وندے ماترم کا سرکاری طور پر پڑھایا جانا غیر دستوری اور ناقابل قبول۔سرکار نوٹیفیکیشن واپس لے۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

نئی دہلی: 12؍ فروری 2026آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مرکزی حکومت کے اس نوٹیفیکیشن پر سخت اعتراض جتایا، جس کے تحت مرکزی حکومت نے وندے ماترم گیت کے تمام اشعار کا سرکاری تقریبات اور اسکولوں میں قومی گیت جن گن من سے پہلے پڑھایا جانا لازمی قرار دے دیا ہے۔ بورڈ نے اسے غیر آئینی اور مذہبی آزادی کے منافی قرار دیا۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد فضل الرحیم مجددی نے ایک پریس بیان میں مرکزی حکومت کے فیصلہ پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا یہ فیصلہ غیر دستوری، مذہبی آزادی و سیکولر اقدار کے منافی، عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے خلاف اور مسلمانوں کے عقیدے سے راست متصادم ہے، اس لئے مسلمانوں کے لئے ہرگز بھی قابل قبول نہیں ہے۔
مولانا نے کہا کہ رابندر ناتھ ٹیگور کے مشورے اور کانسٹی ٹیواینٹ اسمبلی کے مباحث کے بعد اس بات پر اتفاق ہوگیا تھا کہ اس کے صرف دو بند ہی پڑھے جائیں گے۔ ایک سیکولر حکومت کسی ایک مذہب کے عقائد و تعلیمات کو دوسرے مذہبی طبقات پر جبرا مسلط نہیں کرسکتی۔ یہ گیت بنگال کے پس منظر میں لکھا گیا تھا اور اس میں درگا اور دیگر دیویوں اور دیوتاؤں کی پوجا اور وندنا کی بات کہی گئی ہے۔ مغربی بنگال کے الیکشن سے پہلے اسے نافذ کئے جانے کے پیچھے بی جے پی سرکار کی جوبھی مصلحت ہو مسلمان اسے ہرگز بھی قبول نہیں کرسکتے
اس لئے کہ یہ ان کے ایمان و عقیدے سے راست متصادم ہے۔ مسلمان صرف ایک اللہ وحدہ لا شریک کی ہی عبادت کرتا ہے، اسلام خدا کی ذات میں ذرہ برابر بھی شرک کو برداشت نہیں کرتا۔بورڈ کے جنرل سکریٹری نے آگے کہا کہ ملکی عدالتوں نے بھی اس کے دیگر اشعار کو سیکولر اقدار کے منافی قرار دیتے ہوئے ان کے پڑھے جانے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ لہذا مرکزی حکومت سے
ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ فی الفور اس نوٹیفیکیشن کو واپس لے بصورت دیگر بورڈ اسے عدالت میں چیلینج کرے گا۔



