سعودی عرب – مشرقِ وسطیٰ میں پہلی ثقافتی جامعہ، “ریاض یونیورسٹی آف آرٹس” منظور

کے این واصف
سعودی عرب اپنے وژن 2030 کے اہداف پورے کرنے ہر شعبہ تبدیلیان لا رہاہے۔ جس میں تھیٹر، ڈرامہ اور فلمی صنعت بھی شامل ہے۔ “ریاض یونیورسٹی آف آرٹس” کے قیام کی منظوری شامل ہے۔ جس کے لیے قیام کے لیے حال میں شاہی فرمان جاری کیا گیا ہے۔ یہ ادارہ مالی اور انتظامی خود مختاری کے ساتھ ایک انڈیپنڈنٹ ادارہ ہے۔
سعودی خبر رساں ایجنسی “ایس پی اے” کے مطابق اس کا ہیڈ کوارٹر وزارت ثقافت کی زیر نگرانی ہے، یونیورسٹی ثقافت اور فنون کی اسپیشلائزڈ ایجوکیشن کےلیے خاص ہے، جس کا مقصد بہترین بین الاقوامی معیار اور سعودی وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ایڈونس اکیڈمک پروگرام کے ذریعے تخلیقی شعبوں میں نیشنل ٹیلنٹ کو فروغ دینا ہے۔
شاہی حکم کے تحت وزیر ثقافت کو بورڈ آف ٹرسٹیز کی باضابطہ تشکیل تک اس کے اختیارات تفویض کیے گئے ہیں۔ یونیورسٹی، ممتاز بین الاقوامی اداروں کے ساتھ شراکت داری کی کوشش کرے گی تاکہ مہارت کا تبادلہ اور ہائی لیول ایجوکیشنل پروگرام تیار کیے جا سکیں۔
یہ اقدام ایک علاقائی ثقافی مرکز کے طور پر مملکت کی پوزیشن کو مضبوط کرنے اور اس کی تخلیقی انڈسٹری کو فروغ دینے کے لیے قیادت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔یاد رہے گزشتہ براس ثقافتی سرمایہ کاری کانفرنس 2025 میں وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن عبداللہ بن فرحان نے ریاض یونیورسٹی آف آرٹس کے جلد قیام کا اعلان کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہیونیورسٹی کو آرٹس اور کلچر کے ٹاپ 50 اداروں میں شامل کرانے کا ہدف ہے۔گزشتہ دنوں ریاض یونیورسٹی آف آرٹس نے لندن کے رائل کالج آف آرٹس کے ساتھ سٹریٹیجک شراکت کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔رائل کالج آف آرٹس کا شمار ڈیزائن اور فنون کے شعبے میں دنیا کے قدیم اور ممتاز تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے۔
ریاض یونیورسٹی آف آرٹس کا مقصد تخلیقی اندازِ تعلیم کا علم بلند کرنا ہے جو تدریس کا فلسفہ، عمل اور منصوبوں کی تکمیل پر مبنی ہوگا۔ اس میں عالمی شہرت یافتہ تعلیمی ادارے مختلف ثقافتی علوم میں شراکت دار ہوں گے۔ ریاض یونیورسٹی آف آرٹس کا کیمپس مختلف شعبوں میں 13 کالجوں کی میزبانی کرے گا جن میں فلم، موسیقی، ثقافتی مینجمنٹ، ویژوئل آرٹس اور فوٹو گرافی، طباخی کا آرٹ اور ہیریٹِج سٹڈیز کے علاوہ دیگر علوم شامل ہیں۔
تعلیمی پروگرام پہلے تین کالجوں کے تحت شروع کیا جائے گا جن میں کالج آف تھیٹر اینڈ پرفارمنگ آرٹس، دی کالج آف میوزک اور دی کالج آف فلم ہوں گے۔ یہ تینوں کالج بین الاقوامی ثقافتی تعلیم کے اداروں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔یونیورسٹی، تعلیمی اسناد کی وسیع رینج پیش کرے گی جن میں ڈپلومہ، بیچلرز ڈگری، ماسٹرز ڈگری، پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ، پی ایچ ڈی اور مختصر کورسز ہوں گے۔
واضح رہے کہ اب سے کوئی ایک دہائی قبل سعودی عرب میں سینما تھیٹر کا وجود نہین تھا۔ لیکن آج مملکت میں سنکڑون سنیما گھر قائم ہیں۔



