نبی کریم ﷺ کے عملی اسوہ، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے متواتر تعامل اور ائمہ اربعہ کے متفقہ اقوال کی روشنی میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ نمازِ تراویح کی بیس رکعات ہی سنتِ ثابتہ اور امت کا متوارث طریقہ ہیں۔ مقالہ اس امر کی وضاحت کرتا ہے کہ آٹھ رکعات کا تصور نبی ﷺ کے معمولِ تہجد سے ماخوذ ایک غیر منطبق فہم ہے، جسے نہ تعاملِ صحابہؓ کی تائید حاصل ہے اور نہ فقہی اجماع کی۔ تحقیق کا مرکزی مقصد یہ ہے کہ عبادات کے باب میں سنتِ نبوی ﷺ اور سنتِ خلفائے راشدین کی پیروی کو معیار بنایا جائے اور عددی نزاع یا جدت پسندانہ تعبیرات کے ذریعے دینی شعائر میں تخفیف سے اجتناب کیا جائے۔ یہ مقالہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ بیس رکعات تراویح پر عمل نہ صرف فقہی طور پر راجح بلکہ امت کے اتحاد، سنت کے تحفظ اور دینی تسلسل کے لیے ناگزیر ہے۔



