نیتن یاہو کی موت کی افواہوں پر دنیا بھر میں تجسس، حقیقت کیا ہے؟

ایران۔اسرائیل کشیدگی کے درمیان اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو کی موت سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں نے دنیا بھر میں تجسس پیدا کر دیا ہے۔ مختلف پلیٹ فارمس پر صارفین ان کی موجودگی اور صحت کے بارے میں سوالات اٹھا رہے ہیں، تاہم معتبر ذرائع کے مطابق ان افواہوں کی تاحال کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی۔
یہ قیاس آرائیاں اُس وقت تیز ہو گئیں جب نیتن یاہو کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک ویڈیو جاری کی گئی۔ ویڈیو کے ایک فریم کو لے کر بعض صارفین نے دعویٰ کیا کہ ان کے ہاتھ میں چھ انگلیاں نظر آ رہی ہیں، جس کے بعد کچھ لوگوں نے اسے مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ویڈیو قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آیا یہ اصل ویڈیو ہے یا نہیں۔
اس معاملے پر ایکس کے چیٹ بوٹ گروک (Grok) نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ویڈیو میں اضافی انگلی دکھائی دینا دراصل کیمرے کے زاویے اور تصویر کے فریم کی وجہ سے پیدا ہونے والا بصری دھوکہ (آپٹیکل الیوژن) ہے۔ گروک کے مطابق نیتن یاہو کے دونوں ہاتھوں میں عام انسانوں کی طرح پانچ پانچ انگلیاں ہی ہیں اور ویڈیو میں کسی قسم کی مصنوعی چھیڑ چھاڑ کے شواہد نہیں ملے۔
چیٹ بوٹ نے ان افواہوں کو بھی مسترد کردیا جن میں بعض سوشل میڈیا صفحات اور غیر ملکی ذرائع کی جانب سے نیتن یاہو کی موت کی خبریں پھیلائی جا رہی تھیں۔ گروک کے مطابق ایرانی میڈیا اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی یہ خبریں غیر مصدقہ اور گمراہ کن ہیں اور متعدد معتبر اداروں نے بھی انہیں غلط قرار دیا ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کے خاندان کے حوالے سے بھی سوشل میڈیا پر بات چیت جاری ہے۔ کچھ صارفین نے نشاندہی کی کہ ان کے بیٹے یائر نیتن یاہو نے 9 مارچ کے بعد سے ایکس پر کوئی نئی پوسٹ نہیں کی، جس کے باعث افواہوں کو مزید تقویت ملی۔
ادھر نیتن یاہو کی اہلیہ سارہ نیتن یاہو نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک انٹرویو کا اقتباس شیئر کیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ملک کے اقتدار کے مراکز میں ایک طاقتور سیاسی گروہ موجود ہے، تاہم اسرائیل کی اکثریتی عوام سمجھدار اور ہمدرد ہے اور یہی عوامی حمایت انہیں آگے بڑھنے کی طاقت دیتی ہے۔
تمام تر قیاس آرائیوں کے باوجود سرکاری سطح پر نیتن یاہو کی موت یا ان کے لاپتہ ہونے سے متعلق کسی بھی خبر کی تصدیق نہیں ہوئی۔ فیکٹ چیک کرنے والے اداروں نے بھی ان دعوؤں کو غلط معلومات اور گمراہ کن سوشل میڈیا پوسٹس کا نتیجہ قرار دیا ہے، تاہم سوشل میڈیا پر اس موضوع پر تجسس اور بحث تاحال جاری ہے۔



