حیدرآباد میں ایک کروڑ کی ڈکیتی کا معمہ حل، حوالہ کی رقم ضبط

حیدرآباد: کوکٹ پلی کے علاقہ میں موٹر سائیکل سواروں سے ایک کروڑ روپے لوٹنے کے سنسنی خیز معاملے کو پولیس نے محض 24 گھنٹوں میں حل کرتے ہوئے چار ملزمان کو گرفتار کر لیا جبکہ پانچ دیگر ملزمان تاحال مفرور ہیں۔
پولیس کے مطابق گرفتار شدگان میں محمد عمر شریف، محمد غوث صدام، عبدالحمید اور محمد خسروالدین شامل ہیں۔ تمام ملزمین کا تعلق حیدرآباد کے مختلف علاقوں سے ہے اور ان میں سے بیشتر پیشہ سے ڈرائیور ہیں۔
تفصیلات کے مطابق محمد عظیم الدین، جو بہادرپورہ کا رہنے والا ہے ایک خانگی کمپنی کے لیے نقد رقم کی وصولی کا کام کرتا تھا۔ 17 مارچ کو اسے اپنے ساتھی محمد خسروالدین کے ساتھ کوکٹ پلی سے ایک کروڑ روپے وصول کرنے بھیجا گیا تھا۔
پولیس تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ محمد خسروالدین نے ہی اس واردات کی سازش تیار کی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ جمع کی جانے والی رقم غیر قانونی حوالہ لین دین سے متعلق ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے اپنے ساتھی محمد عمر شریف اور دیگر افراد کے ساتھ مل کر ڈکیتی کا منصوبہ بنایا۔
واردات کے روز جب دونوں موٹر سائیکل پر رقم لے کر واپس آ رہے تھے تو پلر نمبر 836 کے قریب ملزمین نے ان پر حملہ کر دیا۔ ملزمین نے مرچ پاؤڈر آنکھوں میں چھڑک کر ان دونوں کو بے بس کر دیا جس کے باعث موٹر سائیکل بے قابو ہو کر ایک بس سے ٹکرا گئی۔ اسی دوران ملزمین رقم سے بھرا بیاگ لے کر فرار ہو گئے۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس حرکت میں آئی اور جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد کی بنیاد پر تحقیقات کا آغاز کیا۔ ایک موٹر سائیکل کی شناخت کے ذریعے ملزمین تک رسائی حاصل کی گئی۔ بعد ازاں پولیس نے اطلاع ملنے پر راجیو گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ، شمش آباد پر کارروائی کرتے ہوئے ملزمین کو اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ طیارہ کے ذریعہ لکھنؤ فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
پولیس نے ملزمین کے قبضے سے 77 لاکھ 78 ہزار سے زائد نقد رقم ایک موٹر سائیکل، پانچ موبائل فون اور فلائٹ ٹکٹس برآمد کر لیے ہیں۔پولیس کے اعلیٰ حکام کے مطابق اس کامیاب کارروائی میں کوکٹ پلی پولیس اور سی سی ایس بالا نگر کی ٹیموں نے مشترکہ طور پر کام کیا۔ سائبرآباد پولیس کمشنر نے ٹیم کی بروقت اور مؤثر کارروائی کو سراہا ہے۔
پولیس نے بتایا کہ باقی مفرور ملزمان کی تلاش جاری ہے اور انہیں جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔




